بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمی کرکٹ کی واپسی!

عالمی کرکٹ کی واپسی!

پاکستان بین الاقوامی کرکٹ سے اب اتنے عرصے تک محروم رہا ہے کہ اس کے نوجوانوں کو اپنی سرزمین پر فتح کا ذائقہ ہی بھول چکا ہے۔ کھیل کے میدان اور کرکٹ سٹیڈیم اب شاید ہی کبھی روشن ہوتے ہیں اور وہ اسٹینڈز جو کبھی شائقین اور پرچموں سے بھرپور ہوتے تھے، خالی نظر آتے ہیں تو اِس کی وجہ یہ ہے کہ امن و امان کی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے عالمی کھلاڑی پاکستان قدم رنجہ فرمانے سے ڈرتے ہیں۔ اپنے ملکی شائقین کی جانب سے حوصلہ افزائی کی امید میں ہمارے کھلاڑیوں کو پورا سال دوسرے ممالک جانا پڑتا ہے۔ وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی ہوم سیریز کے ملک میں انعقاد کی خبریں آتی رہتی ہیں مگر کوئی بھی منصوبہ پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ آٹھ برس بعد ’’پاکستان نے ’’آزادی کپ 2017ء‘‘ کی میزبانی کرکے ثابت کردیا ہے کہ سیکورٹی خدشات باقی نہیں رہے اور پاکستان جس دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر ہے اِس میں کامیابی کیلئے اُسے عالمی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ یہی سبب ہے کہ ’آزادی کپ‘ سے توقعات وابستہ ہیں اور یقیناًاس سیریز سے بین الاقوامی کرکٹ کی پاکستان میں واپسی ہو گی اور تینوں ’’ٹی ٹوئنٹی میچز‘‘ لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جا رہے ہیں۔ پاکستان آنے والی مہمان ٹیم میں ’ٹی ٹونٹی‘ کے ماہر کھلاڑیوں کی ایک اچھی ورائٹی موجود ہے۔ فاف ڈو پلیسی کی قیادت میں اس ٹیم میں دنیائے کرکٹ کے بڑے ستارے بشمول ہاشم آملہ‘ جارج بیلی‘ ڈیرن سیمی‘ عمران طاہر‘ تمیم اقبال‘ پال کولنگ ووڈ‘ بین کٹنگ‘ گرانٹ ایلیئٹ‘ سیموئل بیڈری‘ ڈیوڈ ملر‘ مورن مورکل‘ تھیسارا پیریرا اور ٹم پین شامل ہیں۔ مہمان ٹیم بیٹنگ کے شعبے میں کافی مضبوط ہے‘ کیونکہ اس میں ماہر بلے باز اور پانچ آل راؤنڈرز شامل ہیں۔ ہاشم آملہ‘ ڈیوڈ ملر اور تمیم اقبال وہ چند بڑے نام ہیں جو لاہور کی بیٹنگ وکٹ کا بھرپور استعمال کریں گے۔

