بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / وزیراعظم کا دو ٹوک اعلان

وزیراعظم کا دو ٹوک اعلان

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان پر پابندی یا فوجی امداد میں کمی خود امریکہ کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو اپنے خصوصی انٹرویو میں وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فوجی امداد میں کٹوتی کی صورت میں ہم چین اور روس سے ہتھیار خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کے حوالے سے نئی پالیسی اور پاکستان سے متعلق غیر ذمہ دارانہ دھمکی آمیز بیان کا ہر سطح پر مسکت جواب دیاگیا ہے۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد سفیروں کی کانفرنس طلب کی گئی جس کے اختتام پر خارجہ پالیسی کے خدوخال میں تبدیلی کا عندیہ بھی دیاگیا۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر گرا رہا ہے۔ بے بنیاد الزام تراشی پر مشتمل امریکی صدر کا بیان افغانستان میں قیام اور فوجیں بڑھانے کا جواز ہی گردانا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان میں تعینات افغان سفیرعمر زخیلوال خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ افغان صورتحال کے باعث پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے وہ امن کو پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں قرار دیتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہت سے مسائل ہیں اور تعلقات کو مفاہمت کے ذریعے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ امریکی سینیٹر ٹم کین کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستانی افواج اور عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہیں۔ نائن الیون کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانی افواج اور عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہیں تاہم جیسا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے پابندیاں سارے عمل کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔جہاں تک افغانستان کے مسئلے کا تعلق ہے تو امریکہ کو خود حقائق و شواہد کا ادراک کرنا ہوگا پاکستان کو موثر خارجہ حکمت عملی کے ساتھ اپنی معیشت کو عملی طور پر خودانحصاری کی منزل پر لانا ہوگا ہمیں اپنی صنعت و پیداوار کو فروغ دے کر درآمدات پر سے انحصار ختم کرنا ہوگا تاکہ کسی کی کوئی پابندی ہمیں کسی طور متاثر نہ کرسکے سیاسی قیادت کو اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود اس سب کیلئے سر جوڑ کر موثر اورقابل عمل حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی۔

جبہ ڈیم سے پانی کی فراہمی؟

ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا سیکرٹریٹ فدا محمد وزیر کا کہنا ہے کہ جبہ ڈیم سے پشاور کو 37 فیصد پانی ملے گا۔ گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے سی ایس فاٹا سیکرٹریٹ کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی مختلف ایجنسیوں میں چھوٹے پیمانے پر آبی ذخائر کو ترجیح دی جارہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں صاف پانی کی فراہمی انتہائی ناگزیر ہوچکی ہے۔ اس مقصد کیلئے باڑہ اور اب جبہ ڈیم کا عندیہ دیا جارہا ہے۔ یہ سب اسی صورت قابل اطمینان ہوسکتا ہے جب یہ منصوبے عملی شکل میں آپریشنل ہوجائیں اس وقت ضرورت پانی کے پائپوں کو محفوظ بنانے ان کی دیکھ بھال کیلئے سسٹم وضع کرنے اور زنگ آلود پائپوں کو تبدیل کرنیکی ہے ضرورت تہکال کی طرح کئی کئی سال صفائی سے محروم رہنے والی پانی کی ٹینکیوں کو صاف کرنیکی بھی ہے۔ اس کیساتھ شہر میں لگے فلٹریشن پلانٹس کو آپریشنل رکھنے کیلئے اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ ہمیں طویل المدتی منصوبوں پر اکتفا کرنیکی بجائے موجودہ انفراسٹرکچر سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنیکی روش اپنانا ہوگی تاکہ فوری ریلیف ممکن ہو۔