بریکنگ نیوز
Home / کالم / صنعتی زوال پذیری!

صنعتی زوال پذیری!

انتہائی خطرے کی بات ہے کہ پاکستان میں صنعتیں ابھی اپنے قدم پوری طرح جما بھی نہیں پائی ہیں کہ انہیں لاحق مشکلات اِن کی بقاء کے لئے ہی خطرہ بن گئی ہیں۔ صنعتی زوال پذیری جیسی انتہاء کا ایک سبب ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال بھی ہے جس میں خدمات (ملازمتوں) کی فراہمی پرزیادہ زور دیا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خودمختار اور نجی صنعتی ادارے خاطرخواہ حکومتی توجہ سے محروم نہ تو اندرون ملک کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو سکے ہیں اور نہ ہی خسارہ برداشت کرنے کی قوت اِس حد تک رہی ہے کہ وہ قیمتوں اور معیار میں مقابلے پر مبنی ’عالمی منڈیوں‘ تک رسائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ پاکستان کی تاریخ میں درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق بھی اِس بات کی علامت ہے کہ صنعتوں کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑا رہنا (توازن برقرار رکھنا) ممکن نہیں رہا۔جنرل ایوب خان کا دور حکومت (1958ء سے 1969ء): سال اُنیس سو ساٹھ کی بات ہے جب پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کا حجم مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 12فیصد تھا۔ ایوب خان قریب گیارہ برس اقتدار میں رہے اور اِس عرصے میں صنعتی ترقی پر خاص توجہ دی گئی جس کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار میں صنعتوں کی حصہ داری بارہ فیصد سے بڑھ کر ساڑھے سولہ فیصد تک جا پہنچی۔ ترقی کی اِس ایک دہائی کے سفر میں ایک سال ایسا بھی آیا جب ملک کی اقتصادی شرح نمو ’دس فیصد‘ کی چھونے لگی اور یہ شرح نمو اِس لئے بھی غیرمعمولی تھی کیونکہ اِس سے قبل ‘ اِس کے بڑھنے کی شرح 5.82فیصد رہی جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بلند ’اقتصادی شرح نمو (اکنامک گرؤتھ)‘ رہی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کا دور اِقتدار (1971ء سے 1977ء): بھٹو کے دور اِقتدار میں مجموعی قومی خام پیداوار (جی ڈی پی) میں صنعتی پیداواری شعبے کی حصہ داری غیرمعمولی طور پر کم ہوئی۔ بھٹو کی جانب سے صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے (نیشنلائزیشن پالیسی) اور اقتصادی اصلاحات حکمنامے (اکنامک ریفارمز آرڈر) کے باعث کم سے کم 3 برس تک اقتصادی سرگرمیاں دباؤ کا شکار رہیں۔ضیاء الحق کا دور اِقتدار (1978ء سے 1988ء): ضیاء الحق کے قریب 10سالہ دور اقتدار میں اقتصادی ترقی کی شرح اوسطاً 5.88 فیصد رہی اور یہی وہ عرصہ بھی ہے جب پاکستان کی تاریخ میں اقتصادی ترقی اِس بلندی پر قریب دس برس تک برقرار رہی ہو۔ پہلے پانچ برس کے دوران ’اقتصادی سرگرمی‘ قدرے کم رہی لیکن پھر اُنہوں نے زور پکڑا۔ ضیاء اقتدار کے آخری سال تو پاکستان کے پیداواری شعبے کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ داری بلندترین سطح تک جا پہنچی جو 16.79فیصد تھی!پرویز مشرف کا دور اقتدار (1999ء سے 2008ء): سال 2005ء کے دوران خام قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں پیداواری شعبے کی حصہ داری 18.56فیصد تھی اور یہ شرح پاکستان کی تاریخ میں سب سے بلند ترین رہی۔

خطرے کی گھنٹی: سال 2006ء تک ایک ایسی لہر دیکھنے میں آئی جس میں حکومتی توجہ صنعتی شعبے سے تبدیل ہو گئی اور پھر نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ سال 2017ء تک مجموعی خام قومی پیداوار میں صنعتی پیداوار کی حصہ داری کم ہوتے ہوئے اُس حد تک جا پہنچی جو سال 1962ء میں ریکارڈ کی گئی تھی یعنی 13.5فیصد۔صنعتوں کے ارتقاء کا عمل ابھی مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اِسے روک دیا گیا تو سوال یہ ہے کہ آخر دانستہ طور پر ایسا کیوں کیا گیا؟ اِس سوال کا جواب بجلی اور گیس (مہنگے داموں توانائی) کی فراہمی ہے۔ ویتنام کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بجلی 7 سینٹس فی کلوواٹ‘ بنگلہ دیش میں 7.3سینٹس فی کلوواٹ‘ چین میں 8.3 سینٹس فی کلوواٹ اور بھارت میں 9 سینٹس فی کلوواٹ کی قیمت پر صنعتوں کو بجلی فراہم کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں صنعتوں کو فراہم کی جانے والی بجلی کی قیمت 11 سینٹس فی کلوواٹ ہے۔ بھارت میں حکومت صنعتوں کو ایک سے دو سینٹس فی کلوواٹ رعایت (سبسڈی) دیتی ہے تاکہ صنعتی پہیہ چلتا رہے اور اِس کے ذریعے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع برقرار بھی رہیں اور ان میں اضافہ بھی ہوتا رہا۔بجلی کی طرح پاکستان میں صنعتوں کو گیس بھی دیگر ممالک کے مقابلے مہنگے داموں فراہم کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں جس گیس کی قیمت فی ایم ایم بی ٹی یو 3 ڈالر‘ ویتنام میں 4.2 ڈالر اور بھارت میں 4.5 ڈالر ہے‘ اُسی کی قیمت پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ٹیکسٹائل ملز سے 8.6 ڈالر وصول کی جارہی ہے!صنعتوں کی زوال پذیری (deindustrialisation) اور صنعتوں کا پھیلاؤ (industrialisation) ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ بیک وقت صنعتیں زوال پذیر اور ترقی پذیر نہیں ہو سکتیں اور اِس صنعتی زوال پذیری کے ملک کی اقتصادی و سیاسی صورتحال پر تادیر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب صنعتیں بحرانوں کا شکار ہوتی ہیں تو اِس سے بیروزگاری کی شرح بڑھتی ہے اور جب بیروزگاری کی شرح بڑھتی ہے تو کسی معاشرے میں رونما ہونے والے معمولی اور بڑے جرائم کی تعداد میں لامحالہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

اقتصادی امور کے مبصر قیصر بنگالی نے پاکستانی کی اقتصادی رجحانات کو جوئے سے تشبیہہ دی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں جائیداد اور اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے تاکہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جاسکے اور اجتماعی قومی مفاد کے زیادہ بڑے اہداف کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔ چونکہ ہمارے ہاں مقامی طور پر پیداواری شعبہ خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا اور نہ ہی پیداواری شعبے میں تحقیق و ترقی کے صحت مند اعشاریئے دکھائی دیتے ہیں اِس لئے ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے‘‘ اور یہ درآمدی انحصار ہر گزرتے دن بڑھ رہا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)