بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / کرنے کاکام

کرنے کاکام

ایک سرکاری افسرکے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے دوران جب میں نے سوال کیا کہ ہمارے شہرپشاور میں صفائی کا مسئلہ کیوں حل نہیں ہو رہا ؟ تو ا نکا جواب یہ تھا کہ’’ جس دن ہمارے لوگوں نے یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ صفائی محض گھروں کے اندرون سے لیکر صدر دروازوں تک کے حصے کو صاف رکھنے کا نام نہیں اس دن سے ہمارے ہاں صفائی کی صورتحال بہتر ہونا شروع ہو جائیگی‘‘اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پشاور بلکہ ایک پشاور ہی کیا پورے ملک کے شہریوں کی اکثریت عملًاس نظریئے کی اسیر ہے کہ انکا ذمہ صفائی گھروں کی دہلیز تک ختم ہو جاتاہے اور اس سے آگے صفائی کے حوالے سے تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف سرکاری اداروں اورانکے اہلکاروں کی ہے‘اس نظرےئے کی بدولت صاف ستھرے گھرتو نظر آتے ہیں مگر صاف ستھرے شہرو دیہات دکھائی نہیں دے رہے ‘‘اگرچہ شہروں اور دیہات میں صفائی کی ناگفتہ بہ صورتحال مختلف النوع عوامل کا نتیجہ ہے اور ان تمام عوامل پر گفتگو ہوتی رہنی چاہئے تاہم مذکورہ سرکاری افسر کے استدلال سے جڑے نکات موضوع کی مناسبت سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں جنھیں سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیموں سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر تسلسل کے ساتھ زیر بحث لاتے رہنا بہت ضروری ہے‘اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا کے ان تمام شہروں میں جہاں مقامی باشندے سینی ٹیشن سروسز کی فراہمی کے ذمہ دار اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور کوڑا کرکٹ کے عدم پھیلاؤ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں ۔

صفائی کا معیار اطمینان بخش ہے جبکہ جہاں جہاں صفائی کے ذمہ دار اداروں کی کوتاہیاں اور مقامی آبادیوں کا عدم تعاون یہ دونوں عوامل یا ان میں سے کو ئی ایک بھی وجود رکھتا ہے وہاں صفائی کی صورتحال ناقص ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ صفائی کے ذمہ دار ادارے بھر پور کارگزاری دکھا کر بھی جزوی طور پر تو صفائی کی صورتحال بہتر بنا سکتے ہیں تاہم شہروں اور دیہات کومکمل طور پر صاف ستھرا رکھنے کیلئے اداروں اور عام عوام کاکل وقتی تعاون ناگزیر ہے۔ جہاں تک پشاور یا خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع کا تعلق ہے سرکاری ادارو ں کی کوتاہیوں سے ہٹ کر صفائی کی ناقص صورتحال کی بڑی وجہ غیر ذمہ دارانہ عوامی رویئے ہیں۔ گھروں کے اندر جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کا گلیوں میں یا گھروں سے کچھ فاصلے پر گندگی کے خود ساختہ ڈھیروں پر پھینک دیا جانا ایک عام روش ہے ‘اس کیساتھ ساتھ عام استعمال اور خوردونوش کی اشیاء کی باقیات کوانتہائی غیر ذمہ داری کے ساتھ ادھر ادھر گرا دینے کی لت بھی عام ہے‘ صوبے کے دیہی علاقوں کی بات تو رہنے دیں شہروں کے گلی محلوں ‘ بازاروں‘میدانوں ‘تفریح گاہوں‘سڑکوں وغیرہ سے گزرتے ہوئے بھی اگر گردوپیش پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے تو صاف دکھائی دے جاتا ہے کہ ان تمام مقامات پر جمع ہونیوالے کوڑا کرکٹ میں سب سے زیادہ حصہ کھانے پینے کی اُن اشیاء کی باقیات کا ہے جنھیں شہر کے لوگ گھروں سے باہر معمولات زندگی گزارنے کے دوران استعمال میں لاتے ہیں۔

چپس‘ آئس کریم‘ٹافیاں‘چاکلیٹس ‘ جوس ‘کولڈ ڈرنکس‘ فاسٹ فوڈآئٹمز‘ فروٹ وغیرہ ایسی اشیاء کی ایک لمبی فہرست ہے جن کو سپرد شکم کرنے کے بعد ہاتھ میں رہ جانے والے ریپرز‘ پیکٹس‘چھلکوں‘لفافوں اورپلاسٹک شاپنگ بیگز وغیرہ کو بے دردی سے ادھر ادھر اچھال دیا جاتا ہے سگریٹ کے ڈبے بھی اس فہرست میں شامل ہیں ۔ ظاہر ہے یہ تما م کچرا جو مناسب انداز میں ذمہ داری کے ساتھ ٹھکانے لگانے کے بجائے سر راہ پھینک دیا جاتا ہے صفائی کی مجموعی صورتحال کوابتر بناتاہے اب یا تو سینی ٹیشن کے ذمہ دار اداروں کے پاس عملہ صفائی اس قدر کثیر تعداد میں ہو کہ وہ عوام الناس کی غیر ذمہ داری کے نتیجے میں پھیلنے والے کچرے کو صبح شام سمیٹتا اور ٹھکانے لگاتا رہے تو بات بن سکتی ہے لیکن ظاہر ہے کسی بھی حکومت کے اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ بلدیاتی اداروں کو اتنی بڑی تعداد میں خاکرو ب فراہم کرے ‘ تو پھر مسئلے کا حل یہی رہ جاتا ہے کہ اہل وطن غیر ذمہ دارانہ رویئے کی اصلاح پرتوجہ دیں‘ تمام ذی شعور خواتین وحضرات اپنے آپ سے عہد کریں کہ وہ کسی بھی قسم کی گندگی یا کوڑا کرکٹ کے پھیلانے کا باعث بننے کے بجائے اسے مناسب انداز میں ٹھکانے لگانے کی روش اپنائیں گے ‘ اس کیساتھ ساتھ ہر بڑے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے چھوٹوں کوکوڑا کرکٹ مناسب انداز میں ٹھکا نے لگانے کی تربیت دے۔