بریکنگ نیوز
Home / کالم / کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

ایسا تو نہیں کہ سیاسی زعما چھٹیوں پر چلے گئے ہیں وہ یہیں ہیں اور مقدور بھر اپنے ہونے کا ثبوت بھی دیتے ہیں لیکن پھر بھی یار لوگوں کو لگتا ہے جیسے اب انکے لہجے میں وہ گھن گرج نہیں ہے جو ان کا خاصا رہی ہے۔ شام سمے جو چیخم دھاڑ نجی ٹی وی چینلز پر ہوتی ہے ہونے کو اب بھی ہے مگراب ناظرین کے ہاتھ میں ریموٹ کا عمل دخل بڑھ گیا ہے۔ کہنے کو اب بھی ہر چینل کہہ رہا ہوتا ہے ہمارے ساتھ رہئے ،کہیں جائیے گامت۔ مگر جن کے ہاتھ میں ریموٹ ہوں وہ کب کسی کی سنتے ہیں۔ سو چینل چینل گھومتے ہیں جن کے ہاتھ میں ریموٹ ہوتا ہے انکی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں دوسروں کی نہ وہ بات سنتے ہیں ‘ نہ مانتے ہیں بس اپنی من مانی کرتے ہیں اسلئے جب زعما اور ٹی وی اینکرز کے لہجے ان کی تھکن کی چغلی کھانے لگیں توعجب بے کیفی سی چھا جاتی ہے۔ غنیمت ہے کہ چند ایک طنز و مزاح اورتفریح کے پروگراموں کو تھوڑاسا وقت دے دیا گیا ہے مگر اب وہ بھی یکسانیت کا شکار ہو گئے ہیں بلکہ کچھ صاحبان تو ان مختصر دورانئے کے پروگراموں میں بھی حالات حاضرہ کا سیگمنٹ ڈال دیتے ہیں اور مزاحیہ کرداروں کے منہ میں اپنی بات ڈال دیتے ہیں جس سے معذرت کیساتھ وہ تو ہونّق لگتے ہیں لکھنے والا بھی اسی سے ملتی جلتی چیز لگتا ہے۔ مجھے یاد ہے بے بدل فنکار رفیع خاور ( ننھا) مرحوم نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ ایک بار کوئی نیوز کاسٹر ٹی وی سنٹر نہیں پہنچا تھا اور سار ا نیوز سیکشن پریشانی کے عالم میں ایک ایک سے کہہ رہا تھاکہ کوئی خبریں پڑھ دے۔ خبروں کا وقت قریب آتاگیا مگر کوئی بھی کیمرہ فیس کرنے کو تیا ر نہ تھاظاہر ہے خبروں کو تو وقت پر آن ائیر جانا ہوتا ہے ننھا مرحوم کہتے ہیں اسی دوران میں ٹی وی سٹیشن پہنچا تو نیوز روم کا سارا عملہ میری طرف لپکااور اپنی مشکل بتائی کہ نیوز کاسٹر ہے نہیں اور کوئی کیمرے کے سامنے جانے کو تیار نہیں۔تو پلیز آپ اگر یہ خبریں پڑھ لیں۔

میں نے ان کو جواب دیا کہ پڑھنے کو تو میں خبریں پڑھ لوں گا مگر میرے بھائی انہیں مانے گا کون؟اب سوچتا ہوں کہ اس بڑے فنکار نے مزاحیہ انداز میں کیا خوب بات کہہ دی تھی اور یہ بات تو بچپن سے ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ جسکا کام اسی کو ساجھے‘ بس یہی بات ان مزاحیہ پروگراموں کے اینکرز اور لکھنے والوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ بھائی کرنٹ افیئرز کے پروگرام تو ڈھیروں کے حساب سے ٹی وی پر چل رہے ہیں تو جس کام کے لئے بیٹھاہے وہی کیوں نہیں کرتا۔ ابھی چند دن پہلے وٹس ایپ پر ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا اس میں ایک صاحب نے بڑے مزے کی بات کی‘ اس نے کہا کہ وہ جو ایک نکڑ پر بیٹھا چائے والا ہے کوئی پندرہ سو یازیادہ کپ چائے دن بھر بناتا ہے اور اسے پتا ہے کہ سرکار کون کون ساکام غلط کر رہی ہے اور سرکار کو در اصل مختلف ایشوز پر کس طرح کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے ‘صرف اتنا ہی نہیں وہ ٹنڈولکر کی بلے بازی پر بھی بات کرتا ہے اور بتاتا ہے کب اس نے کہاں پر اور کس کیخلاف غلط شاٹ کھیلی اور آؤٹ ہو گیا اس گیند کو در اصل اس طرح کھیلنے کی ضرورت تھی اگر وہ ذرا اپنا بایاں پاؤں باہر نکال کر بال کو پش کرلیتا تو بال دو کھلاڑیوں کے بیچ میں سے نکل کو باؤنڈری پار کر جاتی ۔

