بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اسلام آباد میں ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کی منظوری

اسلام آباد میں ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کی منظوری

اسلام آباد۔قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کیلئے وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی ، بل قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کردیا جائے گا،ملک بھر میں اس وقت 19نئے چھوٹے ڈیمز تعمیر کئے جارہے ہیں، داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ2022میں مکمل ہوگا، منصوبہ مکمل ہونے سے سالانہ 12.22ارب یونٹ بجلی پید ا ہوگی،گزشتہ 2سالوں کے دوران ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر عدالتوں میں 8229مقدمات چلائے گئے جن میں سے 4835 مقدمات کا فیصلہ ہوچکا ،اور198ملین روپے کے جرمانے عائد کئے گئے۔

ڈراپ ایکٹ کے قواعد کی خلاف ورزی پر گزشتہ 2سالوں میں978ایف آئی آرز درج کی گئیں،غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی جعلی ادوایات فروخت کرنے اور دیگر خلاف ورزیوں پر8840دکانیں سر بمہر کی گئیں۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں ارکان کے سوالوں کے جواب وفاقی وزراء سائرہ افضل تارڑ ،ریاض حسین پیرزادہ اور وزیر مملکت چوہدری جعفر اقبال نے دیئے۔رکن ثریا جتوئی کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ مالی سال 2013-14 میں زراعت کیلئے کسی ترغیب کا اعلان نہیں کیا گیا۔

2014-15 میں بھی کھادوں پر 14 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا لیکن کسی نظام کی عدم موجودگی کی وجہ سے سبسڈی پر عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ مالی سال 2015-16 میں کسان پیکج میں فاسفورس کھادوں پر 20 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا تھا۔ 12.5 ایکڑ زمین رکھنے والے کاشتکاروں کو کپاس اور چاول کے لئے 5000 روپے فی ایکڑ اور سبسڈی بھی فراہم کی گئی تھی۔

اس پیکج پر پنجاب نے عملدرآمد کیا۔ مالی سال 2016-17 میں 27.96 ارب روپے کی زرعی اعانت ڈی اے پی اور یوریا فرٹیلائزرز کے لئے مختص کی گئی۔ زرعی اعانت میں یوریا کے لئے 17.16 ارب روپے اور ڈی اے پی اور دیگر فاسفورس کھادوں کے لئے 10.80 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تاہم رقم میں تقریبا 39 ارب روپے تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ مالی سال 2017-18 کے لئے وفاقی حکومت نے 50 کلو گرام کے تھیلے پر 100 روپے کی نقد سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے اور مالی سال 2017-18 میں یوریا کی قیمت 1400 روپے فی تھیلا تک رکھی جائے گی۔

رکن شیخ صلاح الدین کے سوال کے جواب میں وزیرقومی صحت خدمات سائرہ افضل تارڑ نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ادویات کی تیاری کے دوران معیار کو یقینی رکھنا رجسٹریشن کے لئے ضروری پیرا میٹرز ہیں، انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لئے پاکستان میں غیر رجسٹرڈ ادویات کی روک تھام کے لئے اقدامات جاری ہیں۔ انسپکٹرز وقتا فوقتا مختلف ادویہ ساز کمپنیوں پر چھاپے مارتے ہیں اور انسپکشن کی جاتی ہے۔

عائشہ سید کے ضمنی سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کے لئے کابینہ نے منظوری دیدی ہے، ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کے لئے آئندہ اجلاس میں بل پیش کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2015 سے 2017 کے عرصہ کے دوران ملک میں ڈرگ ایکٹ 2012 اور ڈرگ ایکٹ 1976 کی خلاف ورزی پر عدالتوں میں 8229 مقدمات چلائے گئے جن میں صنعتکار پرچون فروش اور تھوک فروش بھی شامل ہیں۔

4835 مقدمات کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس سلسلے میں 198 ملین روپے کے جرمانے بھی عائد کئے گئے،ڈراپ ایکٹ کے قواعد کی خلاف ورزی پر گزشتہ 2سالوں میں978ایف آئی آرز درج کی گئیں،جنوری2015سے جون2017تک غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی جعلی ادوایات فروخت کرنے اور دیگر خلاف ورزیوں پر8840دکانیں سر بمہر کی گئیں۔رکن نفیسہ عنایت اللہ خٹک کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت چوہدری جعفر اقبال نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تاخیر کی بڑی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی ہے ڈیم کی تعمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے زمین کے حصول اور کالونیوں کی تعمیر پر کام جاری ہے پی سی ون کے تحت کام شروع ہونے کے بعد دس سال میں دیامر بھاشا ڈیم کام شروع کردے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں آبی وسائل ڈویژن نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ ملک بھر میں اس وقت 19نئے ڈیمز تعمیر کئے جارہے ہیں،جن میں پنجاب میں3،سندھ میں7،بلوچستان میں9ڈیمز کی تعمیر کا کام جاری ہے،یک اور سوال کے جواب میں آبی وسائل ڈویژن نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ2022میں مکمل ہوگا، منصوبہ مکمل ہونے سے سالانہ 12.22ارب یونٹ بجلی پید ا ہوگی۔رکن ثریا جتوئی کے سوال کے جواب میں وزیر برائے صحت وقومی خدمات سائرہ افضل تارڑ نے بتایا کہ ملک میں اس وقت مجموعی طور پر ایڈز کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 8074 ہے تاہم بہت سے ایسے مریض ہیں جو علاج تو کرانا چاہتے ہیں مگر رجسٹریشن سے گریزاں ہیں،وفاق میں 503 پنجاب میں 3878 سندھ میں 2521 کے پی کے میں 881 بلوچستان میں 291 کیسز رجسٹرڈ کئے گئے۔

ڈینگی کے حوالے سے حامد الحق کے سوال کے جواب میں سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں اس مرض پر قابو پانے کے لئے صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جس کے اچھے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ہم نے صوبہ کے پی کے حکومت کو بھی پیشکش کی تھی کہ اگر وہ ہماری مدد نہیں لینا چاہتے تو ہم زبردستی نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر سپیکر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