بریکنگ نیوز
Home / کالم / قومی سلامتی کے تقاضے!

قومی سلامتی کے تقاضے!


اگر آپ زیادہ عرصہ حقیقت سے چھپتے پھریں گے تو ایک دن ایسے مقام پر آ پہنچیں گے کہ جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں مل پائے گا۔ پاکستان کے ساتھ بھی شاید کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے‘ جہاں چوتھائی صدی سے زیادہ عرصے سے ہماری ریاست ایک حقیقت کے ہاتھوں تقریباً یرغمال بنی رہی لیکن ہم دنیا کے ہر فورم پر اس حقیقت سے انکار کرتے آئے ہیں۔وہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے اندر‘ ریاستی پالیسی کے تحت ایسے عسکریت پسند گروہوں کی پرورش‘ تربیت‘ مدد اور آبادکاری کی جاتی رہی ہے تاکہ انہیں خفیہ جغرافیائی سیاسی کھیل میں اثاثوں کے طور پر استعمال کیا جاسکے‘ وہی کھیل جسے ہم اس خطے میں کھیلنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ یہ تاریخ کافی بار ملک کے اندر اور باہر سنائی جاتی رہی ہے اور ان گروہوں اور ان کے بڑے بڑے سماجی حلقوں کو حاصل ریاستی سرپرستی کا ثبوت تو اب اس حد تک واضح ہے کہ اس سے انکار کرنا جان بوجھ کر پاگل پن ہوگا۔ آخر ان لوگوں کو کس طرح سمجھایا جائے جو آج تک اس حقیقت سے بے خبر رہے ہیں؟

برسوں سے اس بات کو درست قرار دینے یا پھر اسے کوئی مسئلہ نہ گرادننے کے لئے ہمیں کئی منطقیں سننے کو ملیں۔اب جبکہ برکس ممالک نے پاکستان میں تین خاص گروہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے دہشت گرد قرار دیا ہے تو یوں انہوں نے صرف وہی بات دہرائی ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تقریباً پندرہ برس پہلے ہی کہہ چکی تھی پھر بھی ایک منطق یا میٹھے جواز کے طور پر سامنے سے یہ جملہ آ جاتا ہے کہ ’’یہ گروہ پاکستان میں پہلے سے ہی کالعدم ہیں‘‘ جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ گروہ نہ صرف ملک میں موجود ہیں بلکہ آزادی کیساتھ کام کرتے ہیں‘ معاشرے میں اپنے نظریات پھیلاتے ہیں‘ بڑی بڑی انتقامی کاروائیاں سرانجام دیتے ہیں اور کچھ مواقعوں پر تو نیک نیت سیاسی جماعتوں کی صورت میں معاشرے کے مرکزی دھارے میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ایسی پابندی کا مطلب ہی کیا ہے کہ جس میں ایسے گروہ نام بدل کر اپنا معمول کا کام جاری رکھتے ہوں؟اس صورتحال پرجو ممالک احتجاج کر رہے ہیں وہ ہمارے خلاف متعصب رویہ رکھتے ہیں اور انہیں اتحادیوں سے زیادہ دشمن سمجھنا چاہئے لیکن اب تو ان ممالک میں چین بھی شامل ہو گیا ہے جبکہ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ یہ ملک اس موقع پر ہم پر انگلی اٹھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا۔

چین کے ساتھ سی پیک بھی تو جڑا ہے‘ جو کہ مستقبل میں ہمارے لئے ترقی کی راہ ہموار کریگا‘ وہ ترقی جس کے خواب ہم نسل در نسل دیکھتے آئے ہیں‘ وہ اپنی ذہنی صلاحیت یا سخت محنت کے بجائے‘ بڑے بھیا کے ہاتھوں حاصل کر رہے ہیں۔ خیر اب تو چین بھی پاکستان میں انتہاء پسند گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کرنیوالے ممالک کی صف میں کھڑا ہو گیا ہے۔ اپنا مؤقف مضبوط بنانے کیلئے برکس ممالک نے جامع انداز میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نکتہ بھی پیش کیا‘ جس میں انتہاء پسندانہ نظریات کی مخالفت‘ دہشت گرد جنگجوؤں کی نقل و حرکت اور ان کی بھرتی کو روکنا‘ ان کے مالی وسائل کا قلع قمع اور بہت کچھ شامل ہے۔ یہ ایک طویل فہرست ہے اور نوٹ کیجئے کہ برکس اعلامیہ میں جو باتیں موجود ہے وہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کی گئی ہیں اور ایک عرصے سے دنیا کی اہم طاقتیں جو آواز اٹھا رہی ہیں‘ اسی میں ایک اضافہ ہے۔ اگر کسی نے یہ سوچا تھا کہ عالمی منظرنامے پر چین کے ابھرنے اور ہمارے پڑوس میں اس کے بڑھتے ہوئے مفادات اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دینے کی اس کی پالیسی کی وجہ سے ہمیں بالآخر اپنا گریٹ گیم کھیلنے کی کھلی آزادی مل گئی ہے‘ ۔

تو اسے ایک زبردست جھٹکے کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔ ایسا شخص جو ابھی تک الفاظ کو توڑ مروڑ رہا ہو تاکہ ان کا مطلب حقیقی کی بجائے کچھ اور پیش کیا جائے‘ اسی شخص کی طرح ہے جس نے اپنی زندگی اس قدر جھوٹ میں گزاری ہے کہ وہ اب سچائی کا راستہ ڈھونڈنے میں ناکام ہے۔ اعلامیے میں جو کچھ بھی ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ برکس ممالک‘ جس میں روس اور چین بھی شامل ہیں یورپی و امریکی ورلڈ آرڈر کے مرتب کردہ معیار کا کوئی متبادل پیش نہیں کریں گے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کو سوات اور شمالی اور جنوبی وزیرستان سے باہر نکال دیا گیا ہے اور اس راہ میں جو قربانیاں پاکستان کے فوجی جوانوں نے دی ہیں وہ قابل تعریف اور قابل تحسین ہیں۔ جی ہاں‘ سکیورٹی کی صورتحال گزشتہ دہائی کے مقابلے میں بہتر ہے البتہ ہمیں ابھی بھی کئی جگہوں پر کامیابی حاصل کرنا باقی ہے (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: خرم زمان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)