بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / ڈاکٹر اور مریض کا انتظار

ڈاکٹر اور مریض کا انتظار


دو سال قبل میری بیگم کو کینیڈا میں گھر کے سامنے فٹ پاتھ سے برف ہٹاتے ہوئے کمر میں درد ہوگیا ہمارے فیملی فزیشن ایک بزرگ ہندو ڈاکٹر ہیں جو عموماً جلد ہی معائنے کیلئے وقت دے دیتے ہیں لیکن اپنی مصروفیات کی بناء پر ہمیں ایک ہفتے کا وقت دیا اس دوران ہم نے پاکستان سے لائی ہوئی ادویات پر گزارہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے دیکھا تو نیوروسرجن کو بھجوایا لیکن کم از کم درد کی ادویات دے دیں۔ ہم نے مقامی نیوروسرجن کا پتہ کیا تو وہ ایک دوست کے دوست نکلے ۔ ان سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کی معمول کی اپوائنٹمنٹ تو تین ہفتے سے قبل ممکن نہیں لیکن ہفتے کے دن چھٹی کے باوجود وہ ہسپتال میں متوقع تھے۔ ہمیں چانس دیا کہ اگر ہم جاسکتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ معائنے کیلئے وقت نکال سکیں۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ تین گھنٹے انتظار کے بعد ان سے ملاقات ہوئی ۔ انہوں نے نہ صرف معائنہ کیا بلکہ ایم آر آئی تجویز کیا۔ساتھ ہی کچھ ادویات بھی لکھ دیں۔ ہم نے ایم آر آئی کیلئے ریڈیالوجی میں ایمر جنسی کے طور پر فارم جمع کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ خط کے ذریعے تاریخ بھیج دیں گے۔ اگلے تین دن میں انکا خط ملا جس میں ہماری باری تین ماہ کے بعد آنی تھی۔ قصہ مختصر کہ اس دوران ہماری واپسی ہوئی اور پشاور آکر دوسرے ہی دن ایم آر آئی کروالی۔

یہ پرانی بات آج یوں یاد آئی کہ ہسپتال میں ایک دیرینہ کرم فرما سے ملاقات ہوئی۔ وہ میرے کالموں کو باقاعدہ پڑھتے ہیں۔ انہوں نے مجھے تجویز دی کہ ڈاکٹروں کے اوقات ملاقات کی پابندی کے بارے میں ضرور لکھوں کیونکہ بہت سارے لوگ اپنے ضروری کام چھوڑ کر اس امید پر آتے ہیں کہ گھنٹہ دو میں ڈاکٹر سے فارغ ہوجائیں گے اور یوں اپنے کام پر واپس چلے جائیں گے۔ میں نے ان کو ڈاکٹروں کے کام کے بارے میں بتایا کہ نہ صرف معائنہ بلکہ آپریشن وغیرہ بھی اتنے غیر متوقع ہوتے ہیں کہ وہ کسی سے بھی ایک مقررہ وقت کا وعدہ نہیں کرسکتے اور یہ صورتحال پوری دنیا میں ہے۔برطانوی محکمہ صحت نے بڑے پیسے خرچ کرکے ڈاکٹروں سے تقاضا کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ دو گھنٹوں کے اندر اندر مریض کو دیکھ لیا کریں لیکن بہت کم ہسپتالوں میں اب تک یہ ہدف سو فیصد حد تک حاصل ہوسکا۔ اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹروں کو اپنے اوقات ملاقات اس طریقے سے دینے چاہئیں کہ مریضوں کو کم از کم انتظار کی زحمت اٹھانا پڑے۔

