بریکنگ نیوز
Home / کالم / نازک موڑپرٹھوس پالیسی کی ضرورت

نازک موڑپرٹھوس پالیسی کی ضرورت

بڑی طاقتوں کے اصول اپنے ہی ہوتے ہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کب کسی کوسر پر بٹھا دیں اور کب کسی کوزمین پر پٹخ دیں۔امریکہ کی بے وفائیاں تو ہم شروع دن سے ہی دیکھتے آئے ہیں ۔ ہمیں امریکہ کی دوستی نے امریکہ کا ہی غلام بنا کر رکھ دیا تھا۔اُس نے نہ صرف ہمیں کھانے کو گندم دی بلکہ دفاع کے لئے سارا فوجی سامان بھی دیا۔ 1965 تک ہم اُسی کے ٹینک ۔ توپیں ،جہاز اور بندوقیں استعمال کر رہے تھے۔اس جنگی سامان پر ایک قدغن تھی کہ ہم اسے صرف کمیونسٹ ممالک کے خلاف استعمال کر سکتے تھے۔ جب ہندوستان نے ہم پر جنگ مسلط کی تو ہمارے پاس سارا اسلحہ امریکہ کا ہی تھا۔اور جب اسے ہندوستان کے خلاف استعمال کیا گیا تو امریکہ نے اعتراض کیا جس کے جواب میں ہماری حکومت نے کہا کہ اسلحہ ہمارا ہے اور ہم جس کے خلاف چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔ اس پر امریکہ نے عین جنگ کے دوران ہم پر اسلحے کی پابندی لگا دی۔یہ تو اللہ کی مدد تھی کہ ہمارے پاس اسلحے کے ختم ہونے سے قبل ہی جنگ بندی ہو گئی ورنہ خد جانے ہماری کیا حالت ہوتی۔ اسی پابندی نے ہماری قیادت کو یہ سوچنے پر مجبور کیاکہ اپنے دفاع کا ہمیں خود کو انتظام کرنا چاہئے۔اسی وجہ سے ہم سیٹوسینٹو سے نکلے اور دفاعی پیداوار بڑھانے کے لئے چین کی مدد سے اسلحے کے کارخانے ٹیکسلا میں لگائے گئے۔

روس کی مدد سے کراچی میں ایک بہت بڑی سٹیل مل لگائی جس کو ہماری نا عاقبت اندیشی نے تباہ کر دیا۔ان ممالک کی مدد سے ہم بہت سے معاملات میں خود کفیل ہوئے آج اللہ کے فضل سے ہم سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک اپنے ملک میں بنا رہے ہیں اور نہ صرف یہ بلکہ ہما ری کوالٹی کی وجہ سے ہمارا بہت سا دفاعی سازو سامان برآمد بھی ہو رہا ہے۔ آج ہم اللہ کے فضل سے ہوائی جہاز تک برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔مگر ایک با ت کہ جو ابھی تک ہمارے لئے تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے وہ ایک مائنڈ سیٹ ہے کہ جو ہمیں امریکہ کی غلامی سے نکلنے نہیں دے رہا ۔ ہمارے بہت سے اہم محکموں میں ایسے عناصر بیٹھے ہیں جو امریکہ کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہیں اور جن کی وجہ سے ہم بہت سے نقصانات اٹھا رہے ہیں۔ دہشت گردی کا عفریت ہمارے گھر سے نکل نہیں رہا یہ بھی ہماری ذہنی غٖلامی کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم نے جو جنگ روس کو روکنے کے لئے لڑی تھی اُس کے خاتمے کے بعد ہم کو امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ ادھر امریکہ کی طرف سے اس دہشت گردی کی جنگ میں ہمیں کو ملوث ٹھہرایا ۔ جس کی آج ہماری فوج کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے اور ڈو مور کو نو مور کی ٹرم سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔تاہم امریکہ آسانی سے ہار ماننے والا نہیں وہ ہر حالت میں اپنی پالیسیوں کو لاگو کرنے کا عادی ہے اور اس کیس میں بھی وہ پاکستان کے نور مور کو شاید ہی خاطر میں لائے، امریکہ ان تنظیموں کی سرپرستی کو مزید تیز کریگا جو پاکستان میں عسکریت پسندی کی وارداتیں کرکے امن و امان کو خطرے میں ڈالیں، ایسے میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کی ذہن سازی پر بھر پور توجہ دی جائے۔

ان کو اغیار کی سازشوں کاشکار نہ ہونے دیا جائے اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ ملک میں ترقی کا پہیہ تیزی سے چلتا رہے، یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبہ کو فراغت سے پہلے ہی یہ تسلی ہو کہ ان کو ان کی قابلیت کے مطابق جاب ملے گی اور اب جب کہ سی پیک جیسا کثیر الجہت منصوبے پر عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے تو تعلیم یافتہ نوجوانوں کو جاب کی فراہمی پر بھرپور توجہ دینی ہوگی۔امریکہ ہمیں مختلف قسم کی پابندیوں کے ذریعے دباؤ میں لانے کا حربہ بھی آزمائے گاتاہم اب پاکستان کے پاس معاشی ترقی کے وسیع متبادل راستے موجود ہیں جن کے ذریعے وہ ان پابندیوں کا مقابلہ کر سکتا ہے اور ویسے بھی پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد پہلے ہی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے ۔ہمیںیہ مد نظر رکھنا ہوگا کہ امریکہ علاقے میں موجود اپنے آلہ کار ممالک کے ذریعے پاکستان کو ہر طرف سے تنگ کرنے اور اس پر اپنی مرضی ٹھونسنے کی کوشش کریگا ، اس دوران کئی طرح کی مشکلات پیش آسکتی ہیں جس کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی اتحاد اور اتفاق اہم ضرورت ہے، ایسے نازک حالات میں سیاسی جماعتوں کو اپنے آپس کے اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر وسیع تر ملکی مفاد کے پیش نظر اکھٹا ہو کر ایک لائحہ عمل اپنانا ہوگا، کوئی وجہ نہیں کہ ماضی کی طرح وطن عزیز اس مشکل سے بھی کامیابی اور کامرانی کے ساتھ باہر نکلے۔