بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹااصلاحات پر پیش رفت

فاٹااصلاحات پر پیش رفت


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے خصوصی اجلاس میں فاٹا اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ نئے انتظامی ڈھانچے تک چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے کی منظوری دی گئی ٗاجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں پولیس اور ایف سی کی تعیناتی کے لئے بھرتی و تربیت کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں فاٹا ریفارمز کے لئے قانون سازی تیز کرنے کا حکم بھی دیا گیا ٗ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمیٹی کو قبائلی علاقوں میں حکومتی عمل داری کے حوالے سے ہونے والی کامیابیوں کیساتھ سکیورٹی اور بارڈر انفراسٹرکچر کو تقویت دینے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ترقیاتی کاوشوں سے متعلق آگاہ کیا۔ وفاقی کابینہ نے فاٹا اصلاحات سے متعلق مسودے کی منظوری اس سال 2مارچ کو دی تھی ان اصلاحات کے لئے ٹائم فریم پہلے ہی کافی طویل تھا۔

جس پر ہر جانب سے سوال اٹھتے رہے بعد ازاں اس طویل مدتی منصوبے پر بھی کام کی رفتار سست روی کا شکار رہی جس پر خیبر پختونخوا حکومت نے بھی جو سارے عمل میں اہم سٹیک ہولڈر ہے اپنے خدشات ظاہر کئے وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس دیر آید درست آید کے مصداق قابل اطمینان ہے تاہم اس بات کی ضرورت اپنی جگہ ہے کہ اصلاحات کے عمل میں سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر بڑھنے کے لئے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے اور متعلقہ ذمہ دار اداروں کو ہوم ورک مکمل کرنے کا پابند بنایا جائے ٗہمارے ہاں دستور میں ترمیم کے بعد بعض اداروں کا کنٹرول وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونا ہے یہ کام ایک طویل عرصے سے یکسو نہیں ہو پا رہا جس کی وجہ ہوم ورک کا نہ ہونا ہے تحریک انصاف کے سربراہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کے پوری طرح اپنی روح کے مطابق آپریشنل نہ ہونے کا ذکر کرتے ہیں اس میں بھی پہلے سے تیاریاں نہ ہونے کا عنصر شامل ہے فاٹا اصلاحات کے کیس میں یہ غلطی نہیں دہرائی جانی چاہئے وفاق اور خیبر پختونخوا کو اس ضمن میں تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی انتظامات کا پابند بنانا ہوگا۔

مرغی کا گوشت ٗپانی ٗدودھ؟

سینٹ کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کیلئے قائمہ کمیٹی نے مرغی کے گوشت ٗپانی اور دودھ کے معیار پر تشویش کا اظہار کیا ہے کمیٹی کے اجلاس کو بتایا گیا کہ مرغیوں کا وزن بڑھانے کے لئے اینٹی بائیوٹک ادویات دینے کیساتھ انجکشن بھی لگائے جاتے ہیں پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ چائے کے لئے استعمال ہونے والا وائٹنر جانوروں کے لئے بھی مضر صحت ہے جو انسانوں کو پلایا جارہا ہے یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ 2002ء میں پینے کے پانی کی مانیٹرنگ کا آغاز ہوا اور80فیصد نمونے مضر صحت پائے گئے دیہات میں پانی زیادہ مضر نوٹ کیا گیا قاعدے کے مطابق کھلی اشیاء خوردونوش کا معیار جانچنا مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے جبکہ ہمارے مارکیٹ کنٹرول کا علیحدہ سے مؤثر سیٹ اپ ہے ہی نہیں اس لئے تمام تجاویز ناقابل عمل ہی رہیں گی مسئلے کا پائیدار حل یہ ہے کہ سینٹ کمیٹی خود وفاق اور صوبوں کو مجسٹریسی نظام کی فوری بحالی کا پابند بنانے کی سفارش کرے تاکہ معیار چیک ہوسکے یہ معاملہ سیاسی اور انتظامی نہیں انسانی صحت اور زندگی سے جڑا ہوا ہے جسے سنجیدہ لینا ہوگا۔