بریکنگ نیوز
Home / کالم / کوئی تو ہے جو یہاں آکے لوٹ جاتا ہے

کوئی تو ہے جو یہاں آکے لوٹ جاتا ہے


ستمبر اپنے وسط کے قریب آ گیا مگر موسم ابھی تک خوب خبر لے رہا ہے ستمبر میں راتیں ٹھنڈی ہونا شروع ہو جاتی ہیں لیکن جس جگہ ہوا کا گزر نہ ہو وہاں تو رات بھی ان دنوں خاصی گرم ہو تی ہے دیکھا جائے تو یہ بھادوں کی رت ہے اور ایک زمانہ تھا جب بھادوں کے شب و روز بادل ‘بدلیوں‘ اندھیری اور بارشوں میں گزرتے تھے اب کوئی بھولا بھٹکا بادل کبھی کبھی ادھر آ نکلتا ہے تو ذرا سی دیر کو رم جھم ہو جاتی ہے مگر پھر اگلے ہی لمحے ستمبر اپنی ستمگری پر اتر آتا ہے ابھی دو دن پہلے دیکھتے ہی دیکھتے بادل آئے کالی گھٹاؤں میں بدلے اور چند لمحوں کو میلہ لگا کر لوٹ گئے اور اسی رات بلا کی گرمی پڑی۔اب بھادوں کو کون بتائے کہ ایک دو قطرے تواور آگ لگا دیتے ہیں۔ ابن انشا نے کسی کو ’’دروازہ کھلا رکھنا‘‘ کا کہتے ہوئے یہ بھی کہا تھا
پھا گن کا نہیں بادل جو چار گھڑی برسے
برکھا ہے یہ بھادوں کی‘ برسے تو بڑی برسے

اور میں تو شعرا کی بصیرت کا ہمیشہ سے قائل رہا ہوں اسلئے بھادوں سے بھی یہی توقعات باندھ لیتا ہوں کہ برسے تو بڑی برسے اور مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچپن اور لڑکپن میں یہ ساون بھادوں اسی طرح چھاچھوں مینہ بر ساتے تھے‘ یار لوگ مل بیٹھنے کے پروگرام بناتے‘مزے مزے کے پکوان گھروں میں بھی پکتے اور نوجوان خود بھی حجروں میں پیسے (پول) اکٹھے کر کے بازار سے سودا منگواتے اور کوئی ایک ایکسپرٹ حلوہ بناتا۔باقی دوست ساون کے گیت گاتے اور یہ اہتمام اس دن اور پر لطف لگتا جب ساون بھادوں کی اندھیری چھا جاتی اور دن پر بھی شام کا گماں ہو نے لگتا۔ ممکن ہے کچھ دیہات اور قصبے اب بھی ساون بھادوں یا پھر پھاگن کی بارشوں میں ا س روایت کو نبھاتے ہوں حجروں میں تو خیر صرف حلوہ ہی ہوا کرتا البتہ گھروں میں جو خصوصی پکوان بنتے ان میں بیسنی روٹی اور میٹھی روٹی ( کلچ�ۂ شیریں)کا اپنا ہی ایک لطف تھا والدہ مرحومہ کے ہاتھ کے بنے ہو ئے یوں تو سارے پکوان لذیذ ہوتے جسکی تعریف ہر کوئی کرتامگر بیسنی روٹی تو بس ‘لگتا ہے کہ صرف وہی بنا سکتی تھیں‘ بیسنی روٹی کے علاوہ جو ڈش میرے کلاس فیلو دوستوں کو بہت پسند تھی وہ ’کڑی‘ تھی جس میں پکوڑے یا ابلے ہوئے انڈے کی بجائے وہ اروی (کچالو ) ڈالتی تھیں۔ کلاس فیلوز کا ذکر اسلئے کیا کہ گورنمنٹ ہائی سکول اکوڑہ خٹک میں ‘میں پڑھتا تھا اور یہ سکول گھر سے خاصے فاصلے پر تھاہم دوستوں کو یا بازار کے راستے یا پھر ایک لمبے قبرستاں سے ہو کر آنا پڑتا۔
؂
بریک (ریسس) کا وقفہ زیادہ طویل نہ ہوتا زیادہ وقت گھرآنے جانے میں گزر جاتا تو کھانا بس کھڑے کھڑے کھانا پڑتا اور کبھی کبھی دیر ہو جاتی تو مکئی کی روٹی اور گڑ کی ڈلی لے کر راستے میں کھاتے ہوئے سکول آ جاتے پھر اس کا حل ہم نے یہ نکالا کہ ہم نے ایک دوست کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ جاکر سب کے گھروں سے کھانا لے کر آئے اور ہم یہیں بیٹھ کر اطمینان سے کھائیں۔ یہ قرعہ فال میں نے ہی ایک بہت پیارے دوست ’ شجاع‘کے نام اسلئے نکالا کہ وہ اکثر کسی بہانے بریک سے پہلے نکل جاتا اور بریک کے بعد آ تا۔چونکہ میں کلاس مانیٹر بھی تھا اسلئے میں بریک سے پہلے آخری پیریڈ میں اسے گھر بھیج دیتا ان دنوں جامعہ اسلامیہ جو سکول کے بالکل سامنے تھا میں کوئی نیا بلاک بن رہا تھا اس لئے ہم نے درختوں کے نیچے اینٹیں جوڑ کر فرش سا بنایا تھا جس پر کھانا پروس دیتے اور برتن پھر چھٹی کے وقت ساتھ لے جاتے میرے ساتھ شریک دوستوں میں فتح محمد( اب شاید کرنل ر) زاہد حسین (اب انگلینڈ میں ڈاکٹر) محمد الطاف مرحوم‘ محمد تنویر اور خود شجاع ( اب ممتاز آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر اسد ضیا ) شامل تھے۔ بات کڑی اور اروی کی ڈش کی ہو رہی تھی کہ جس دن گھر سے یہ ڈش آتی تو دوست ایک دوسرے سے چھینا چھپٹی کر کے کڑی کھا جاتے باقی کھانے کو کم کم ہی کسی نے چھوا ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیسنی روٹی اور کڑی دونوں میں مشترکہ اور ضروری جزو بیسن کا ہو تا ہے اور روٹی کا نام ہی بیسنی ہے وہی جو بہادر شاہ ظفر نے کبھی اپنے استاد مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کے لئے بھیجی تھی اور جس نے برملا کہا تھا
نہ پوچھ اس کی حقیقت‘ حضور والا نے
مجھے جو بھیجی ہے بیسن کی روغنی روٹی