اس سلسلے میں ضروری کوشش اپنے اپنے اسسٹنٹ یا سیکرٹری کو مریضوں کے معائنے کا نظام سمجھا نے کی ضرورت ہے۔ جب تک ڈاکٹر اور اسکا اسسٹنٹ ایک صفحے پر نہ ہوں ، مریضوں کے اوقات میں ہمیشہ کنفیوژن قائم رہیگی ‘بعض اوقات مریض اپنے ضروری کاغذات ساتھ لے کر نہیں جاتے۔ بعض مریض اپنے کاغذات ایک پلاسٹک کی تھیلی میں بلا ترتیب کے ٹھونس دیتے ہیں اور ڈاکٹر کے پاس جاتے ہی میز پر دھر دیتے ہیں۔ ان سے معلومات نکالنا نہ صر ف وقت طلب کام ہے بلکہ کافی تھکانے والا بھی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ جس مریض کا مرض لمبا ہو، زیادہ مرض ہو یا زیادہ علاج کرواچکا ہو تو اپنے رجسٹراراور سیکرٹری کے حوالے کردیتا ہوں کہ مریض کا ایک مختصر مگر جامع خلاصہ لکھ کر پرنٹ کردیں۔ یوں اسکی ایک کاپی ہمارے پاس بھی رہ جاتی ہے اور مریض بھی ایک کاپی حاصل کرلیتا ہے۔ اگلے ڈاکٹر کے پاس جانے پر ساری کہانی دہرانے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ آپ میرے پاس نہ بھی آتے ہوں لیکن کسی ڈاکٹر دوست سے کہہ کر آپ اپنے علاج معالجے کی پوری داستان کا خلاصہ لکھواسکتے ہیں۔ دواؤں کی فہرست بنواسکتے ہیں۔ اپنی اپنی الرجی اور ویکسی نیشن کے بارے میں لکھ سکتے ہیں۔ یوں آپکے ڈاکٹر کو نہ صرف سہولت ہوگی بلکہ آپکی تشخیص اور علاج میں بھی آسانی ہوگی۔ اگر آپ پہلے سے کسی اور ڈاکٹر یا مرض کی دوا کھارہے ہیں تو ہوسکتاہے کہ ان میں سے دو چار ادویات مشابہہ نکل آئیں اور یوں ایک ہی دوا دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے زیر استعمال ادویات کیساتھ دوسری دوائیں ری ایکشن کریں تو ڈاکٹر کو پہلے سے یہ معلومات ہونی چاہئیں۔مریضوں کی طرف سے یہ سہولت ملے تو اس مریض پر کم وقت لگنے کا امکان ہے ۔ اسکا فائدہ اس کے بعد والے مریض کو ملے گا جو وقت سے پہلے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ یوں یہ ڈاکٹر کی طرف سے نہیں بلکہ مریضوں کا آپس میں ایک دوسرے پر احسان ہوگا۔ مجھے علم ہے کہ ڈاکٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جتنی بے ایمانی معاشرے میں ہے اور جتنا جھوٹ بولا جاتا ہے اسی تناسب سے ڈاکٹر بھی متاثر ہیں۔ کئی ڈاکٹر لیبارٹریوں سے حصہ لیتے ہیں اور اس لئے غیر ضروری ٹیسٹ لکھتے ہیں۔ غیر ضروری ادویات تجویز کرتے ہیں۔ بعض اوقات ضرورت نہ ہوتے ہوئے بھی آپریشن کردیتے ہیں ان سب سے بچنے کیلئے آپ کو ایک ایسے ایماندار جی پی کی ضرورت ہے جو آپ کو مختلف سپیشلسٹوں کے پاس بھجواسکے اور ایک جی پی سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ کونسا سپیشلسٹ اپنے پیشے کے ساتھ دیانتدار ہے کہ نہیں۔ مریض کے ساتھ انصاف کرسکتا ہے کہ نہیں۔ ایک اچھا جی پی جو آپ کی دوائیوں کی فہرست دیکھ کریہ معلوم کرسکے کہ آپ کی کون کون سی دوائیں ایک دوسرے کیساتھ ری ایکشن کرسکتی ہیں ۔

ایک اچھا فیملی فزیشن یا جی پی ، کسی سپیشلسٹ کے پاس بھجوانے سے قبل مناسب ٹیسٹ بھی پہلے سے کرواسکتا ہے جس سے سپیشلسٹ کے کلینک میں آپ کا لگنے والا وقت اور کم ہوجاتا ہے۔ تاہم اس بات کاخیال رکھیں کہ یہ ٹیسٹ انہی لیبارٹریوں سے کروائے جائیں جو سپیشلسٹ کے خیال میں قابلِ اعتماد ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جب سے ڈرگ ریگولیشن صوبوں کے پاس آئی ہے، دواؤں کے معیار اور ان کے ذرائع پر کوئی کنٹرول نہیں رہا۔ مجھے ان میڈیکل ریپس پر ترس آتا ہے جو حکیمی یا ہربل میڈیسن کا لٹریچر لے کر میرے پاس آتے ہیں۔میں کوشش کرتا ہوں کہ ان کو سمجھاؤں کہ ایلوپیتھک ادویات میں ان ہربل میڈیسن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان ادویات میں بہت سے ایسے اجزاء شامل ہوتے ہیں ، جن کا نہ لٹریچر میں ذکر ہوتا ہے اور نہ ان کے سائیڈ ایفیکٹس معلوم ہوتے ہیں۔ مزید خطرہ یہ ہے کہ چونکہ ان جڑی بوٹیوں سے اجزاء الگ کر کے اور وزن کے حساب سے شامل نہیں ہوتے اسلئے ان کے اثر پر کنٹرول ہر گز نہیں ہوتا۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ جو بھی ڈاکٹر آپ کو حکیمی ادویات لکھے وہ ادویات نہ استعمال کریں۔