بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ڈینگی روک تھام ٗحکومتی اقدامات ناکافی قرار

ڈینگی روک تھام ٗحکومتی اقدامات ناکافی قرار


پشاور۔پشاورہائی کورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی کی روک تھام کے لئے خیبرپختونخواحکومت کے اقدامات کوناکافی قرار دیتے ہوئے اس پرعدم اطمینان کا اظہار کیاہے اورضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پرڈینگی کی روک تھام کے لئے اقدامات کریں عدالت عالیہ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس اعجازانور پرمشتمل دورکنی بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز سیف اللہ محب ایڈوکیٹ کی جانب سے دائررٹ کی سماعت کے دوران جاری کئے ۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنرپشاوراورسیکرٹری صحت اورڈی ایچ او عدالتی احکامات پرعدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے اب تک کی کارکردگی رپورٹ عدالت میں پیش کی تاہم فاضل بنچ نے ان کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا اس موقع پرسیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ ڈینگی وائرس کے مکمل خاتمے کے لئے صوبائی حکومت کو تین سے پانچ سال درکار ہیں جس پرفاضل بنچ نے حکومتی کارکردگی کوغیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے احکامات جاری کئے کہ ڈینگی کی روک تھام کے لئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کئے جائیں اورہسپتالوں کو پلیٹیلٹس کاؤنٹ مشینیں فراہم کی جائیں۔

عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے متعلقہ حکام کو پشاوریونیورسٹی کادورہ کرنے اوروہاں ڈینگی کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنے اوریونیورسٹیوں کے وائس چانسلرزکے ساتھ مل کرطلباء میں اس حوالے سے آگاہی کے لئے بھی اقدامات کی ہدایات جاری کیں بعدازاں سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی گئی واضح رہے کہ سیف اللہ محب ایڈوکیٹ رٹ میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ ریپڈبس سروس کے لئے یونیورسٹی روڈ پرجگہ جگہ کھدائی کی گئی ہے جہاں جگہ جگہ پانی کھڑاہے اوریہ پانی کے ذخائرڈینگی کے مچھروں کے بہترین افزائش نسل کے مقامات بنے ہوئے ہیں جبکہ صوبائی حکومت اورضلعی انتظامیہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے اورتہکال اورآس پاس کے علاقوں میں سینکڑوں افراد ڈینگی سے متاثرہوچکے ہیں اور درجنوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ان کے لئے کوئی سہولیات بھی میسرنہیں ہیں چند بسترمختص کررکھے ہیں جہاں ادویات بھی میسرنہیں جبکہ مختلف علاقوں میں سپرے تو کیاجارہاہے تاہم غیرمعیاری ادویات کے استعمال کے باعث سپرے سے کوئی اثرنہیں پڑرہا ہے لہذاصوبائی حکومت اس جانب توجہ دے اورڈینگی پرقابوپانے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