اس چائے والے کی سیاست کھیل اور رموز سلطنت پر سارا دن گفتگو جاری رہتی ہے۔اس کے بعد اس صاحب نے کمال بات کی۔ کہنے لگا بس اس چائے والے میں ایک خرابی ہے کہ وہ اچھی چائے بنانا نہیں جانتا اور یہی بات آج بہت سے ٹی وی اینکرز کے بارے میں کہی جاسکتی ہے بلکہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں ایسے کاریگروں کی کمی نہیں‘اسکی ایک مثال تو حجام ہیں کہ وہ بال کاٹتے وقت خاموش نہیں رہ سکتے بلکہ سیانے کہتے ہیں کہ حجام اور درزی کی قینچی چلانے میں فرق یہی ہے کہ درزی کی قینچی خاموشی سے چلتی ہے۔ایک حجام کے بارے میں مشہور تھا کہ جب کوئی بال کٹانے آتا تو ایسے ایسے خوفناک قصّے چھیڑ دیتا کہ بے چارے گاہگ کوکتنے ہی دن خواب میں اس کہانی کے کردار ڈراتے رہتے۔ ایک دن کسی نے اس حجام سے پوچھا کہ بھائی آپ اپنے گاہگوں کو اتنے ڈراؤنے قصّے کیوں سناتے ہیں تو بڑے سکون سے کہنے لگامیں جب انکو یہ ڈراؤنی کہانیاں سناتا ہوں تو ڈر کے مارے ان کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں اور مجھے اس طرح ان کے بال کاٹنے میں آسانی رہتی ہے۔ یہ وہی حجام ہوتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی دکان کے باہر ہمہ وقت کوئی کتا کھڑا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ حجام کب کسی کا کان کاٹتا ہے اور کاہگ سے چھپانے کی خاطر باہر پھینک دیتا ہے اور جب ایک بار ایک گاہگ کو جلدی تھی تو اس کے چھوٹے بیٹے نے کہا ابو میں اسکی شیو بنا دوں‘باپ نے کہابنا دو مگر ذرا احتیاط سے کہیں ’’ خود‘‘کو زخمی نہ کر دینا۔ تو کوئی شخص اپنا کام ٹھیک سے کرنے پر توجہ نہیں دیتا دوسروں کے کام میں کیڑے نکالنے پر اپنی انرجی خرچ کررہا ہوتا ہے شیخ ابراہیم ذوق نے کیا خوب کہا ہے۔

رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تْو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تْو
اس لئے حالات حاضرہ کا کام باقی لوگوں کو چھوڑ کر مزاحیہ پروگراموں میں اپنے لوگوں کو یہ فنکار جن کی وجہ شہرت ہے ہی مزاح بس اپنے شعبے تک محدود رکھا جائے تو بہتر ہو گا۔ بلکہ اب تو ایک مزاحیہ پروگرام جس میں موسیقی کا ایک آ دھ آئٹم رکھا جاتا جس کا عمدہ انتخاب اعصاب کو پر سکون کر دیتا یہ روایت ٹی وی پر ’ففٹی ففٹی ‘سے چلی جس کے شروع کے لکھاری انور مقصود اورپیشکار شعیب منصور تھے۔وہ کچھ عمدہ گیت اور کچھ خوبصورت خاکے پیش کرتے اسی مناسبت سے اس کا نام بھی ’ففٹی ففٹی‘ رکھا گیا تھا۔ اس عمدہ اور شاندار پروگرام کو بھی اس وقت بند کرنا پڑا جب اسکے مرکزی کردار وں خصوصاََ ماجد جہانگیر‘اشرف اور اسماعیل تارا نے خود ہی اس کے خاکے لکھنے شروع کر دئیے۔

وہی ایک بات جسکا کام اسی کو ساجھے۔ فنکار لکھاری بن گئے،بہت سے ٹی وی پروڈیوسروں کو بھی دیکھا کہ ڈائریکشن کے ساتھ لکھنا بھی شروع کر دیا۔ رنگیلا کی مثال تو سامنے کی ہے۔ ہر چند اس میں بلا کا ٹیلنٹ تھا اس کا گا یا ہوا گیت ’’ گا میرے منوا گاتا جا رے‘‘ بہت مقبول ہوا تھا(ہے) مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ٹی وی کے ان مزاحیہ پروگراموں میں شامل ہر فنکار نے اپنے پروگرام میں اب باقاعدہ گانے کا آئٹم بھی شروع کردیا حالانکہ سوائے آغا ماجد کے جو سْر میں ہے کوئی بھی کوالیفائی نہیں کرتا۔ غالباً بعض نئے گانے والوں کو سن کر ان مزاحیہ فنکاروں نے سو چا کہ اگر یہ گا رہے ہیں تو ہم ان سے کیا کم ہوں گے بس سیاست کے سر شام چینلز پر معرکے بپا کرنے والے تجزیہ کارزعما نے بھی یہی سوچ رکھا ہے کہ اب آنے والی بڑی اننگز سے پہلے تھوڑا اعصاب کو سہلا لیں۔ اس لئے وہ گھن گرج ذرا کم ہو گئی ہے مگر اس کا کیا جائے کہ مزاحیہ پروگراموں اور فنکاروں میں ان تجزیہ کاروں کی روح حلول کر گئی ہے اور ریموٹ ہاتھ میں لئے چینل چینل گھومتے ناظرین خود کلامی کے انداز میں شاد عظیم آبادی کا شعر گنگنا رہے ہیں
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں