بریکنگ نیوز
Home / کالم / روہنگیا بحران: مسلمانوں پر حملے!

روہنگیا بحران: مسلمانوں پر حملے!

دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے میانمار کے روہنگیا شدت پسندوں نے تنازع کے بعد بے گھر ہونے والے تین لاکھ سے زائد مہاجرین اور دیگر متاثرین تک امداد پہنچانے کی غرض سے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ میانمار کی ریاست رخائن میں تنازع کے بعد بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کرنیوالے افراد کی تعداد دو لاکھ چورانوے ہزار کے قریب ہے جو پچیس اگست کو رخائن میں شدت پسندوں کی جانب سے فورسز پر حملوں کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال کے بعد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں رخائن میں موجود ہزاروں افراد کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ غذا‘ پانی اور کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ تازہ واقع میں میانمار سکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد پر بچھائے گئے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں تین روہنگیا مسلمان جاں بحق ہوگئے ہیں بدھ مت اکثریت کے حامل برما میں روہنگیا مسلمانوں کو شہری تسلیم نہیں کیا جارہا ہے اور انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا ہے دوسری جانب رخائن میں پیدا ہونیوالے حالیہ تنازعہ کے بعد ریاست کے شمالی علاقوں سے ستائیس ہزار بدھ مت اور ہندو بھی ہجرت کرگئے ہیں۔شدت پسندوں کی جانب سے ٹویٹرکے ذریعے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’’اراکان روہنگیا سیلویشن آرمی نے عسکری کاروائیوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

‘‘گزشتہ کئی برس میں برما کی مسلم روہنگیا آبادی اور وہاں اکثریت میں موجود بدھوؤں کے درمیان جھڑپیں تو ہوتی رہی ہیں‘ جس میں عام طور پر مسلم آبادی بدترین ریاستی ظلم و ستم کا شکار بنتی ہے لیکن اس بار جس قدر پرتشدد واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس صورتحال پر جو عالمی رد عمل آیا ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ حالیہ بحران کی صورتحال تب شروع ہوئی جب گزشتہ ماہ روہنگیا عسکریت پسندوں کی جانب سے مبینہ طور پر میانمار سکیورٹی افسران کو قتل کیا گیا تھا‘ جس کے بعد سے ہزاروں روہنگیا مہاجرین پڑوسی ملک بنگلہ دیش کا رخ کر رہے ہیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیشن کے مطابق قریب دو لاکھ سات ہزار روہنگیا مسلمان پُرخطر راستوں کے ذریعے ملک بدر ہو چکے ہیں۔ سفر کے دوران انکی کئی کشتیاں بھی ڈوبیں اور کئی لوگ مارے گئے‘ اقوام متحدہ کی مہاجر ایجنسی کے مطابق‘ میانمار سے اپنی جان بچا کر فرار ہونے والے تھکے ہارے‘ بھوکے اور محفوظ جگہوں سے محروم ہیں۔‘ ایسی بھی خبریں ہیں کہ میانمار میں روہنگیا برداری پر سکیورٹی اہلکاروں کیساتھ مشتعل بدھوؤں کے ہجوم بھی حملے کر رہے ہیں۔ ایک بین الاقوامی میڈیا ادارے نے مسلمان بستیوں کو نذر آتش کئے جانے کی بھی خبر دی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ میانمار میں اندازے کے مطابق ایک ہزار افراد مارے جا چکے ہیں‘ جن میں زیادہ تر روہنگیا برادری سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ کئی روہنگیا باشندے میانمار میں حالیہ تشدد کے خطرے کے پیش نظر وہاں سے فرار ہو چکے ہیں۔ بنگلہ دیشی مہاجر کیمپوں میں بھی ان کی صورتحال کچھ زیادہ بہتر نہیں۔

ہفتے کے روز ملنے والی خبر کے مطابق کیمپوں میں خوراک اور پانی کی قلت ہے جبکہ وبائی مرض پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ان پرتشدد واقعات اور روہنگیا برادری کے لوگوں کی حالت زار پر پاکستان سمیت پوری دنیا سراپا احتجاج ہے۔ میانمار کی ریاستی کونسلر اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سو چی کو بھی زبردست تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ان پر تنقید کرنیوالی بڑی شخصیات میں دیس منڈ ٹوٹو اور ملالہ یوسف زئی شامل ہیں۔ پوری دنیا میں آنگ سان سوچی کے حامیوں کے لئے مایوس کن بات شاید یہ ہے کہ حتیٰ کہ انہوں نے میانمار کے جنرلز کیخلاف کھڑی ہو کر جمہوریت کیلئے جدوجہد کی ہے لیکن روہنگیا معاملے پر ان کا رویہ کافی سرد اور تقریباً عمومی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’میانمار کے صوبے رخائن‘ جہاں روہنگیا برادری کی ایک بڑی آبادی موجود ہے‘ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں غلط معلومات کا ایک پورا پہاڑ کھڑا کیا گیا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ سوشل میڈیا پر من گھڑت چیزوں اور غلط معلومات کی بھرمار ہے لیکن روہنگیا باشندوں کی سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں جو نسل کشی کی گئی ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا محترمہ سوچی کو یہ بھی وضاحت دینی ہوگی آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمان وہاں سے اتنی بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں بلاشبہ میانمار کی ڈوریں اب بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہیں لیکن اگر وہ روہنگیا معاملے پر اپنی آواز نہیں اٹھاتیں تو یوں انہیں جو انسانی حقوق کی چیمپئن ہونے کا رتبہ حاصل ہے اسے اس قدر نقصان ہوگا کہ جسے دوبارہ حاصل کرنا‘ ناممکن ہوگا۔ یہ موقع عالمی برادری کیلئے بھی وہ ثابت کرے کہ مسلمانوں کے بارے میں اسکا رویہ اور پالیسیاں دوغلی نہیں ہیں (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر خرم زبیر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)