بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / عوامی مسئلے پر خاموشی کیوں؟

عوامی مسئلے پر خاموشی کیوں؟

وطن عزیز میں قاعدے قانون سے آزاد مارکیٹ میں پھلوں، سبزیوں اور دوسری اشیائے ضرورت کے نرخوں میں اضافے نے غریب اور متوسط شہریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ پیاز اور ٹماٹرسو روپے کلو ہیں جبکہ پھل عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ الگ چیلنج ہے‘ دوسری جانب ذمہ دار سرکاری ادارے معیشت کے استحکام پر خوشیاں مناتے نظر آتے ہیں جبکہ مختصر وقفوں کے ساتھ بیرونی قرضوں کا حجم بڑھنے کی نوید بھی سنائی جاتی ہے قرضے کی قسط منظور ہونے کو بھی اقتصادی پالیسیوں پر بیرونی اداروں کا اعتماد قرار دیتے ہوئے کامیابیوں کے زمرے میں شامل کرنے کی روایت بھی برقرار ہے اقتصادی اعشاریوں میں بہتری سے انکار نہیں تاہم انکار اس سے بھی نہیں کہ عام شہری کو گرانی اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ کوئی انکار اس سے بھی نہیں کرسکتا کہ 84 فیصد شہریوں کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا جبکہ55 فیصد بچے خون کی کمی سے جڑی بیماریوں کا شکار ہیں اعداد وشمار اس بات کے بھی شاہد ہیں کہ ملک کے 80 اضلاع میں لوگوں کو غذائی تحفظ حاصل نہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کھانے پینے کی اشیاء کے معیار اور ملاوٹ سے متعلق پریشان کن اعدادوشمار کیساتھ اپنی تشویش ظاہر کرچکی ہے۔
معیار کے ذمہ دار وفاقی ادارے کا کہنا ہے کہ اس کا دائرہ اختیار پبلک اشیاء کا سٹینڈرڈ دیکھنے تک محدود ہے جبکہ کھلی اشیاء کی چیکنگ مقامی سطح پر ایڈمنسٹریشن کی ذمہ داری ہے مقامی ایڈمنسٹریشن کے پاس یہ سب دیکھنے کیلئے مجسٹریسی سسٹم تھا جسے جنرل (ر) مشرف کے دور میں ختم کر دیاگیا اور بعد میں آنیوالی حکومتوں نے اس دور کے تکنیکی مہارت سے عاری فیصلے کو سینے سے لگا رکھا ہے اس سارے منظر نامے میں شہری ذمہ دار دفاتر کی جانب سے معاشی استحکام کے دعوؤں پر کس طرح مطمئن ہوسکتے ہیں۔ ایک شہری اگر ٹماٹر100 روپے کلو خرید رہا ہو اور سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں یہ آجائے کہ گرانی کنٹرول میں ہے تو وہ کس طرح اس پر اطمینان کا اظہار کرسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرکز اور صوبوں کی حکومتیں مہنگائی پر قابو پانے ملاوٹ کی روک تھام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کریں تاکہ عام شہری کو ریلیف مل سکے اور وہ اکانومی سے متعلق خوش کن اعداد وشمار پر واقعی میں خوشی محسوس کرے۔

ٹریفک کے خصوصی انتظام کی ضرورت

صوبائی دارالحکومت کے گنجان آباد علاقوں ڈبگری گارڈن اور رامداس میں دوپہر کے بعد ٹریفک کا دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ چاروں اطراف سے کلینکس اور لیبارٹریوں کو آنیو الے مریض مقررہ وقت پر معائنے اور ٹیسٹ کیلئے نہیں پہنچ پاتے واپسی پر بھی اسی طرح کی صورتحال خصوصاً سرجری سے گزرنے والوں کیلئے انتہائی اذیت ناک ہوتی ہے۔ ٹریفک کے اس بے ہنگم دباؤ کا اثر قریب کی رابطہ سڑکوں پر بھی ہوتا ہے۔ یہ مشکل وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اب پشاور میں ریپڈبس منصوبے پر کام بھی شروع ہونے والا ہے ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو اذیت ناک صورتحال سے نکالنے کیلئے پلان ترتیب دیاجائے اس سب کیلئے پہلے مرحلے پر سینئر حکام کو اچانک آن سپاٹ مشکلات خود دیکھنا ہوں گی بصورت دیگر زبانی کلامی منصوبے کبھی عملی شکل میں فائدہ مند نہیں ہوتے۔