بریکنگ نیوز
Home / شوبز / ہر دور کی دہشتناک فلمیں

ہر دور کی دہشتناک فلمیں


خوفناک یا ہارر فلمیں کس کو پسند نہیں ہوتیں اور دنیا کی سب سے دہشت ناک فلمیں دیکھنے کے بارے میں کیا خیال ہے کیا آپ ان کو دیکھنے کی ہمت کرسکتے ہیں۔

جی ہاں برطانوی روزنامے ٹیلیگراف نے ہر دور کی سب سے خوفناک فلموں کی فہرست مرتب کی ہے۔

ویسے تو یہ 50 فلمیں ہیں تاہم ہم نے ان میں سے چند کا انتخاب کیا ہے اور اخبار کے مطابق اس نے ایسے فلموں کا انتخاب کیا ہے جو بہت دہشتناک اور منہ کھول دینے پر مجبور کردیتی ہیں۔

تو آئے دیکھیں آپ کو یہ فہرست کس حد تک بھاتی ہے۔

انڈر دی شیڈو (2016)

اسکرین شاٹ

یہ ایک ایرانی فلم ہے جس میں بظاہر ڈرانے والا کچھ بھی نہیں بلکہ یہ اسی کی دہائی کے بعد کے جنگ زدہ تہران میں مقیم ایک ماں اور بیٹی کی کہانی ہے جنھیں ایک پراسرار عفریت کا سامنا ہوتا ہے جو ان کے گھر میں انہیں شکار کررہا ہوتا ہے، مگر کہانی کے نشیب و فراز رونگھٹے کھڑے کردیتے ہیں۔

دی وچ (2016)

اسکرین شاٹ

اس فلم کو بیشتر ناقدین نے حالیہ برسوں کی سب سے خوفناک پیشکش قرار دیا، اس فلم میں 1630 کے زمانے کو دکھایا گیا اور ریلیز سے قبل ہی اس کے ٹریلر کی دھوم کئی ماہ تک رہی تھی، درحقیقت یہ ایک خاندان کے ٹوٹنے بکھرنے کی کہانی ہے جو کالے جادو، آسیب اور دیگر عوامل کی وجہ سے جدا ہوجاتا ہے۔

اٹ فالوز (2015)

اسکرین شاٹ

یہ ایک ایسی انیس سالہ لڑکی کی کہانی ہے جس میں کوئی پراسرار اور ماورائی طاقت اس کا پیچھا کرنے لگتی ہے، اسے عجیب و غریب چیزیں نظر آتی ہیں اور اس بوجھ سے نکلنے کے لیے وہ راہ تلاش کررہی ہوتی ہے تاکہ وہ زندگی کو خوفناک خواب سے باہر نکال سکے۔

دی باباڈوک (2014)

اسکرین شاٹ

موت کی پرتشدد موت کے بعد ایک ماں کو اپنے بیٹے کے عفریت کے خوف سے لڑنا پڑتا ہے جو گھر کے اندر گھومتا ہے، جس کی موجودگی ہر جگہ محسوس ہوتی ہے، ناقدین کے مطابق یہ فلم مضحکہ خیز چیزوں سے بھی دیکھنے والوں کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب رہتی ہے اور دیکھنے والا نشستوں پر اچھلنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

ایول ڈیڈ (2013)

اسکرین شاٹ

ویسے تو کلاسیک ہارر فلموں کو دوبارہ بنانے کا تجربہ اکثر ناکام ثابت ہوا ہے مگر ایول ڈیڈ کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا بلکہ جدید ویژول ایفیکٹس نے اسے پہلے سے زیادہ بہتر بنادیا۔ یہ دیکھنے والوں کے جذبات کو اتھل پتھل کرنے کے ساتھ ڈراتی بھی ہے اور کئی مقامات پر مزاح چہرے پر مسکراہٹ بھی بکھیر دیتا ہے۔

کل لسٹ (2011)

اسکرین شاٹ

ایک قاتل کو تین افراد کو مارنے پر بڑے معاوضے کا لالچ دیا جاتا ہے، مگر بظاہر آسان ٹاسک بہت جلد اس قاتل کو ایسے مقام پر لے جاتا ہے جو اس کے لیے بھیانک خواب بن جاتا ہے۔

دی ہاﺅس آف دی ڈیول (2009)

