بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / قومی اسمبلی میں لینڈ ریفارمز بل پیش

قومی اسمبلی میں لینڈ ریفارمز بل پیش

اسلام آباد۔ قومی اسمبلی میں لینڈ ریفارمز بل’’باز تقسیمی اصلاحات اراضی بل2017‘‘ پیش ، بل پر اپوزیشن جماعتیں تقسیم ہو گئیں،اراضی اصلاحات بل کی ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کی حمایت جبکہ حکومت اور پیپلز پارٹی نے مخالفت کی،پینل آف چیئر محمود بشیر ورک نے بل مزید غور و خوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔

بل کے محرک ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بڑا افسوس ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کے لوگ آج اپنے ہی قائد کی پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں،انگریزوں کے زمانے میں لاکھوں ایکڑ اراضی سے کچھ لوگوں کو نوازا گیا تھا مگر اب وقت آ گیا کہ زمینوں کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے،یہ بل انتخابی اصلاحات کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

لینڈ ریفارمز نہ ہوئیں تو جمہوریت مستحکم نہ ہو گی، ذاتی مفادات کی خاطر بل کی مخالفت کی جا رہی ہے،پیپلز پارٹی کے اعجاز جاکھرانی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ لینڈ ریفارمزکا اختیار صوبوں کے پاس ہے،ہمیں اس حوالے سے قانون سازی نہیں کرنی چاہیے۔منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے ایس اے اقبال قادری نے زرعی اراضی کی منصفانہ تقسیم کیلئے اقدامات کے انتظام کا بل’’باز تقسیمی اصلاحات اراضی بل 2017‘‘پیش کیا۔بل پر حکومت کی جانب سے وزیر مملکت کیڈڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ لینڈ ریفارمز پہلے بھی کی گئی مگر وہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئیں،ابھی معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔

اس لئے اس بل کو نہ لیا جائے اورنہ ہی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے۔پیپلز پارٹی کے رکن اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ لینڈ ریفارمز کا اختیار صوبائی حکومتوں کے پاس ہے، اس لئے ہمیں اس بل کو نہیں لینا چاہیے،بار بار اس ایوان میں کہا جاتا ہے کہ وڈیرے اس ملک کو صحیح سمت میں نہیں چلنے دیتے،خدا را اس مائنڈ سیٹ سے باہر نکلا جائے۔ پیپلز پارٹی کے نواب یوسف تالپور نے کہا کہ بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے، ہمیں اس بل پر شدید تحفظات ہیں، ہم اپنے تحفظات کمیٹی کے سامنے رکھیں گے۔

تحریک انصاف کی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اس ملک میں اس سے پہلے تین لینڈ ریفارمز ہوئیں، پہلے ہمیں ان کا جواب دیا جائے،لینڈ ریفارمز سے سول ملٹری بیورو کریسی کو زمینیں بانٹیں گئیں، مگر غریب کسانوں کو کچھ نہ دیا گیا،اس موقع پر پینل آف چیئر چوہدری محمود بشیر ورک نے ڈاکٹر شیریں مزاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لینڈ ریفارمز کے ذریعے سول ملٹری بیورو کریسی کو زمین کی تقسیم کی کوئی مثال دے جس پر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ آپ میرے ساتھ راجن پور چلیں میں آپ کو تمام ثبوت دوں گی کہ کن کن لوگوں کو زمینیں بانٹیں گئیں۔

اس موقع پر بل کے محرک ایس اے اقبال قادری نے کہا کہ یہ بل آئین کے عین مطابق پیش کیا گیا ہے، بل کی مخالفت کرنے والے ایک دفعہ آئین پڑھ لیں، قانون میں کہیں بھی نہیں لکھا گیا کہ جو معاملہ سپریم کورٹ میں ہو ہم اس میں قانون سازی نہیں کر سکتے۔ تحریک انصاف کے اسد عمر نے کہا کہ ہم بل کی حمایت کرتے ہیں،بل کی مخالفت کرنے والوں کو اگر بل میں کوئی خامی نظر آتی ہے تو وہ کمیٹی میں چلا جائے اور ٹھوس دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کرے، کمیٹی کے پاس اختیار ہے کہ وہ بل میں ترامیم کر سکتی ہے ، یہ بل انتہائی ضروری ہے،اس لئے اس کی مخالفت نہ کی جائے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ بڑا افسوس ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کے لوگ آج اپنے ہی قائد کی پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں،انگریزوں کے زمانے میں لاکھوں ایکڑ اراضی سے کچھ لوگوں کو نوازا گیا تھا مگر اب وقت آ گیا کہ زمینوں کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے،یہ بل انتخابی اصلاحات کی سب سے بڑی ضمانت ہے،لینڈ ریفارمز نہ ہوئیں تو جمہوریت مستحکم نہ ہو گی، ذاتی مفادات کی خاطر بل کی مخالفت کی جا رہی ہے۔پیپلز پارٹی کے غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ ایم کیو ایم نے یہ بل الیکشن نزدیک آتے ہی سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