( باقی کے دو مصرع دیوان غالب سے پڑھ لیجئے گا) بیسن گویا لازمی جزو ہے اب تو بڑی بیکریز میں بیسن کے لڈو‘ برفی اور دیگر مٹھائیاں بھی عام ہیں اور کڑی بھی خوب بنتی ہے جتنا اچھا بیسن اتنی اچھی کڑی پکتی ہے مگر جس ڈش کی میں بات کر رہا ہوں اپنی والدہ مرحومہ کی ہاتھ کی بنی ہوئی کڑی اور اروی اس میں حرام ہو جو ذرا بھی بیسن پڑتا تھا وہ تو بس سیدھا سادا گھر کا جما ہوا دہی ہوتا جسے گھوٹ کر کڑی بنائی جاتی جو دیہات میں اب بھی رائج ہے کم از کم میں اسے ہر عید بقر عید پر کھچڑی پر ڈال کر کھاتا ہوں اسے دیہات قصبات کے رہنے والے کڑی کی بجائے ’’ لاونڑ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں بس اس میں بیسن نہیں ہوتا اور جس کو شہری لوگ بیسنی روٹی کہتے ہیں اور جو میری والدہ بھی کمال بناتی تھی اس میں بھی مجال ہے جو ذرا بھی بیسن ڈالتیں۔ بس جوار کے آٹے میں سوڈا اور نمک مرچ اور ہلکے مصالحے گوندھ کر روٹی بنائی جاتی اور توے پر ڈال کر اس میں پیاز اور ٹماٹر شامل کر دیتیں۔ اس روٹی کے یوں تو مختلف نام ہیں تاہم اکوڑہ خٹک کے گرد و نواح میں یہ ’’ پیزاکے‘‘ یا پیازاکے کہلاتی ہے۔ اب اس کی شکل دیکھیں اور اٹلی سے رواج پانے والے’’ پزا ‘‘ یا پیزا کو دیکھیں بھی اور اس کے نام پر بھی غور کریں۔ حیران کن مماثلت ہے۔ ساون بھادوں کا یہ خصوصی پکوان اب شاید شہروں میں تو باقی نہیں رہا لیکن دیہات میں اب بھی اس کا اس موسم میں اہتمام کیا جاتا ہے‘کچھ علاقوں میں یہ روٹی ذرا سے فرق سے سکڑک بھی کہلاتی ہے ‘۔

میں نے یہ روٹی پہلی بار ایسی ہی برکھا رت میں پشاور کے نواح میں ایک گاؤں ’ شیخان ‘میں کھائی تھی جب شیخان سکول کے ایک ٹیچر کے گھر کیچڑ میں ڈنڈوں کی مدد سے راستے بنا کر اپنے مرحوم والد کے ہمراہ پہنچا تھا۔ چائے کے ساتھ اس سکڑک کا ذائقہ اب بھی مجھے یاد ہے حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب میں ابھی سکول میں بھی داخل نہیں ہوا تھا۔ ساون اب بھی آتا ہے بھادوں کی بدلیاں اب بھی پھیرا ڈالتی ہیں مگر اپنے ساتھ وہ رونق میلہ وہ خوشیاں وہ بے فکری ‘وہ یاروں کا مل بیٹھنا اور وہ پکوان ساتھ نہیں لاتیں ‘ شاید اس لئے کہ ہم نے اچھی رتوں کا سواگت کرنا چھوڑ دیا ہے‘ تو سہانی رتیں بھی کب تک یکطرفہ محبت کی ڈور سے بندھی ہمارے آنگن میں ڈیرے ڈالے رکھتیں۔ سو روٹھ گئی ہیں۔ فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ بس موسموں کا چکر پورا ہوتا رہتا ہے‘ کئی برس ہو گئے کہ ساون بھادوں پھیرا تو ڈالتے ہیں مگر جپھی نہیں ڈالتے‘رومینس کا موقع نہیں دیتے ‘بس ہوا کے جھونکے کی طرح آتے ہیں اور دل کو چھوئے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔ ان دنوں بھی یہی کچھ ہے اسلم انصاری نے شاید انہی موسموں کے بارے میں کہا تھا۔
یہ ایک چاپ جو برسوں سے سن رہا ہوں میں
کوئی تو ہے جو یہاں آ کے لوٹ جاتا ہے