اس فلم میں 1983 کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور ایک مالی مشکلات کی شکلار طالبہ بچے سنبھالنے کی ملازمت کرنے لگتی ہے اور اسے جلد احساس ہوتا ہے کہ وہ جن کے یے کام کررہی ہے وہ ایک دہشتناک راز چھپائے ہوئے ہیں اور اس کی زندگی کطرے میں ہے۔

لیٹ دی رائٹ ون ان (2008)

اسکرین شاٹ

دنیا بھر سے ٹھکرائے ایک نوجوان کو ایک خوبصورت مگر انوکھی لڑکی سے محبت ملتی ہے اور ساتھ میں انتقام بھی، وہ لڑکی سورج میں کھڑی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کھانا اس کے کمرے میں آسکتا ہے۔ جب نوجوان کو ملتا چلتا ہے کہ اس لڑکی کو زندہ رہنے کے لیے دوسروں کا خون پینا ہوتا ہے تو اسے ایک انتخاب کرنا ہوتا ہے۔

دی مسٹ (2007)

اسکرین شاٹ

اسٹیفن کنگ کے ناول سے ماخوذ اس فلم کو اس کے تباہ کن اختتام کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور آخری توئیسٹ اگرچہ دہلا دینے والا حصہ ہے مگر باقی فلم بھی جو ایک پراسرار دھند کے گرد گھومتی ہے، رونگھٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہے۔

دی اورفنیج (2007)

بھوت بچوں کے ساتھ دہشتناک مناظر دل دہلا دینے والے ہیں، اس ہسپانوی تھرلر فلم کی فضاءدہشت اور دکھ سے بھری ہوئی ہے جو دیکھنے والوں کی توجہ دوسری جانب مرکوز نہیں ہونے دیتی اور اسی وجہ سے اسے فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

the descent (2005)

اسکرین شاٹ

ایک غار کے اندر کھوج اس وقت تحقیقی ٹیم پر بھاری پڑ جاتی ہے جب وہ وہاں پھنس جاتی ہے اور وہاں عجیب الوضع قسم کی مخلوق ان کا شکار شروع کردیتی ہے۔

اے نائٹ میئر آف ایلم اسٹریٹ (1984)

اسکرین شاٹ

ویسے اب دیکھنے میں ہوسکتا ہے کہ مضحکہ خیز لگے مگر اپنے دور میں اس فلم نے لوگوں کے دلوں کو دہلا دیا تھا جو کہ ایک ایسے عفریت کے گرد گھومتی ہے جو لوگوں کے خوابوں میں آکر ان کی زندگیوں کا خاتمہ کرتا ہے، مگر فریڈی نامی اس عفریت اور اس کے شکاروں کے ساتھ جو راز جڑا ہوتا ہے، وہ زندگیاں بچاسکتا ہے۔اپنے عہد میں اس نے لوگوں کو سونے کے خیال تک سے خوفزدہ کردیا تھا اور انہیں لگتا تھا کہ وہ فریڈی نامی کردار ان کے اندر کہیں چھپا ہوا ہے۔

دی شائننگ (1980)

اسکرین شاٹ

جریدے کے مطابق اس فلم کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ فلمی ناظرین کو ڈرانا تو بہت آسان ہوتا ہے مگر ایسی چہزوں سے لوگوں کے اندر خوف کی لہر دوڑانا مشکل ہے جو عام یا دیکھی بھالی ہو۔ اس فلم کا مرکزی کردار چیخیں نکلوانے میں تو کامیاب نہیں ہوتا مگر اس نے پوری فلم کو ایسے چلایا ہے کہ خوف کی لہر موجود رہتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب گھر کے اندر ہی ہورہا ہے۔

دی ہالووین (1978)

اسکرین شاٹ

ڈائریکٹر جون کارپینٹر کی یہ تخلیق جو ایک پراسرار نقاب پوش قاتل کے گرد گھومتی ہے جو ہڈیوں تک میں خوف بٹھا دیتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارے اوپر ہی حملہ کرنے والا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے لگتا ہی نہیں کہ ہم فلم دیکھ رہے ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے اور یہ احساس دہشت زدہ کردینے والا ہوتا ہے۔

کیری (1976)

اسکرین شاٹ

ایک ایسی طالبہ کا دنیا سے انتقام ہے جسے تذیلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ اپنی طاقتوں کو باہر لاکر اپنے ساتھی طالبعلموں کو اس کا نشانہ بناتی ہے۔