بریکنگ نیوز
Home / کالم / پرسکون خاموشی

پرسکون خاموشی


وہاں ایک پرسکون خاموشی بسیرا کرتی تھی…سکون کا ایک سبز سمندر گہری چپ میں تھا…فضا میں اگر ہلکا سا ارتعاش تھا تو اس ہوا کی سرسراہٹ کا جوگھنے درختوں میں سے نہایت دھیرج سے گزرتی تھی…سکون کے اس سرسبز جزیرے میں پرندے بھی بہت مدہم سروں میں چہکتے تھے…نیویارک کے شورشرابے اور ٹریفک کے غل اور جدید زندگی کی بھاگ دوڑ جو ابھی میرے کانوں میں گونجتی تھی‘ یکدم موقوف ہوگئی وہ آوازیں اور بھنبھناہٹ جو پچھلے چند روز سے میرے بدن کو جنجھوڑتی تھیں وہ یکدم معطل ہوگئیں اور انکی جگہ ایک پرسکون کیفیت مجھ پر اتری مجھے عنایت کر دی گئی کہ تو اتنی دور سے یہاں آیا ہے نیو یارک اور فلاڈیلفیا کے دمکتے چمکتے امریکی زندگی کے مظاہر کو ترک کر کے چار گھنٹے کی طویل مسافت اپنے بیٹے سلجوق اور اہلیہ میمونہ کے ساتھ طے کر کے اگر اس آستانے پر حاضر ہوا ہے تو جا تجھے وقتی طورپر سکون خاموشی اورروحانی قربت کے احساس سے نوازا جاتا ہے… یہ باوا محی الدین کی آخری آرام گاہ تھی چیسٹر کاؤنٹی کی ایک بلند پہاڑی پر شمالی امریکہ کے صوفی بزرگ کا سادہ اور سفید مزار ہے… باوا نے کہا… ’’ اپنا اخلاق درست رکھو… خلق خدا سے محبت کرو تو خدا کے حسن کا عکس تمہارے چہرے کو بھی خوبصورت بنا دے گا تمہارے دل کو روشن کردیگا باوا محی الدین سری لنکا کے ایک پسماندہ گاؤں کے باسی تھے اور جو کوئی بھی ان کے پاس ہدایت کیلئے آتا تو اگر وہ نوجوان ہوتا تو اسے تلقین کرتے کہ سب سے پہلے علم حاصل کرو‘ کالج اوریونیورسٹی میں اپنا مقام پیدا کرو… علم حاصل کروگے تو اللہ کی ذات کی قربت نصیب ہوگی انکی زندگی بے حد سادہ تھی سفید لباس پہنتے‘ بچوں کے ساتھ کھیلتے‘ عبادت سے فارغ ہوتے تو اسم محمدؐ کی خطاطی کرتے…

بہت سے غیر ملکی بھی انکے حلقے میں شامل ہوگئے… انکے کچھ مریدوں نے انہیں لیکچرز کیلئے فلاڈلفیا مدعو کیا جہاں وہ اپنی مادری زبان تامل میں وعظ کرتے اور اسکا انگریزی ترجمہ کیا جاتا… وہ بہت پڑھے لکھے نہ تھے لیکن انکی زبان میں اورزندگی گزارنے کے طریقے میں کوئی ایسا اثر تھا کہ فلاڈلیفا کے امیر ترین یہودی خاندان ان سے متاثر ہو کر مسلمان ہوگئے… آج بھی انکے پیروکاروں کی اکثریت گورے امریکیوں کی ہے1980ء کے لگ بھگ جب انکی وفات ہوئی توانکے سابقہ یہودی مریدوں نے انکی آخری آرامگاہ کیلئے پوری پہاڑی خرید کر وقف کر دی… سرسبز میدان کے درمیان انکی ذاتی سادگی کا مظہر سفید رنگ کامزار ہے… ایک جانب لنگرخانہ ہے جہاں لوگ کوئی نہ کوئی خوراک ذاتی طورپر تیار کرکے لاتے ہیں لکڑی کی بنی ہوئی ایک سادہ سی مسجد گھنے درختوں میں روپوش ہے جہاں سے باقاعدگی سے اذان کی صدا بلند ہوتی ہے… بہت سے پھول جھومتے ہیں اور ایک مختصر کھیت میں سبزیاں اگائی جاتی ہیں مزار سے پرے گھنی گھاس میں پوشیدہ ان مریدوں کے کتبے ہیں جو یہاں دفن ہیں اور ان میں سے بھی بیشتر گورے مسلمان ہیں‘ پچھلے دنوں میری بہو رابعہ کے سگے چچا زلفی کا کینسر کے عارضے سے انتقال ہوا تو انکی خواہش کے مطابق انہیں بھی باوا کے قبرستان میں دفن کیا گیا… اس قبرستان میں قبروں کی ڈھیریاں نہیں ہیں تدفین کے بعد زمین ہموار کرکے اس میں ایک کتبہ نصب کردیا جاتا ہے…