اپنے شہرِ پیدائش میں پہلی بار کھیلنے والے عمران طاہر بلاشبہ اس جانب کے سب سے تباہ کن باؤلر ہیں مگر ٹیم میں جنوبی افریقہ کے مورن مورکل کو چھوڑ کر ایک حقیقی فاسٹ باؤلر کی کمی ہے۔ پاکستان کی ٹی ٹونٹی ٹیم بھی فخر زمان‘ سرفراز‘ بابر اعظم اور شعیب ملک جیسے ماہر بلے بازوں کے ساتھ اتنی ہی خطرناک دکھائی دے رہی ہے۔ شاداب خان اور رومان رئیس جیسے نوجوانوں کو شہزاد کے ساتھ کھیل میں اہم کردار حاصل ہوگا جو کافی عرصے سے متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں۔ پاکستان گیند کے ساتھ جادو جگانے کیلئے محمد عامر اور حسن علی پر بھروسہ کرے گا۔ عماد وسیم‘ عامر یامین اور نواز جیسے آل راؤنڈرز تجربے میں نسبتاً کم عمر ہیں مگر شاندار کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ حفیظ اور وہاب ریاض کو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے باہر رکھ کر عمر امین اور سہیل خان کیلئے جگہ بنائی گئی ہے۔ افسوسناک بات ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور ممکنہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ ایک طویل عرصے تک معطل رہا ہے‘ یہ خشکی دوہزارپندرہ میں زمبابوے کے دورۂ پاکستان کے ساتھ کچھ دیر کیلئے ختم تو ہوئی مگر یہ دورہ مزید ہلچل مچانے میں اور دنیا کی دیگر ٹیموں کو پاکستان آنے پر قائل کرنے میں ناکام رہا‘ اس دفعہ حالات سازگار لگ رہے ہیں کیوں ’آئی سی سی‘ پہلے سے کہیں زیادہ دلچسپی لیتی دکھائی دے رہی ہے‘ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے سات ممالک کے چودہ کھلاڑی اس سیریز کا حصہ ہیں جبکہ آئی سی سی کے رچی رچرڈسن میچ ریفری کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

ویسے تو سیریز کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہے مگر ایک پاکستانی شائق کیلئے اس سیریز کی اہمیت ہار جیت سے کہیں زیادہ ہے۔ آٹھ سال میں پہلی بار پاکستان ایک اہم بین الاقوامی سیریز کی میزبانی کر رہا ہے جو خود ایک بہت بڑی جیت ہے۔ اگر سب کچھ صحیح رہا‘ تو اگلے چند ماہ میں سری لنکا اور ویسٹ انڈیز پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔ اس سیریز پر تمام نظریں جمی ہیں اور اس سے ہماری تمام امیدیں وابستہ ہیں۔ جاری ٹی ٹونٹی سیریز ملک میں مزید پی ایس ایل میچز کے انعقاد کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہیں۔ گزشتہ سیزن میں ہم نے دیکھا کہ اہم کھلاڑیوں نے لاہور میں لیگ کا فائنل کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔ امید ہے کہ اگلے سیزن میں ملک میں مزید میچز کا انعقاد ہوگا اور زیادہ تعداد میں غیر ملکی کھلاڑی اس ٹورنامنٹ کا حصہ بنیں گے۔ بین الاقوامی کرکٹ کی ملک واپسی کا مرحلہ تیز تر کرنے کیساتھ ساتھ یہ سیریز مقامی کھلاڑیوں کو اپنے میدانوں پر بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ حاصل کرنے میں بھی مدد دے گی۔ یہ نوجوان اپنے میدانوں کی چمک دھمک اور جوش و جذبے کے مستحق ہیں‘ یہ تجربہ اعتماد میں بھرپور اضافہ کرتا ہے۔ حال ہی میں ایک بڑا ’’آئی سی سی‘‘ ٹائٹل جیتنے کے بعد پاکستانی ٹیم مجموعی طور پر اچھا کھیل پیش کرنے کیلئے پہلے سے کہیں زیادہ پرعزم ہے۔

یہ اہم ہے کہ پاکستان اپنے مکمل جذبے کے ساتھ کرکٹ کھیلے تاکہ دنیا کو بے خوفی اور بلند ہمتی کا پیغام جائے۔ حال ہی میں ایک لیگ سیزن کھیل چکنے کے بعد امید ہے کہ کھلاڑی اس بڑی سیریز کیلئے فارم میں ہوں گے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کروانا ہوگا کہ اس میدان میں ہماری بالادستی کو زنگ نہیں لگا ہے اور بحیثیت ملک و قوم ہم مزید کرکٹ کیلئے بے تاب ہیں مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو ایسی کرکٹ کھیلنی ہوگی جو اس نے پہلے کبھی نہیں کھیلی‘ ویسی کرکٹ جس میں ہمارے شاندار ماضی اور ہمارے تابناک مستقبل کی جھلک دکھائی دے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عمارہ قیوم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)