بریکنگ نیوز

شہر دشنام

صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے دنیا بھرکو تحیر میں ڈال دیاہے انہوں نے سرعام کہہ دیا کہ امریکہ نے پاکستان کو ملین اور ملین ڈالر دہشت گردی کی روک تھام کے لئے دئیے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا بجائے پاکستان نے دہشت گردوں کو پناہ گاہیں دے رکھی ہیں۔ آگے چل کر کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر حملہ کریں گے کب؟ لیکن حملہ ضرور کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے بہت سے لوگ خوش بھی ہیں اور بہت سے ناخوش بھی۔ لوگ ناخوش اس لئے ہیں کہ پاکستان امریکہ کا قدیم اتحادی ہے۔ امریکہ اور پاکستان کا اتحاد ایک مدت سے چل رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ افغان اور روس جنگ کے دوران امریکہ نے پاکستان کی خاطر خواہ مدد کی۔
میں تو اس صبح درخشاں کو تونگر جانوں
جو میرے شہر سے کشکول گدائی لے لے
صدر امریکہ کے اس بیان کے بعد پاکستان نے چپ سادھ لی۔ ادھر چین کا بیان پاکستان کے حق میں آیا۔روس اور ترکی کے بیانات منظر عام پر آئے لیکن پاکستان کی خاموشی لوگوں کو ناگوار گزری۔ یہ بات قابل غور ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد شطرنج کے مہروں کی طرح ایک وزیر خارجہ تعینات کیا گیا لیکن بقول مخالفین وہ بھی ساکت رہا نہ جانے وہ کس وجہ سے خاموش رہا اور وزیراعظم بھی۔ بعدازاں اس خاموشی کا کفارہ بھرپور احتجاج سے ادا کر دیا گیا۔

شہر شیریں سخناں بن گیا شہر دشنام

وزیراعظم نے برسرعام کہہ دیا کہ ’’میں وزیراعظم ضرور ہوں۔ لیکن ہمارے وزیراعظم تو بدستور نواز شریف ہیں‘‘ دوسرے معنوں میں وہ نواز شریف کی کرسی پر براجمان ہیں لیکن ان کے پاؤں زمین کو نہیں چھو رہے۔ بات جب پارلیمنٹ کی کی جاتی ہے تو یار لوگ کہتے ہیں کہ سردار ایازصادق کی سربراہی میں پارلیمنٹ کی وہی حیثیت ہے جو پہلے تھی۔ اب سلسلہ بقول عمران خان یوں ہے کہ جب کوئی مسئلہ سر اٹھاتا ہے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھاگے بھاگے ’’جاتی امراء‘‘ کا رخ کرتے ہیں اور نور بصیرت لے کر آتے ہیں اور نواز شریف بدستور پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ اس بات کا جواب سب کے پاس ہے اور وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہم عرض کررہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ نے ملین اور ملین ڈالر پاکستان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لئے دئیے لیکن پاکستان بدستور دہشت گردوں کو پناہ گاہیں مہیا کررہا ہے۔

رونا تو اس بات کا ہے کہ نہ تو امریکہ پاکستان کو پہچانتا ہے اور نہ ہی پاکستان امریکہ کو۔ امریکہ دراصل ڈالر اور سینٹس (Dollar and Cents) کا ملک ہے اور اس پر روز روشن کی طرح اعتبار کرتے ہیں اور اس پر ہمیشہ نظر رکھتے ہیں وہ سرعام کہہ رے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو ملین اور ملین ڈالر دئیے لیکن پاکستان کی طرف سے امریکہ کو خاطر خواہ جواب نہیں مل رہا۔ ادھر پاکستان بیان بازی کررہا ہے کہ ہم نے ہزاروں فوجی جوانوں کی قربانی دی اور اس جنگ میں ملین اور ملین ڈالر اپنی جیب سے مٹائے۔ ہم پاکستان اور امریکہ دونوں کی بات مان لیتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ امریکہ ضیاء الحق کے زمانے میں پاکستان کو افغان‘ روس جنگ کے دوران اور اس کے بعد بھی مالی امداد دیتا رہا۔ جیسا کہ امریکہ ڈالر اور سینٹس کی معیشت ہے۔ تو کیا یہ لازم نہیں کہ امریکہ کا جواب بھی ان کی زبان میں دیا جائے؟ ہمارا میڈیا اور ہمارے ٹی وی اینکرز برملا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں جانی اور مالی نقصانات اٹھائے جو کہ درست ہے۔ لیکن امریکہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہم ٹی وی پر آکر دل کی بھڑاس نکال تو لیتے ہیں جس کی حیثیت ایک خبرسے زیادہ نہیں ہے۔

ہم نے مانا کہ وزیراعظم پاکستان نے صدر امریکہ کی بات کا جواب دینے کی ضرور سعی کی ہے۔ (دیر آید ہی سہی) لیکن دنیا کے گرد کن کن ممالک نے ان کی بات سنی۔ کیا ان کے دلائل یونائیٹڈ نیشن نے سنے اور ان کی بات کو کس قدر اہمیت دی گئی؟ امریکہ ڈالر اور سینٹس کی بات غور سے سنتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہماری گورنمنٹ اور اس کی ساری مشینری ان کی بات کو حقیقت بنا کر دنیا کو ثابت کرے کہ امریکہ نے پاکستان کو کس قدر رقم دہشت گردی کی روک تھام کے لئے دی اور پاکستان کے خزانے سے کس قدر رقم خرچ ہوئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ بھی ثابت کریں کہ پاکستان پر ٹھونسی گئی اس جنگ میں ہمارے کتنے شہیدوں کا لہو بھی شامل ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ پاکستان ایسا کرنے سے گریز کرے گا کیونکہ پاکستان کے لئے اس مالی امداد کی شفافیت کو تلاش کرنا جوئے شیر لانا ہے۔
برمزار ما غریباں نے چراغے نے گلے
نے پر پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے