بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / افغان صدرکی پیشکش

افغان صدرکی پیشکش

عید الاضحی کے موقع پر کابل کے صدارتی محل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان کو دو طرفہ مذاکرات کی پیشکش پر مبنی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی نئی افغان پالیسی کے اعلان کے ذریعے پاکستان کو کھلم کھلا دھمکیاں دے چکے ہیں اور پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کے عمل سے گزر رہاہے۔ افغان صدرکی جانب سے پاکستان کومذاکرات کی پیشکش کے متذکرہ بیان میں افغان صدر نے افغان طالبان کو بھی جاری مزاحمت ترک کرتے ہوئے قومی دھارے میں شا مل ہونے کی دعوت دی ہے جو بظاہر تو ایک مستحسن قدم ہے لیکن یہ پیشکش چونکہ پاکستان کو کی جانے والی مذاکرات کی پیشکش کی طرح پہلی دفعہ نہیں کی گئی بلکہ موجودہ افغان صدربرسر اقتدار آنے کے بعد سے چونکہ مسلسل اسطرح کی پیشکشوں کا اعادہ کرتے رہے ہیں اسلئے انکی جانب سے جب تک اس ضمن میں کوئی واضح اور عملی قدم نہیں اٹھایا جائیگا تب تک انکی یہ پیشکش محض ایک خواب اور سراب ہی رہے گایہاں اس امر کی جانب بھی اشارہ مناسب رہے گاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پچھلے کافی عرصے سے سرد مہری بلکہ تناؤ کی جاری کیفیت کے تناظر میں افغان صدر کا حالیہ بیان ا یسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ پچھلے چند دنوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرکاری سطح پر دو طرفہ رابطوں اور خاموش ڈپلومیسی میں کافی پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے‘ تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ہونے والے چار ملکی انسداد دہشت گردی اجلاس جس میں پاکستان، چین ، افغانستان اور تاجکستان کی مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی میں بھی پاکستان اور افغانستان کے آرمی چیفس نے دہشت گردی کے خاتمے کے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر اپنے افغان ہم منصب پر واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں مستقل قیام امن کا متمنی ہے اور اس ضمن میں ہروہ قدم اٹھانے پر تیار ہے جو اس کے بس میں ہوگا البتہ افغانستان کے اندر امن برقرار رکھنا بلاشبہ افغان حکومت اور افغان سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے۔ جنرل باجوہ نے افغان آرمی چیف سے افغان سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونیکی یقین دہانی بھی چاہی اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی اعتماد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اس تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ افغان حکومت کو اب آ ہستہ آہستہ یہ یقین ہو چلاہے کہ پاکستان کے تعاون اور اسکو اعتماد میں لیے بغیر نہ تو افغانستان میں قیام امن کی خواہش پوری ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے پاکستان کی نیت میں کوئی کھوٹ ہے کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت متعددمرتبہ اور مواقع پر افغان حکمرانوں کو یہ باور کرا چکی ہے کہ افغانستان میں امن واستحکام افغانستان کے ساتھ ساتھ خود پاکستان کے بھی وسیع ترمفاد میں ہے البتہ پاکستان کا یہ احساس یقینالائق توجہ ہے کہ افغان حکمرانوں کو اپنی اندرونی کمزوریوں کا الزام پاکستان یا کسی دوسرے ملک پر عائد کرنے کی بجائے خود اپنے گھر کے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے افغان مزاحمت کاروں کے ساتھ مفاہمت اور مذاکرات کاکوئی متبادل اور متوازن راستہ اپنانا چاہئے ۔

اسی طرح افغانستان کو امریکہ اور بھارت سمیت بعض دیگر غیر ملکی قوتوں پر انحصار کی بجائے زمین حقائق کا ادراک کرتے ہوئے نہ صر ف اپنی اندرونی صفوں کو درست اور منظم کرنا چاہئے بلکہ پاکستان جیسے دیرینہ‘ مخلص اور ہمدرد دوست کی مفاہمانہ کوششوں پر شک کی بجائے اسکی جانب حقیقی دوستی اور اعتماد کا ہاتھ بڑھانا چاہئے دراصل اسی اپروچ کے ساتھ دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات خوشگوار اور مستحکم بنیادوں پر استوار ہو سکتے ہیں جو یقیناًدونوں ممالک کے ساتھ ساتھ اس پورے خطے کے مشترکہ مفاد میں ہیں۔