بریکنگ نیوز
Home / کالم / سدباب ضروری ہے

سدباب ضروری ہے

سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس اے ڈی خواجہ کو سندھ ہائی کورٹ نے بحال کر دیا ہے جو یقیناًسندھ حکومت کے منہ پر ایک زناٹے دارطمانچے کے مترادف ہے عوام نے اور تمام پولیس فورس نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سراہا ہے سندھ کی حکومت کے اکثر وزراء آئی جی سندھ سے اس لئے تنگ تھے کہ وہ ان کی غیر قانونی اور غلط بات کو بالکل نہیں مانتے تھے ان کی آئی جی بننے سے پہلے سندھ میں پولیس کے اندر نچلی سطح پر اکثر بھرتیاں یا سفارشی بنیادوں پر ہوتی تھیں اور یا پھر نوکریاں بکا کرتی تھیں اور یہی وجہ ہے کہ سندھ پولیس کی کارکردگی صفر ہے خواجہ صاحب نے پولیس کی بھرتیوں کے نظام میں جب میرٹ لانے کی کوشش کی تو یہ بات وہاں کے حکومتی کارندوں پر گراں گزری اورانہیں ان کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی وہ عدالت عالیہ گئے جہاں سے اب ان کو انصاف مل گیا ہے گو اب بھی سندھ حکومت کے ارادے ان کے بارے میں ٹھیک نہیں اور وہ سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کیخلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل کرنے جا رہی ہے چلئے اپیل میں جانا اس کا حق بنتا ہے لیکن اب جبکہ ہائی کورٹ نے خواجہ صاحب کو مکمل اختیارات کیساتھ بحال کر دیا ہے تو اب قوم کی نظر ان پر ہو گی کہ کیا وہ سندھ حکومت کے کرپٹ اہلکاروں جن میں بیورو کریٹس بھی شامل ہیں اور سیاستدان بھی ان پر مضبوط ہاتھ ڈالیں گے جو کراچی میں دندناتے پھر رہے ہیں اور کسی کی مجال نہیں کہ ان کو گرفتار کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کرے آئندہ چند روز خواجہ صاحب کیلئے امتحان کے دن ہیں ۔

کراچی کے امن عامہ کے حالات ابھی تک درست نہیں ہوئے سندھ کے اندرونی علاقوں میں تو اب بھی وڈیروں کا راج ہے وہاں تو اب بھی ا ن کی مرضی کے بغیر کوئی پر نہیں مار سکتا اور نہ ہی اندرون سندھ سے میڈیا میں زیادہ خبریں آتی ہیں کراچی کے تعلیمی اداروں میں ہی نہیں بلکہ ملک کے تقریباً ہر صوبے کی درسگاہوں میں بھلے وہ سرکاری سیکٹر میں ہوں یہ نجی شعبے میں‘ تدریسی شعبہ میں اکثر ایسے اساتذہ پائے جاتے ہیں جو فرقہ واریت کی ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں جو اپنے لیکچرز کے دوران طلباء کے کچے اذہان میں انتہا پسند ی کا زہر گھولتے رہتے ہیں یہ بڑا خطرناک رجحان ہے اور اس کا سدباب ضروری ہے کچے اذہان کو باآسانی گمراہ کیا جا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خود کش بمباروں کی اوسط عمر 15 سے19 سال تک بتاتی جاتی ہے جسے عرف عام میں ٹین ایج کہا جاتا ہے اس عمر میں جتنا دل کام کرتا ہے اتنا دما غ کام نہیں کرتا خارجیوں کا بھی یہی وطیرہ تھا وہ اپنے آپ کے علاوہ کسی دوسرے مسلمان کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے تھے بے نظیر قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف پی پی پی اپیل تو کرنے جا رہی ہے لیکن واقفان حال کا کہنا ہے کہ جن دو سینئر پولیس افسروں کو عدالت سے قید کی سزا ملی ہے۔

ان کو تو پی پی پی کے دور حکومت میں ترقیاں ملی تھیں اور ان میں ایک صاحب کو توسابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے ضلع میں اہم ذمہ داری بھی سونپی تھی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زرداری صاحب نے بے نظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہ دے کر اس قتل کو ایک معمہ بنا دیا ہے اس طرح بے نظیر بھٹو کے باڈی گارڈ جسکا نام شہنشاہ تھا اس کا پھر قتل ہو جانا بھی ایک پراسرار واقعہ تھا پھر جائے وقوعہ کو قتل کے فوراً بعد دھودینا اور وہاں سے خون کے چھینٹے مٹا دینا بھی کئی سوالات اٹھاتاہے اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ زرداری صاحب اس ملک کے پانچ برس تک سیاہ و سفید کے مالک رہے انہوں نے اپنے دوراقتدار میں اپنی اہلیہ کے اس المناک قتل کی تحقیقات کیوں نہ کرائیں ؟