بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / مظلوم ترین اقلیت

مظلوم ترین اقلیت

حیرت ہوتی ہے کہ برما کی نوبل انعام یافتہ حکمران آنگ سانگ سوچی آخر کس دل گردے کے ساتھ بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کو سوشل میڈیاکی شرارت قرار دے رہی ہیں کہ جب خوداقوام متحدہ اس حوالہ سے اپنی رپورٹ میں روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قراردے چکی ہے اگر مختصر مدت کے دوران تین لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پنا ہ لے چکے ہیں تو پھر واقعی خاتون رہنما سے نوبل انعام واپس لینا چاہئے کہ ایک تو قتل عام پر خاموش ہیں دوسرے بڑی ہی ڈھٹائی کے ساتھ اس پرپردہ ڈالنے کی ناکام کوشش بھی کررہی ہیں اقوام متحد ہ کی انسانی حقو ق کونسل نے گزشتہ چوبیس مارچ کوایک قرارد ا د منظور کرتے ہوئے کہاتھاکہ حالات کاتقاضاہے کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن علاقہ میں بھجوایا جائے مگر میانمارکی حکومت نے قرارداد ماننے سے ہی انکار کر دیا درحقیقت میانمار کی حکومت انسانی حقوق پر یقین ہی نہیں رکھتی اسی اقوام متحد ہ کے سابق سیکرٹر ی جنرل کوفی عنان کی سربراہی میں قائم کیے گئے نو رکنی کمیشن نے اپنی رپورٹ رواں سال چوبیس اگست کو جاری کی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ حکومت روہنگیا مسلمانوں کی شہریت کامسئلہ حل کرے ‘انکی نقل وحرکت پر عائدپابندی ختم کرے ‘ انکی سماجی و معاشی ترقی پرتوجہ دے اور انکے ساتھ مذاکرات کاآغاز کرے مگر میانمار کی حکومت نے اس رپورٹ کی جانب سے آنکھیں بند کیے رکھی ہیں اور اس دوران انتہائی سفاکی کے ساتھ مظلوم مسلمانوں کی نسلی کشی کی مہم میں اپنی فوج کو کھلا چھوڑا ہوا ہے ایسے ماحول میں جب اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی بدحال ترین برادری کہہ رہا ہے۔

امریکی اور یورپی میڈیا میں رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں کہ کیسے برما میں ہزاروں روہنگیا کھانے اور پانی کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں برما کے فوجی معصوم‘بے سہار ا افراد کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں مصروف ہیں۔برما انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہیں ہے‘ ان کیلئے نہ بنگلہ دیش میں جگہ ہے‘نہ ہی باقی دنیا میں کوئی جگہ ہے برما کا ملک، جسے اب میانمار کہا جاتا ہے بنگلہ دیش‘بھارت‘ تھائی لینڈ‘ لاؤس اور چین کی سرحدوں سے لگتا ہے۔ برما کی تاریخ بھی جنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے زیادہ مختلف نہیں۔ کالونیل دور میں بننے والی فوج، آج بھی اپنی سرحدوں میں بسنے والوں پر ریاست کے نام پر ظلم کرنے میں ماہر ہے۔روہنگیا، سابق ارکان اور موجودہ رخائن میں موجود مسلمان گروہ ہے جو خود کو عرب جہاز رانوں کی نسل سے بتاتا ہے انکی تعداد اندازاً 13لاکھ سے زائد ہے۔ 1982 کے برمی شہریت کے قانون کے مطابق، وہ لوگ جو 1823 کے بعد برٹش انڈیا کے کسی علاقے سے یہاں آئے، برما کے شہری نہیں ہیں۔ان کو نہ تو سرکاری تعلیم کی سہولت مل سکتی ہے، نہ ہی سرکاری نوکری اور نہ ہی یہ عام شہری کی طرح آزادانہ گھوم پھر سکتے ہیں۔ ان کو بنگلہ دیشی مہاجر سمجھا جاتا ہے، حالانکہ، ان کے اپنے بیان کے مطابق اور بعض حوالوں سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ شاید 15 ویں صدی سے یہاں آباد ہیں۔

بدھ نیشنلسٹ ان کو غیر قانونی طور پہ بنگلہ دیش سے یہاں آکے اس علاقے کو اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شامل کرنے کی مبینہ سازش کا حصہ سمجھتے ہیں۔ 1982 کا شہریت کا قانون ایک فوجی جرنیل ہی کا بنایا ہوا ہے اور وہ روہنگیا کو میانمار کی باقی دس نسلوں میں شامل نہیں کرتے۔اس طرح یہ تیرہ لاکھ انسانوں کا ایک ایسا گروہ ہے، جو کسی ریاست کے رہائشی نہیں۔ میانمار میں 1962 سے 2010 تک مارشل لا لگا رہا اور اس دوران کئی بار روہنگیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ نوے کی دہائی میں کیے جانیوالے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہزاروں روہنگیا بنگلہ دیش بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔بنگلہ دیش کے علاوہ یہ لوگ‘ پاکستان‘ تھائی لینڈ‘انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور سعودی عرب وغیرہ میں بھی پناہ گزین ہیں میانمار کی حکومت ‘روہنگیا’ کی بجائے انھیں بنگالی ہی کہتی ہے اور وہاں یہ مختلف کیمپوں میں رہ رہے ہیں اقوامِ متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق بدھ قوم پرستوں کے شدت پسند رویے کیساتھ ساتھ انھیں برمی فوج کی طرف سے‘ قتل و غارت‘ قید‘ بدسلوکی اور دیگر مظالم کا بھی سامنا ہے انسانی حقوق کی انجمنیں ان مظالم کو ‘انسانیت کیخلاف مظالم’ قرار دے رہی ہیں۔اکتوبر 2015 میں لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے کچھ محققوں نے ایک رپورٹ پیش کی جس کے مطابق میانمار حکومت کے زیرِ سر پرستی‘روہنگیا مسلمانوں کی باضابطہ نسل کشی آخری مراحل میں ہے۔