بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ترجیحات کاتعین ضروری ہے

ترجیحات کاتعین ضروری ہے

خیبر پختونخوا حکومت نے برن اینڈ ٹراما سنٹر کے کئی سال سے تاخیر کا شکار چلے آنے والے منصوبے کیلئے12 کرو ڑ روپے کا فنڈ جاری کر دیا ہے یہ رقم جاری مالی سال کے بجٹ میں منظور ہوئی تھی صوبے میں اپنی نوعیت کے پہلے اور واحد برن اینڈ ٹراما سنٹر کیلئے امریکی ادارہ یو ایس ایڈ15 ملین ڈالر دینے کا اعلان کر چکا ہے ‘ برن سنٹر کی اہمیت اور ضرورت کے تناظر میں صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کا اجراء قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اسے کافی کسی صورت قرار نہیں دیا جا سکتا ‘ سنٹر کی ضرورت اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت کسی بھی مد میں سے اس کیلئے مکمل فنڈز فی الفور فراہم کرے‘ سنٹر کی تکمیل کیلئے مالی سال شروع اور ختم ہونے کے انتظار کی بجائے مختصر ٹائم لائن دی جائے اور افتتاح کی تاریخ مقرر کی جائے اس سب کے ساتھ کم از کم ڈویژنل لیول پر اس طرح کے مراکز قائم کئے جائیں اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت کا شعبہ ہر حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہی رہتا ہے تاہم اس ترجیح پانے والے شعبے کے اندر ترجیحات کے تعین میں زمینی حقائق سے رو گردانی کی روش عام رہی ہے یہی وجہ ہے کہ مرکز اور صوبے میں حکومتی لیول پر پورے احساس و ادراک کے باوجود عام شہری علاج کی معیاری سہولت نہ ملنے کا گلہ کرتا ہے اسے نجی شعبے میں بھاری فیس کے عوض سروسز خریدنا پڑتی ہیں اس کے باوجود جب وہ مارکیٹ میں دوا خریدنے جاتا ہے تو میڈیسن کا معیار سوالیہ نشان بن کر سامنے آتا ہے۔

قومی اسمبلی کو بتایا جا رہا ہے کہ ملک میں ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کی منظور ی کے بعد اب بل جلد ایوان میں لایا جا رہا ہے اس کیساتھ یہ تلخ حقیقت بھی تسلیم ہو رہی ہے کہ گزشتہ دو سال کے دوران ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر عدالتوں میں چلائے جانے والے مقدمات کی تعداد 8 ہزار299 ہے اسمبلی کو یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی جعلی ادویات فروخت کرنے اور دیگر خلاف ورزیوں پر8 ہزار840 دکانیں سربمہر ہوئی ہیں۔ حکومت مرکز میں ہو یا کسی بھی صوبے میں یہ بات اس کے پالیسی سازوں کو ہمیشہ پلے باندھنا ہوگی کہ ثمر آور نتائج کیلئے ترجیحات کاتعین حقائق کے ادراک سے ہی ممکن ہے، سرکاری علاج گاہوں میں بہترسروسز کی فراہمی، پرائیویٹ سیکٹر کو قاعدے قانون کا پابند بنانا، عطائیت کا خاتمہ، جعلی اور دو نمبر ادویات کے دھندے کو جڑ سے اکھاڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عام شہری کو ریلیف ملے اور اسے حکومتی احساس وادراک کے نتیجے میں عملی اقدامات کا خوشگوار احساس ہو۔

صفائی مہم کی ضرورت

صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی سے 4مزید افراد کا جاں بحق اور متعدد کا بخار میں مبتلا ہونا باعث تشویش ہے، انتظامیہ کی جانب سے اس ضمن میں متعدد اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، سپرے کیساتھ آگہی مہم بھی شروع کردی گئی ہے، اس سب کیساتھ ضرورت بڑے پیمانے پر فوری نوعیت کی صفائی مہم کی بھی ہے، اس مہم میں کمیونٹی اور خصوصاً بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کے تعاون سے سیوریج سسٹم کو کلیئر کرنے اور پانی کی ٹینکیوں کو صاف کرنا بھی شامل ہونا چاہئے، سیوریج سسٹم میں موجود پلاسٹک شاپنگ بیگز نکلنے پر پانی جمع نہیں ہوگا، ضرورت آئندہ کیلئے اس سسٹم کو کلیئر رکھنے کی غرض سے شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی عائد کرنے کے اعلان کو عملی صورت دینے کی بھی ہے تاکہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوسکے۔