مجھ میں تو کچھ شدت کا لگاؤ نہیں ہے لیکن سلجوق اپنے مذہبی فرائض میں بہت باقاعدہ ہے اور میں اسکی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا… بہت برس پیشتر میں سلجوق اور احمد داؤد اسلام آباد سے پشاور جا رہے تھے جہاں کسی جلسے میں مجھے مدعو کیا گیا تھا…سفر کے دوران ابھی این سی اے میں فن تعمیر کا طالب علم تھا…بعدازاں داؤد نے نہایت سنجیدگی سے کہا تارڑ تمہارے اس بیٹے کے اندر ایک صوفی کی روح ہے ‘میں نے داؤد کو سنجیدگی سے نہ لیا کہ وہ خود ایک غیر سنجیدہ روح تھا… بہرطور سلجوق جب کبھی یو این او کے سفارتی فرائض سے ذرا فارغ ہوتا ہے تو نیویارک سے فلاڈلفیا اور پھر وہاں سے چالیس میل کے فاصلے پر واقع باوا کے مزار پر جا کر وہاں کچھ وقت گزارتا ہے ا گرچہ میں اس سے پیشتر بھی باوا کے مزار پر آچکا تھا اور اس کا تفصیلی تذکرہ اپنے امریکی سفرناموں میں کرچکا ہوں لیکن اس بار بھی میرے دل میں ایک ہوک اٹھی… میں نے سلجوق سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ تو پہلے سے ہی تیار بیٹھا تھا… ہم مزار کے اندر داخل ہوئے تو لکڑی سے تراشیدہ قبر پر بچھا ہوا جو غلاف تھا اس پر باوا کی خطاطی کے نمونے کاڑھے ہوئے تھے…دو امریکی خواتین سرپردوپٹے اوڑھے مزار کی قربت میں بیٹھی تلاوت کر رہی تھیں… ہم نے بھی نوافل ادا کئے اور کچھ دیر مزار کے اندر جو خاموشی اور سکون تھا اس میں ڈوبے رہے… ایک گورا امریکی داخل ہوااور سرجھکا کر بیٹھ گیا‘ مجھے یاد ہے پچھلی بار میں نے باوا کے ایک سوئس مرید سے کچھ سوال جواب کئے کہ آخر اس شخص میں کونسی ایسی کشش تھی کہ آپ اسکے مرید ہو کر مسلمان ہوگئے تو وہ کہنے لگا… ایک تو اسکی خلق خدا سے محبت‘ بے لوث محبت تب ایک بوڑھی امریکی خاتون سے بھی ملاقات ہوئی جو چھٹی کے روز باوا کے سبزیوں کے کھیت کی دیکھ بھال کے لئے آجاتی ہے‘ کہنے لگیں’’ پورے خاندان میں صرف میں مسلمان ہوں… باوا نے مجھ سے اتنی محبت کی‘ اتنی شفقت سے پیش آتے تھے جو مجھے نہ ماں باپ سے اور نہ اولاد سے نصیب ہوئی… میں اکثر سفر کے دوران ٹرین یا بس میں کھڑی ہو کر مسافروں سے مخاطب ہو کر کہتی ہوں‘‘ میں اسلام کی پیروکار ہوں آپ کے پاس اگر کوئی سوال اسلام کے بارے میں ہو تو میں جواب دے سکتی ہوں‘ یہ دہشت گردوں کا نہیں‘ امن اور محبت کے پیروکاروں کا مذہب ہے‘‘