بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / شعبۂ تعلیم: غافل مباش!

شعبۂ تعلیم: غافل مباش!

نجی تعلیمی اداروں سے متعلق والدین کی شکایات بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہوں لیکن ان مسائل کا حجم اور نوعیت اپنی شدت و نتائج کے باعث متعلقہ شعبے کے فیصلہ سازوں کی توجہ کا متقاضی ہے۔کسی طالب علم کی سکول سے غیراطلاعیہ‘ غیرحاضری کی صورت جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جسکی شرح کا تعین نہ تو سرکاری طور پر کیا گیا ہے اور نہ ہی والدین کی مشاورت سے سکول انتظامیہ طے کرتی ہے کہ اگر کوئی طالب علم کسی دن سکول سے غیرحاضر رہے گا اور وہ اس کی پیشگی اطلاع نہیں دیگا تو اس ’جرم‘ کے عوض والدین کو کتنا جرمانہ کیا جائے۔ عموماً اس قسم کے جرمانے کی شرح 200 روپے یومیہ سے شروع ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر طالب علم بیماری یا کسی ناگزیر مصروفیت میں مبتلا ہے تو وہ اپنی بیماری اور ناگہانی مصیبت کو فراموش کر کے سکول کی پہلے فکر کیسے کرے اور بروقت اور پیشگی اطلاع کس طرح دی جائے؟کاروباری ترجیحات ملاحظہ کریں کہ نجی سکولوں کی انتظامیہ یہ جاننے میں قطعی دلچسپی نہیں رکھتی کہ آخر کس وجہ سے کوئی بچہ غیر حاضر تھا اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اُس کی غیرحاضری کسی حادثے یا ایسی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے ہے جس کیلئے اسے مزاج پرسی‘ عیادت یا تعزیت کی ضرورت ہے۔کیا معلم طالب علم اور تعلیمی اداروں کا تعلق بس یہی رہ گیا ہے کہ والدین مطلوبہ فیسیں ادا کریں اور تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے والے عوام کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے رہیں؟سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کی تعلیمی اداروں میں تربیت کس انداز سے کر رہے ہیں کہ سوائے فیسوں اور دیگر مدوں میں وصولیوں سے زیادہ ان کی کوئی اہمیت نہیں!نجی تعلیمی اداروں میں والدین اور اساتذہ کے درمیان رسمی بات چیت (پیرنٹس ٹیچرز ملاقات) عموماً سالانہ نتائج کے موقع پر ہوتی ہے جس کا نہ تو پہلے سے کوئی لائحہ عمل طے ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں سکول کی انتظامیہ کے اہم فیصلہ ساز حصہ لینے کی زحمت گوارہ کرتے ہیں۔ کلاس ٹیچرز سالانہ نتائج کے دن‘ بن سنور کر مصنوعی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے والدین کا استقبال کرتے یا کرتی ہیں‘ والدین کو نتیجہ تھما کر انہیں اپنے تاثرات قلمبند کرنے کا کہا جاتا ہے جس پر عمل درآمد کون کرتا ہے‘ کتنا کیا جاتا ہے‘ اسے قابل عمل کیوں نہیں سمجھا جاتا اور والدین کی تجاویز و آرأ پر کیا تبدیلیاں لائی جاتی ہیں اس بارے میں والدین کو نہ تو مطلع کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں ان سے رابطہ رکھا جاتا ہے۔

تعلیمی اداروں کے فیصلہ ساز بچوں کی طرح انکے والدین کو بھی ناخواندہ ہی سمجھتے ہیں! تجویز ہے کہ انٹرنیٹ پر منحصر انفارمیشن ٹیکنالوجیکے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے نجی تعلیمی ادارے اور والدین بطور صارفین کے درمیان فاصلوں کو کم کیا جائے۔یہ عمل سکیورٹی کے نکتۂ نظر سے بھی محفوظ ہے کہ آئے روز والدین سکولوں کا دورہ نہیں کریں ایک سیدھی سادی موبائل فون ایپلی کیشن کے ذریعے والدین نہ صرف تعلیمی سال کے دوران سکول انتظامیہ اور کلاس ٹیچر سے رابطے میں رہ سکتے ہیں بلکہ اگر کسی بچے کو اچانک رخصت درکار ہو تو اس کیلئے بھی موبائل فون ایپلی کیشن یا ویب سائٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور والدین خاص اکاؤنٹس اور پاس ورڈز کے ذریعے رخصت کی صورت سکولوں کو مطلع کر سکتے ہیں کلاس رومز میں بچوں کو ہوم ورک دینے کی ایک روایت بھی ہے لیکن بچوں کو اپنی اپنی ڈائری اَزخود لکھنے کو کہا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ کام سکول ٹیچر کی ذمہ داری ہوا کرتا تھا لیکن اب چونکہ فی کلاس طلبہ کی اوسط تعداد قریب پچاس یا اس سے زیادہ کر دی گئی ہے‘ اسلئے اساتذہ کے لئے یہ بات عملاً ممکن نہیں رہی کہ وہ ہر بچے کی ڈائری میں اس کا ہوم ورک کم سے کم اس حد تک خوش خطی سے تحریر کریں کہ والدین اسے پڑھ کر سمجھ اور سمجھا سکیں۔ موبائل فون ایپلی کیشن یا ویب سائٹ کی مدد سے ہر طالب علم کے ہوم ورک کی تفصیلات کا تبادلہ اُس کے والدین سے ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔

تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ صرف ٹیوشن فیسیں مقرر کرنیکی حد تک نہیں بلکہ ’ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی‘ کے ذریعے انواع و اقسام کے جرمانوں اور ان جرمانوں کی شرح بھی مقرر کی جائے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان سے عرض ہے کہ وہ 30مئی 2018ء سے قبل تک ملنے والی مہلت کا فائدہ اُٹھائیں۔ اپنی نہیں تو کم سے کم تحریک انصاف کی عزت و ساکھ ہی کا خیال کریں۔ نجی تعلیمی اِداروں کی من مانیاں‘ ٹیوشن فیسوں اور جرمانوں کی شرح پر غوروخوض کے ساتھ درس و تدریس کو کاروبار بنانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