بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / آربی ٹی منصوبہ اور خدشات

آربی ٹی منصوبہ اور خدشات


یونیورسٹی روڈ کے اطراف جاری تعمیراتی کاموں نے اس سڑک کو آمد ورفت کا ذریعہ بنانے والے شہریوں کو جس پریشانی سے دوچار کیا ہے وہ تو آئندہ چند ہفتوں میں مذکورہ کام مکمل ہونے پر ختم ہو جائے گی لیکن حالیہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اصل تشویش یہ پیدا ہو رہی ہے کہ پشاور کے شہری ٹریفک روانی میں تعطل کے حوالے سے جس زیادہ بڑی اور گھمبیر نوعیت کی پریشانی میں مبتلا ہونے والے ہیں اس کا مقابلہ کیسے ہو گا، اس پریشانی کا سامنا انھیں ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے ( آر بی ٹی) پر تعمیراتی کام کے آغاز سے اختتام تک کرناپڑ ے گا،یہ حقیقت اپنی جگہ غیر متنازعہ اور مسلمہ ہے کہ آر بی ٹی منصوبہ پشاور کے عوام کی فلاح کا منصوبہ ہے اور اس کی تکمیل سے پشاور کے شہریوں کو بھی نہ صرف وہ سفری سہولیات میسر آسکیں گی جو اس وقت لاہور ، اسلام آباد اور ملتان میٹرو بس سروس سے استفادہ کرنے والوں کو میسر آرہی ہیں بلکہ اس منصوبے سے پشاور میں ٹریفک کے مسائل کم کرنے میں بھی کافی مدد ملے گی، مسئلہ یہ آرہا ہے کہ صوبائی حکومت آر بی ٹی منصوبے کے تینوں فیزز پر بیک وقت کام شروع کروا رہی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ یہ کام چھ ماہ یعنی آنے والے عام انتخابات سے پہلے پہلے مکمل ہو، ماہرین کا خیال ہے کہ تینوں فیزز پر کام بیک وقت شروع تو ہو جائے گا لیکن اس کام کو چھ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کر نا ناممکن ہے۔

، آر بی ٹی پراجیکٹ کے تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ جی ٹی روڈ پر چمکنی موڑ سے سوری پل تک کا ،دوسرا مرحلہ قلعہ بالا حصار کے ساتھ ساتھ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے عقبی روڈ سے خیبر بازار، شعبہ بازار، ریلوے مال گودام روڈ، سنھری مسجد روڈ سے ہوتا ہوا امن چوک ( یونیورسٹی روڈ ) تک کا اور تیسرا مرحلہ امن چوک سے براستہ یونیورسٹی روڈ حیات آباد باغ ناران تک کاہے ،اب چشم تصور سے بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان تینوں مراحل پر بیک وقت کام کا آغاز ہونا کیا رنگ لا ئے گا،آر بی ٹی کے تینوں فیزز اس روٹ پر آرہے ہیں جو نہ صرف جنرل بس سٹینڈ سے حیات آباد تک آنے جانے والی مسافر بسوں اور ویگنوں کا مرکزی روٹ ہے بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں آنے جانے والی ٹریفک کواسی روٹ کے کسی نہ کسی حصے سے گزرنا پڑتا ہے،اس منصوبے کی تعمیر کے دوران متبادل راستے کے طور پر چارسدہ روڈ، جی ٹی روڈ اور کوہاٹ روڈ کو حیات آباد سے ملانے والے’’ رنگ روڈ‘‘ کے جنوبی حصے کا استعمال اس لئے فائدہ مند نہیں ہو سکتاکہ کہ یہ روڈ شہر کے اندرونی علاقوں سے پرے پرے گزرتا ہے یوں اگر شہر کے کسی ایک حصے سے اندرونی علاقوں وغیرہ تک آمدورفت مقصود ہو تو گاڑیوں کو لازماََ انھی راستوں سے گزرنا پڑے گا جو آر بی ٹی منصوبے کی زد میں آرہے ہیں ، تعلیمی اداروں کی اکثریت یونیورسٹی روڈ ، ورسک روڈ اور پشاور صدر کا علاقے میں ہے جن میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات اور اساتذہ کیلئے رنگ روڈ متبادل راستہ نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح کاروباری مراکز اور دفاتر کی اکثریت بھی انھی سڑکوں کے قرب و جوار میں ہے جو آر بی ٹی منصوبے سے متاثر ہوں گی،ان مراکز اور دفاتر میں کام کرنے والے شہریوں کیلئے بھی رنگ روڈمتبادل شاہراہ کی حیثیت اختیار نہیں کر سکتا،ادھر رنگ روڈ کا شمالی حصہ ابھی نامکمل ہے، اس حصے کے سیکشنز میں سے صرف چارسدہ روڈ سے پجگی روڈ تک سیکشن مکمل ہوا ہے جبکہ پجگی روڈ سے ورسک روڈ اور ورسک روڈ سے ناصر باغ روڈ سیکشنز کی تکمیل ابھی باقی ہے لہٰذا شہر کے شمالی جانب تو کوئی ایسی مرکزی شاہراہ ہے ہی نہیں جسے آر بی ٹی منصوبے پر تعمیراتی کام کے دوران متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکے،مطلب یہ ہوا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے دوران انھی شاہراہوں کے ایک ایک حصے کو جو آر بی ٹی منصوبے کے راستے میں آرہی ہیں یا ان شاہراہوں سے متصل ضمنی چھوٹی سڑکوں کو ٹریفک کیلئے متبادل راستوں کے طور پر استعمال کیا جائے گا،اب یہ اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں کہ اس صورت میں سارے شہر میں ٹریفک کی روانی کس بری طرح متاثر ہو گی اور شہریوں کوکس قدر شدید نوعیت کی مشکلات سے دوچار ہو نا پڑے گا، نگران حکومت قائم ہو جاتی ہے اور عام انتخابات کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔

تو آر بی ٹی منصوبے سے جڑے ٹریفک مسائل کی سنگینی مزید بڑھ جائے گی جو پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر منفی طور پے اثر انداز ہوگی،بہتر یہی ہوگا کہ آر بی ٹی منصوبے کے تینوں فیز پر بیک وقت کام کا آغاز کرنے کے بجائے صرف ایک فیزپر کام شروع کیا جائے اور تمام توانائیاں اس ایک فیز کی تکمیل پر خرچ کی جائیں اس طرح ٹریفک کی روانی میں خلل نسبتاً کم طوالت تک محدود رہے گا ، متبادل ٹریفک روٹ کا انتظام کرنا اور اسے کنٹرول کرنا آسان ہوگا اور اس فیز کی جلد تعمیر بھی ممکن ہو سکے گی، ایک فیز کی تکمیل بھی اہل پشاور کو یہ اطمینان دلانے کیلئے کافی ہو گی کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت عوامی فلاح کے میگا پراجیکٹس مکمل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور یہ اطمینان پی ٹی آئی کے مفاد میں رہے گا۔