بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / افغانستان میں بھارت کا کردار

افغانستان میں بھارت کا کردار

امریکہ کیساتھ دوستی کا اختتام پاکستان کیلئے زیادہ خطرناک ثابت نہ ہوتا اگر بھارت اسکی جگہ لینے کیلئے تیار نہ ہوتااب تک اسلام آباد کے حکمرانوں نے واشنگٹن کیساتھ جنگ دہشت گردی میں جتنا تعاون بھی کیااسکی ایک وجہ بھارت کو افغانستان سے دور رکھنا تھا اب صدر ٹرمپ نے نئی دہلی کو افغانستان میں مزید سرمایہ کاری کی کھلی پیشکش کر کے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ بھارتی حکمران یہ تعاون کرنے میں کس حد تک جا سکتے ہیں امریکی صدر نے اگر چہ کہ اپنی اکیس اگست کی تقریرمیں انڈیا سے فوجی تعاون کی درخواست نہیں کی مگر اس پیشرفت کو کیا خارج از امکان قرار دیا جا سکتا ہے بھارت کو اگر ایسی کوئی پیشکش کی جاتی ہے تو کیا وہ اسے قبول کر لے گا اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس صورت میں پاکستان کا رد عمل کیا ہو گا یہ وہ سوالات ہیں جن پر جنوبی ایشیا کے معاملات کے ماہرین اظہار خیال کر رہے ہیں صدر ٹرمپ کی تقریر میں اس تلخ حقیقت کا اعتراف موجود ہے کہ افغان جنگ طویل عرصے تک جاری رہے گی امریکی صدر نے جنگی پالیسی کے اس رسمی اظہار میں اپنی حکمت عملی کا ایک مبہم ساخاکہ پیش کیا ہے اب خارجہ امور کے ماہرین اس دھندلی تصویر کے خدو خال اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسلام آباد‘نئی دہلی اور واشنگٹن میں جنوبی ایشیا کے ماہرین کے تبصرے کتنے درست اور غیر جانبدارانہ ہیں اسکا فیصلہ ہر کسی کے اپنے فکرو نظر کا معاملہ ہے میں ان دانشوروں کی حکمت کاری ‘جانکاری اور گرہ کشائی بغیرکسی ردو بدل کے پیش کر رہا ہوں یہ صدر امریکہ کی بیان کردہ افغان پالیسی کو Deconstruct کرنے یعنی اسکی رد تشکیل کا عمل ہے۔

جناب Ashley Tellis جو ایک سابق امریکی سفارتکار ہیں اور آجکلCarnegie Endowment For International Peace نامی تھنک ٹینک میں جنوبی ایشیا کے تزویراتی معاملات کے ریسرچ سیل کے چیئرمین ہیں نے کہا ہے کہ ’’ صدر ٹرمپ کی تقریر میں اہم بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے پر آمادہ ہے صرف اس ایک وضاحت نے اس ابہام کو دور کر دیا ہے جو آج تک موجود تھااس فیصلے میں ایسی Strategic Clarity (تزویراتی وضاحت) ہے جوایک راستے کی نشاندہی کرتی ہے‘‘ Ashley Tellis نے کہا ہے ’’ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم میں افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی کی بات کی تھی مگر اب اس نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہاں سے نکلنا آسان نہیں اور وہاں موجود رہنے کا مقدمہ بڑا مضبوط ہے‘‘ پاکستان کے بارے میں سابق سفارتکار نے کہا ہے کہ ’’اسکا طرز عمل Perfidious یعنی دروغ گوئی اور حلف شکنی کا ہے اور صدر ٹرمپ نے انڈیا کو افغانستان کی اقتصادی امداد میں اضافے کا اشارہ دیکر اچھا کیا ہے مگر جس بات کی صدر ٹرمپ نے وضاحت نہیں کی وہ یہ ہے کہ اس جنگ میں فتح کا تصور کیا ہے اگر فتح کا مطلب طالبان کی مکمل شکست ہے تو مجھے خدشہ ہے کہ یہ مقصد حاصل نہ ہو سکے گا‘‘ ایشلے ٹیلس کی رائے میں’’ فتح حاصل کرنے کیلئے ٹرمپ کو بڑی تعداد میں فوج بھیجنا پڑے گی اور زیادہ وسائل استعمال کرنا پڑیں گے‘ اسکے بعد بھی فتح حاصل کرنا آسان نہ ہو گا۔

