بریکنگ نیوز
Home / کالم / کشمیر اور اقوام متحد ہ

کشمیر اور اقوام متحد ہ


بھارت کے زیرتسلط کشمیریوں نے وزیراعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ سے خطاب کو سراہا ہے جنہوں نے پورے عزم کیساتھ مسئلہ کشمیر اٹھاتے ہوئے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ ’’ایک طویل عرصے سے قربانیاں دینے والے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا ہوگا۔‘‘ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل عام کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کیلئے ’’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘‘ بھیجا جائے جو بھارتی فوج کی طرف سے معصوم کشمیریوں‘ خواتین اور بچوں پر مظالم کی تحقیقات کرے اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرے۔ وزیراعظم نوازشریف نے عالمی فورم پر افغانستان کیساتھ معاملات‘ راہداری‘ دہشت گردی اور ضرب عضب پر بھی پاکستان کا مافی الضمیر پیش کیا مگر اُنکی تقریر کا مرکزی نکتہ مسئلہ کشمیر‘ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت تھی۔ وزیراعظم اور اُن کے وفد میں شامل افراد کی سائڈ لائن پر سرگرمیاں بھی مسئلہ کشمیر کو بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے پر مرکوز رہیں۔ مظلوم کشمیریوں کی ترجمانی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے وہاں ملاقاتوں‘ اوآئی سی سمیت دیگر تنظیموں کے اجلاس سے خطاب کرکے کی۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ’’جنگ سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا‘ سیاسی اور سفارتی طریقے سے مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری قوت ہے‘ بھارت کسی قسم کی مہم جوئی کا سوچے گا تو اسے ناکامی ہوگی۔‘‘ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران پاکستان نے مسئلہ کشمیر پوری قوت سے اُٹھایا لیکن اُنہی لمحات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری تھے۔ ایک روز بھارت نے اوڑی چھاؤنی میں حملے کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی‘ دوسرے روز دس کشمیری نوجوانوں کو درانداز قرار دے کرقتل کر دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو جاری ہے‘ کشمیریوں کے پرامن مظاہروں پر فائرنگ کا سلسلہ رکنے میں نہیں آرہا۔

گزشتہ روز بھی ایک نوجوان کو اپنے خون میں نہا گیا جبکہ ایک سو گرفتار کرکے روایتی عقوبت خانوں میں پہنچا دیئے گئے۔ چورمچائے شور کے مصداق بھارت مقبوضہ کشمیر میں بربریت بند کرنے کے بجائے پاکستان کو دہشت گردوں کا حامی قرار دے کر اسے دنیا میں بدنام اور تنہاء کرنے کیلئے سفارتی سطح پر سرگرم ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے اوڑی حملہ کرنے والوں کے اسلحہ پر مبینہ مارکنگ اور دیگر پاکستانی اشیاء برآمد ہونے کا الزام لگا کر احتجاج کیا گیا جسے عبدالباسط نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ بھارت ڈرامے بند کرے۔ بھارتی ایجنسی نے اپنی حکومت کے جھوٹے دعوؤں اور الزامات کا یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ اسلحہ پر مارکنگ کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔پاکستان کے داخلی حالات سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں۔ ملک میں ایک سیاسی کھچڑی پکی ہوئی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے ایک دوسرے کے لئے عدم برداشت کے رویئے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں‘ تاہم اقوام متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر پر تمام سیاسی جماعتوں کا مثبت ردعمل سامنے آیاہے‘ جو کشمیرکاز پر قوم کے متحد ہونے کی علامت ہے۔

بلاشبہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن کا قیام ایک خواب رہے گا۔ وزیراعظم نوازشریف نے عالمی برادری پر اس مسئلہ کی اہمیت واضح کردی ہے لیکن اِس منزل پر ذمہ داری اور فرائض کا اختتام نہیں ہوتا۔ کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کی سفارتی میدان میں کوششوں سے مسئلہ کشمیر دنیا کے سامنے اجاگر اور بھارتی فورسز کے مظالم بے نقاب ہورہے ہیں۔ حریت پسندوں کی جدوجہد رنگ لارہی اورآزادی کی منزل قریب آرہی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف‘ ان کی ٹیم اور صدر آزاد کشمیر نے یواین اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر بھرپور طریقے سے اٹھایا لیکن یہ تسلسل برقرار رہنا چاہئے تاآنکہ کشمیریوں کو ان کا جائز حق مل جائے‘ حق استصواب مل جائے‘ آزادی کا حق مل جائے جو ہر قوم کا بنیادی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق ہے۔ اب بھارت کے ساتھ تجارت‘ تعلقات اور دوستی کی خواہش کا جواز نہیں رہا۔ پرانی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ بھارت کے لئے نرم گوشے کا شائبہ تک بھی نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ’کشمیر کاز‘ سے وابستگی قائم و دائم رکھنے اور کشمیریوں کی جدوجہد کی اَخلاقی حمایت و قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سفارتکاری کے محاذ پر بھی ہر وار اور حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