بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاکستان کا احتجاج

پاکستان کا احتجاج

پاکستان نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اس مقصد کے لئے پاکستان میں تعینات برما کے سفیر ون مائنٹ کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا ٗ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے خود ان سے ملاقات کی اور رخائن کی ریاست میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد کاروائیاں روکنے کے لئے موثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا پاکستان کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کے ساتھ انہیں شہریت دینے اور قتل عام میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ دریں اثناء میڈیا رپورٹس کے مطابق تادم تحریر برمی فوج نے مزید8مسلم دیہات جلا ڈالے ہیں جبکہ بنگلہ دیش کے ساتھ بارڈر پر بارودی سرنگیں بچھادی گئی ہیں ٗ مسلمانوں پر ظلم و ستم کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک ایسے کیمپ کو بھی نذر آتش کردیا گیا ہے جہاں آئی ڈی پیز رہائش پذیر تھے ٗقابل اطمینان ہے کہ ملائشیا نے جانیں بچاکر آنے والوں کو پناہ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اب یہ مہاجرین کشتیوں کے ذریعے ملائشیاء جاسکتے ہیں تھائی لینڈ کی جانب سے بھی مہاجرین کو پناہ دینے کا امکان بھی دکھائی دے رہا ہے ٗ۔

بنگلہ دیش میں پناہ لینے والوں کی تعداد3لاکھ بتائی جا رہی ہے میانمار حکومت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ کئی ممالک میں جاری ہے پاکستان کا سفارتی سطح پر احتجاج قابل اطمینان ہے قومی اسمبلی اور سینٹ کے آج ہونے والے اجلاسوں میں مذمتی قراردادیں منظور ہونے کا امکان ہے تاہم اس سارے منظر نامے میں عالمی برادری کا موثر کردار دکھائی نہیں دے رہا ٗ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی باتیں کرنے والی عالمی برادری برما کے معاملے پر بے حسی کا مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔اقوام متحدہ کے اپنے ریکارڈ پر اس حوالے سے کوفی عنان کمیشن کی رپورٹ موجود ہے اس رپورٹ میں تشدد کی روک تھام ٗ امن کے قیام ٗ مصالحت ٗ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد تک رسائی اور شہریت کے مسئلے کا حل شامل ہے برمائی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ مزید بے گناہوں کی جانوں کا ضیاع ہر صورت روکا جائے جس کے لئے عالمی ضمیر کی بیداری ناگزیر ہے۔

سردریاب پل حادثہ

پشاور اور چارسدہ کے درمیان دریائے کابل پر بنا سردریاب پل گرنے سے ایک ٹرک ڈرائیور جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے ہیں مذکورہ پل 1937ء میں تعمیر کیا گیا جو عرصے سے مخدوش ہو چکا تھا اس پل کی تعمیر و مرمت پر نہ تو بروقت کام کیا گیا نہ ہی اس کی خستہ حالی کے باعث بھاری ٹریفک کو گزرنے سے روکنے کے لئے کوئی بندوبست دکھائی دیا ٗ متعلقہ محکمے کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ پل پر کام آئندہ سال شروع ہونا ہے اس مقصد کے لئے پشاور اور چارسدہ کے درمیان پانچ پلوں کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں فنڈ منظور ہو چکا ہے ہمارے ہاں کسی بھی حادثے پر دو چار روز گرما گرمی نظر آتی ہے اس کے بعد سب کچھ فائلوں میں بند ہو جاتا ہے سردریاب پل ہو یا کوئی بھی منصوبہ اس میں صرف تعمیر پر اکتفا نہیں بلکہ سالانہ مینٹیننس کے حوالے سے وضع قاعدے پر عمل بھی ناگزیر ہے اس قاعدے سے روگردانی نہ صرف حادثات کا باعث بنتی ہے بلکہ قومی ملکیت کے اثاثے خستہ حالی کا شکار ہو جاتے ہیں کیا ہی بہتر ہو کہ صوبے میں عمارات سڑکوں اور پلوں کی حالت سے متعلق جامع رپورٹ طلب کی جائے اور دیکھ بھال میں غفلت کے مرتکب اداروں سے پوچھ گچھ بھی ہو۔