بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / پاک افغان رابطے

پاک افغان رابطے


افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے بیان کے جواب میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اپنے افغان ہم منصب کو ٹیلی فون کرکے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا اظہار کیا ہے۔دونوں ممالک کے ما بین اعلیٰ سطح پر لگ بھگ ایک سال کے وقفے کے بعد رابطوں کی بحالی کی جتنی بھی حمایت اور ستائش کی جائے کم ہے۔دونوں ممالک کو امن و امان‘دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔چند روز قبل ایک ذاتی کام کے سلسلہ میں کابل جانے کا اتفاق ہوا۔اس دوران دوستوں اور بہی خواہوں کے علاوہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور دیگر کئی ایک اعلیٰ عہدوں پر فی الوقت برا جماں عہدیداروں سے بھی ملاقات ہوئی اور بات چیت کرنیکا موقع ملا۔یقین جانئے کہ ایک عام افغان شہری سے لے کر سابق صدر حامد کرزئی اور اعلیٰ عہدیداروں تک ہر ایک افغان باشندے کے دل میں پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کے لئے محبت ‘عزت واحترام کا وہی گوشہ اب تک موجود ہے جو چند سال قبل تک تھا۔ہر کوئی مصافحہ کے بعد یہی سوال کرتا کہ اب پشاور یا پاکستان کے دیگر شہروں کے حالات کیسے ہیں‘لوگ خوش ہوں گے کہ اب دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے اور ان چند جملوں کے بعد یہی لوگ نہ صرف دونوں ممالک میں قیام امن ‘تشدد ‘دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے دعاگو ہوتے بلکہ ان کی زبان پر صرف ایک ہی شکوہ ہوتا اور وہ ہے سرحدی پابندیوں کے بارے میں کیونکہ پاکستان کی حدود میں داخل ہونے کے بعد پاکستانی اہلکاروں کے ہاتھوں ان لوگوں کا جو حشر ہو رہا ہے وہ نا گفتہ بہ ہے اور زیادہ تر لوگ یہی جواز پیش کرتے ہیں کہ اس روےئے سے گلوخلاصی کے لئے وہ مجبور ہیں کہ علاج معالجے و خریداری‘ حصول تعلیم ودیگر ضروریات کے لئے ہندوستان جائیں۔

ان لوگوں کا یہ بھی اقرار ہے کہ ہندوستان میں ان کو بہت زیادہ مشکلات ہیں اور مالی اخراجات بھی زیادہ ہیں مگر وہاں کم ازکم ان کو کوئی حقارت سے نہیں دیکھتااس موقع پر افغان پارلیمان کے ایک ممبر نے دوران گفتگو واضح الفاظ میں کہا کہ امریکی حکومت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسیوں کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہویا تشدد کا خاتمہ ہو بلکہ اس کی نئی پالیسی کا مقصد اس خطے میں امریکی اثر ورسوخ بڑھانا اور امریکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔اس قبائلی رہنما اور ممبر پارلیمنٹ نے واضح الفاظ میں کہاکہ اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پاکستان اور افغانستان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔لہٰذا دونوں ممالک کے حکمرانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بے اعتمادی کی فضا کے خاتمے کے لئے نہ صرف فوری اقدامات اٹھائیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے ایک دوسرے کے خلاف شکوک وشبہات کو بھی ختم کریں۔اس مقصد کے لئے اس افغان رہنما نے پاک افغان سرحد کے دونوں جانب آباد پختون رہنماؤں کو کو کردار ادا کرنے کے مواقعے فراہم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کے زیادہ تر لوگ جنہوں نے 80کی دہائی میں سابق سوویت یونین افواج کی افغانستان پر چڑھائی کا خیر مقدم کیا تھایامذمت کی تھی اس بات پر متفق ہیں کہ عالمی قوتوں نے مخصوص منصوبہ بندی کے تحت افغانستان کو میدان جنگ میں تبدیل کیااور اس مقصد کیلئے ان کے یعنی افغان عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ۔القاعدہ اور تحریک طالبان کے بعد اب داعش کو بھی اسی عالمی منصوبہ بندی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغان عوام کی اکثریت اب جنگ و جدل وخونریزی اور آپس کے اختلافات سے عاجز حتیٰ کہ تنگ �آچکی ہے مگر ان عالمی قوتوں نے جاسوس اداروں کے ذریعے افغان معاشرے کو ایک ایسے انداز میں یرغمال بنا رکھا ہے کہ کوئی بھی اپنی ذاتی یا گروہی سطح پر اس عالمی منصوبہ بندی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے یا مزاحمت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔موجودہ حالات کے تناظر میں صرف اقتدار پر براجماں حکمران دونوں ممالک کے عوام کی امنگوں کو پورا کر سکتے ہیں۔