بریکنگ نیوز
Home / کالم / تب اوراب

تب اوراب

سابق صوبہ سرحد اور موجودہ کے پی کے میں 1970 تک تعلیمی امتحانات کی صورت حال کچھ یوں تھی کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے تقریباً1966تک اول ادنیٰ سے ساتویں جماعت تک کے امتحانات سکول انتظامیہ یا محکمہ تعلیم کی ضلعی انتظامیہ لیتی۔ آٹھویں جماعت کا امتحان صوبائی محکمہ تعلیم لیتا تھا۔ یہ نظام بہترین تھا۔ چوتھی جماعت تک ( جسے پرائمری کہا جاتا تھا) کے امتحانات تحصیل کی سطح پر اے ڈی آئی ہر پرائمری سکول میں جا کر لیتا تھا اور نتیجہ ضلعی دفتر میں تیار ہو کر ہر پرائمری سکول کی لاگ بُک میں لکھ دیا جاتا جسے 31 مارچ کو ہر پرائمری سکول کا اول مدرس سناتا تھا۔یوں ایک عمدہ ٹیم اگلی کلاسوں میں چلی جاتی تھی۔چوتھی کے امتحان کے لئے اساتذہ بچوں کو بہت اچھی طرح تیار کرتے تھے تا کہ اُن کا نتیجہ بہترین آئے۔ اگر نتیجہ کمزور ہوتا تو اول مدرس کی سر زنش ہوتی تھی۔ پھر کچھ تبدیلیاں آئیں اور پرائمری کو پانچویں جماعت تک بڑھا دیا گیا اور امتحانات لوکل سکول میں ہی ہوتے اور نتائج وہی 31 مارچ کو سنائے جاتے۔ آٹھویں کا امتحان چونکہ پورے صوبے کی سطح پر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے لیا جاتا تھا اس لئے اس کا نتیجہ اپریل کے آخر تک آ جاتا اور مئی میں نئی کلاسیں شروع ہو جاتی تھیں۔وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ طلباء کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے نتائج میں دیر ہونے لگی اس لئے آٹھویں جماعت کے امتحان کو بھی لوکل کر دیا گیا۔البتہ دسویں کا امتحان پہلے پشاور یونیورسٹی اور بعد میں پشار تعلیمی بورڈ کے ذمہ ہو گیا۔

یہاں بھی طلباء کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے پشاوربورڈ پر کام کا بوجھ بہت زیادہ بڑھا تو صوبے کے مختلف ڈویژنوں میں نئے تعلیمی بورڈ بنا دیئے گئے تاکہ نتائج میں زیادہ وقت نہ لگے۔مگر پھر بھی ان بورڈوں میں بھی طلباء کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے اور ساتھ ہی نوویں اور گیارویں کے امتحانات بھی بورڈ کے حوالے ہو جانے کی وجہ سے نتائج میں دیر ہونے لگی ہے اور سردی اور گرمی کے سکولوں کالجوں میں تعلیمی سر گر میاں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میٹرک کے امتحانات کا نتیجہ جولائی یا اگست میں آئے تو اگلی جماعتوں میں داخلے تقریباً ستمبر کے آخر تک مکمل ہوتے ہیں سردیوں کے سکولوں کالجوں میں دسمبر تک بچوں کو صرف تین ماہ پڑھائی کو ملتے ہیں اور مارچ میں دوبارہ پڑھائی شروع ہوتی ہے جس کے لئے صرف دو ماہ یعنی مارچ اور اپریل پڑھائی کو ملتے ہیں اور مئی میں عام طور پر سالانہ امتحانات کا انعقاد ہو جاتا ہے۔ یعنی سردیوں کے تعلیمی اداروں کو صرف پانچ ماہ پڑھائی کو ملتے ہیں جس میں کورس کو ختم کرنا مشکل ترین ہوتاہے۔ تعلیمی بورڈوں پر میٹرک اور انٹر کے علاوہ اوربھی بہت سی فیکلٹیز کے امتحانات کا بوجھ ہوتا ہے اور یہ بورڈ سال کے بارہ مہینے مسلسل کام میں لگے رہتے ہیں مگر پھر بھی امتحانات کے نتائج میں دیر ہو جاتی ہے۔

آٹھویں کا امتحان ڈیپاٹمنٹ کی سطح پر منعقد کرنے میں اتنی دشواری آرہی تھی کہ مجبوراً اس کو سکولوں کی سطح پر لینے کا فیصلہ ہو ا تھا۔ اب حکومت کی طرف سے ایک اور شوشا چھوڑا گیا ہے کہ پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات سیکنڈری بورڈ کی سطح پر لئے جائیں گے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ حکومتیں باہر سے آئی ہوئی امداد کے تناظر میں فیصلے کرتی ہیں‘جو بورڈ بڑی مشکل سے موجودہ ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں وہ کیسے اتنی بڑی تعداد کوسنبھال سکیں گے جو لاکھوں میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جس بھی کسی این جی او نے یہ تجویز دی ہے یا جس بھی حکومت نے اس کے لئے فنڈ مہیا کئے ہیں اُس کا مقصد کسی بھی طرح ہمارے نظام کی بہتری نہیں ہے۔ اگر وہ پہلے سٹڈی کرتے تو اُنہیں وہ وجوہات دیکھنے چاہئے تھیں کہ پہلے یہ امتحانات کیوں سکولوں کو دیئے گئے‘ اب تو سکولوں میں پانچویں اورآٹھویں کے طلباء کی تعداد اُس وقت سے دس گنا زیادہ ہو چکی ہے۔

تو کیسے بورڈ ان امتحانات کا انعقاد کر سکیں گے۔جو بھی بیرونی امداد ہمیں ملتی ہے اُس کے مقاصد پر بھی غورکرنا چاہئے اور اپنے معروضی حالات کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے‘ جب بھی کوئی سکول یا کالج کی سطح پر تبدیلی لانی ہو تو اس میں سکولوں اور کالجوں کی انتظامیہ اور خاص طور پر ان کی یونینز کے عہدیداروں کو بھی شامل کریں اور اُن کے مشوروں سے کوئی قدم اٹھائیں اسلئے کہ عملی طور پر کسی بھی کام کو سرانجام دینا ان ہی لوگوں کا کام ہے اور یہ لوگ بہت مفید مشورہ دے سکتے ہیں‘ ہم نہیں سمجھتے کہ پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانات بورڈ کے حوالے کرنے سے کوئی بہتری آ سکتی ہے۔