بریکنگ نیوز
Home / کالم / برداشت عنقا ہو چکی ہے

برداشت عنقا ہو چکی ہے

بزرگ کہہ گئے ہیں کہ عیش میں یا د خدا سے غافل نہیں ہونا چاہئے اور طیش میں خوف خدا کونہیں بھولنا چاہئے افسوس صد افسوس ہم بزرگوں کے اس کہے پر عملدرآمد نہیں کر رہے لہٰذا ہمارا معاشرہ ہر وقت تناؤ کا شکار نظر آ رہا ہے اگلے روز سرگودھا کے بعض وکلاء وہاں کی قانون اسسٹنٹ سے کسی بات پر نالاں ہو گئے ہیں اور اپنے غصے کااظہار انہوں نے یوں کیا کہ اس خاتون اے سی کی عدالت کا باہر سے تالا لگوا کر اسے عدالت کے کمرے کے اندر مقید کر دیا اب کوئی ان سے یہ پوچھے کہ بھلا کسی بات پر خفگی کا اظہار کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے ؟ کیا ان جیسے پڑھے لکھے طبقے کو اس قسم کی حرکت کرنا زیب دیتا ہے ؟ اگر تو ان کو اس خاتون افسر سے کچھ گلہ تھا تو وہ اس کے سر پر بیٹھنے والے دو سینئر افسران یعنی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس جا سکتے تھے، کمشنر سرگودھا کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے تھے نہ جانے من حیث القوم ہم میں برداشت کا مادہ کیوں عنقا ہو گیا ہے ؟ ہر طبقے کی آج اس ملک میں اپنی علیحدہ یونین ہے جس کسی نے بھی اس ملک میں یونین بازی کی ریت ڈالی ہے اس نے یونین بنانے والوں کو یہ تو باور کرادیا کہ انہیں اپنے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے یونین بنانا ہو گی لیکن کاش وہ انہیں یہ بھی بتا دیتے کہ حقوق کے ساتھ کچھ فرائض بھی ہوتے ہیں کہ جن کا نبھانا بھی ضروری ہوتا ہے امریکہ کے ایک سابق صدر جان کینیڈی نے ایک مرتبہ خوب صورت جملہ کہا تھا کہ ہر امریکی یہ سوال کر رہا ہے کہ ملک نے میرے لئے کیا کیا ہے لیکن وہ اپنے ضمیر سے یہ بھی سوال کرے کہ اس نے اپنے ملک کو کیا دیا ہے

؟ وکلاء نے سرگودھا کے اے سی کے ساتھ جو سلو ک کیا اسے دیکھ کر ہمیں بادشاہ ظفر کا یہ خوب صورت شعر یاد آ گیا۔
ظفر آدمی اس کو نہ جانئے گا‘ ہو وہ کیا ہی صاحب فہم و ذکا۔۔۔ جس عیش میں یاد خدا نہ رہی‘ جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا ‘

کیااس ملک میں وکلاء کے ہاتھوں پولیس والے نہیں پٹے؟ کیا انہوں نے ججوں کی عدالتوں کے گیٹ نہیں توڑے؟ اس روش اور رجحان کو ترک کرنا ہو گا اس سلسلے میں سینئر وکلاء اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لاء کالجوں کے نصاب میں ایک خصوصی کتاب اس موضوع پر طلباء کو پڑھائی جائے کہ انہوں نے دوران پریکٹس عدالتوں میں کیسے کنڈکٹ کرنا ہے ؟ سینئر وکلاء کے ساتھ جونیئر وکلا بطور شاگرد کافی عرصے تک کام کرتے ہیں ان کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ان کے ذہن نشین یہ بات کرائیں کہ احتجاج کرنے کے تہذیب یافتہ راستے کون کون سے ہیں تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی جوڈیشنل افسروں‘ خصوصاًنچلی عدالتوں میں کام کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ اولاً تو اپنی عدالت کے اوقات کا ر کی سختی سے پابندی کریں ثانیاً وہ کسی بھی مقدمے کو زیادہ نہ لٹکائیں اور ہر صورت میں چھ ماہ کے اندر اندر اس کا فیصلہ کریں ثالثا وہ تمام وکلاء کوایک آنکھ سے دیکھیں اورجو ضابطہ اخلاق عدالت عظمی نے ان کے کنڈکٹ کے بارے میں وضع کیا ہوا ہے اس کی سختی سے پابندی کریں یہ بات طے ہے کہ جس طرح بدبو جلد پھیل جاتی ہے بالکل اسی طرح اگر کسی جوڈیشل افسر ساکھ اگر خراب ہو گی تو وکلاء کو فورا سے پیشتر اس کا پتہ چل جائے گا یاد رہے کہ ایک بدنام جوڈیشل افسر کی کوئی وکیل بھی دل سے قدر نہیں کرتا۔

اس کے علی الرغم اچھی شہرت رکھنے والے دیانتدار اور غیر جانبدار جوڈیشل افسر کے تمام وکلاء گن گاتے ہیں اور اس سے ڈرتے بھی ہیں اور دل و جاں سے اس کی عزت بھی کرتے ہیں بار اور بیچ سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان کسی بھی جھگڑے میں خواہ مخواہ دونوں فریقین کا کچھ نہ کچھ قصور ہوتا ہے یہ جھگڑے ہونے نہیں چاہیں کیونکہ ان کا عام پبلک پر بڑا اثر پڑتا ہے عرصہ دراز سے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ مقدمے کی کاروائی کے دوران جج صاحبان فی البدیہ بعض ایسے ریمارکس پاس کر دیتے ہیں کہ جن پر پھر میڈیا کو حاشیہ آرائی کرنے کا موقع ہاتھ لگ جاتا ہے اس لئے بزرگ وکلاء اورقانونی ماہرینی یہ بات بھی کہہ گئے ہیں کہ جج کو صرف اپنے تحریری فیصلے کے ذریعے بولنا چاہئے اس نصیحت میں ایک حکمت اور دانش پنہاں ہے اگر وہ دوران مقدمہ شعوری یا لا شعوری طور پر کوئی ریمارکس پاس کرے گا تو اس کے ذہنی رجحان کے بارے میں قبل از وقت اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا، یعنی دونوں طرف سے ایک دوسرے کیلئے احترام اور لحاظ پر مبنی رشتے کو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور تحمل اور برداشت کے ذریعے ہی قابل رشک مثال قائم کی جاسکتی ہے۔