اس جنگ میں کامیابی صرف ا س صورت میں حاصل کی جا سکتی ہے کہ افغان نیشنل آرمی میدان میں اپنے قدم جما لے اور امریکی معاونت کے بغیر بھی طالبان کا راستہ روک لے فتح حاصل کرنے کیلئے دوسری اہم بات پاکستان میں چھپے ہوئے طالبان شوریٰ کے اراکین کا صفایا ہے‘ تیسری بات یہ کہ جنوبی ایشیا کی بڑی طاقتوں کے تعاون کے بغیر اس جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں‘‘ ایشلے ٹیلس سے پوچھا گیا کہ صدر ٹرمپ اپنے پالیسی بیان پر عمل کرنے میں کس حد تک جائیں گے کیا وہ اپنے ووٹروں کے دباؤ میں آ کر راستہ بدل تو نہ لیں گے اسکے جواب میں ٹیلس نے کہا کہ اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی اسکی رائے میں افغانستان میں دوسرا اہم محاذ اس ملک کے اندر ایک قومی مکالمہ شروع کر کے لوگوں کی رائے معلوم کرنا ہے کہ وہ کس قسم کا سیاسی نظام چاہتے ہیں۔خارجہ امور کی ماہر Teresita Schaffer جو وائٹ ہاؤس میں نیشنل سکیورٹی کونسل کی ممبر رہنے کے علاوہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں بھی کام کرچکی ہیں نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بیان کردہ پالیسی کی اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے فوجوں کی واپسی کا وقت نہیں بتایا اسطرح سے اب اس جنگ میں امریکہ حالات کے مطابق اپنا کردار ادا کر سکتا ہے مس شیفر نے صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی میں نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس میں الجھن کی بات پاکستان کے بارے میں استعمال کئے گئے الفاظ ہیں ٹیریسیٹا شیفر نے کہا ہے He made a very high profile broadside against Pakistan یعنی اس نے پاکستان کے بارے میں نہایت زور دار زبانی یورش کی ہے۔

ٹرمپ کی تقریر میں پاکستان کے بارے میں استعمال کئے گئے غلط لب ولہجے کے بارے میں مس شیفر نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان ‘ تہذیب‘ امن اور نظم و ضبط کے ساتھ اپنی وابستگی کا ثبوت پیش کرے خاتون محقق نے کہا کہ انہیں اور دوسرے کئی لوگوں کو توقع تھی کہ ٹرمپ پاکستان کے بارے میں سخت رویہ اختیار کریں گے مگر اس قسم کی شدید مذمت کی انہیں توقع نہ تھی اسکا منفی رد عمل ہو گا To condemn Paksitan in this publicly brutal fashion is likely to backfire مس شیفر کی رائے میں اب پاکستان کے پاس امریکہ کیساتھ تعاون کرنے کی کوئی دلیل باقی نہیں رہی یہ صورتحال افغان جنگ میں امریکہ کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے ٹیریسیٹا شیفر نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب چین پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے امریکہ اس کی امداد بند کر کے اسے زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتاصدر ٹرمپ کے انڈیا کو افغانستان میں مزید سرمایہ کاری کے مشورے پر تنقید کرتے ہوئے مس شیفر نے کہا کہ اسکے اچھے نتائج اسلئے برآمد نہ ہوں گے کہ پاکستان اسے اپنے خلاف مخاصمت سمجھے گا خاتون تجزیہ کار کی رائے میں اس جنگ کا تصفیہ پاکستان ‘ انڈیا اور دیگر علاقائی طاقتوں کی باہمی مشاورت سے ہی ہو گا ( پاکستان اور انڈیا کے ماہرین کی آراء آئندہ کالم میں پیش کی جائیں گی)۔