بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / روہنگیا مسلمانوں سے یکجہتی

روہنگیا مسلمانوں سے یکجہتی

روہنگیا کے مسلمان شاید کرہ ارض پر اسوقت دنیا کی وہ مظلوم ترین مخلوق ہیں جن پر بدھ مت کے پیروکار برمی درندوں نے نہ صرف عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے بلکہ ان کی نسل کشی کیلئے وہ انسانیت سوز طریقے بھی آزمائے جارہے ہیں جنکا تصور بھی اس جدید اور ترقی یافتہ دور میں کرنا محال ہے۔ بدھ مت کے ان انتہاپسندوں کے ظلم وجبر سے نہ تومرد اور خواتین محفوظ ہیں اور نہ ہی بچوں اور بوڑھوں کو معاف کیا جارہا ہے۔مسلمان اکثریتی علاقے راخائن میں پوری کی پوری آبادیوں کو آگ لگا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق اب تک ہزاروں بستیوں کو ملیا میٹ اور ایک لاکھ نہتے اور بے گناہ افراد کو تہہ تیغ کیا جا چکا ہے۔چار پانچ لاکھ افراد کو خالی ہاتھ‘ ننگے پیربے سروسامانی کی حالت میں اپنے گھروں سے بے گھر کرکے دربدرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیاگیا ہے جن میں سے لگ بھگ چار لاکھ افراد بھوک‘ بیماری اورلاچاری کی عملی تصویر بنے سخت دشوار گزار راستوں اوران راستوں میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں سے گزرتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرات میں ڈال کر بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں میں پہنچ چکے ہیں جہاں یہ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے بھوکے پیاسے بیماری کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ روہنگیا کے ان بے بس اور بے کس مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انکے ساتھ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے بھی نہ تو کوئی مدد کی جارہی ہے اور نہ ہی انکی دادرسی اور انہیں پناہ، خوراک اور علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں دیگر فلاحی اداروں کو آزادانہ طور پرکام کرنے دیا جا رہاہے۔

حیرت ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم کی روک تھام اور ان لاکھوں متاثرہ افراد کی دادرسی اور ان تک خوراک اور علاج معالجے کی سہولیات کی ترسیل کیلئے کوئی اجتمائی سنجیدہ قدم اٹھتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ آستانہ میں حال ہی میں او آئی سی کی سربراہ کانفرنس اتفاق سے ایک ایسے موقع پر منعقدہوئی ہے جب روہنگیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اپنے انتہا کو پہنچ چکے ہیں اور عام تاثر یہ تھا کہ اسلامی ممالک کے سربراہان اس موقع کو جہاں عالم اسلام کو درپیش دیگر مسائل پر کھل کر گفتگو اور فیصلوں کے لئے بروئے کار لائیں گے وہاں شام ‘عراق ‘افغانستان اور خاص کر برما میں ہونے والی خونریزی اور خون مسلم کی ارزانی کے انتہائی نازک اور اہم ایشوکو بھی زیر بحث لانے کیساتھ ساتھ اس حوالے سے کوئی قابل عمل اور متفقہ لائحہ عمل بھی طے کریں گے لیکن اے بسا آرزو خاک شدہ کے مصداق اوآئی سی کے سابق اجلاسوں کی طرح اسکا حالیہ سربراہ اجلاس بھی محض نشستند‘ گفتنداور برخاستندتک محدود رہاہے او آئی سی نے آستانہ کانفرنس میں کسی ٹھوس عملی فیصلے کی بجائے محض ایک بے جان قرارداد اور میانمار حکومت سے زبانی کلامی کئے جانے والے مطالبے پر اکتفا کر کے جہاں روہنگیا کی بے گوروکفن لاشوں سے بے اعتنائی برتی ہے وہاں یہ قرارداد اور بے جان مطالبہ روہنگیا کے مسلمانوں کیساتھ ساتھ دیگر خطوں کے مظلوم اور محکوم مسلمانوں کے زخموں پربھی نمک پاشی کا باعث بنا ہے۔

اسی طرح روہنگیا کے مسئلے پر اب تک اقوام متحدہ نے جس روایتی اسلام دشمنی اوربے حسی کا مظاہرہ کیاہے وہ بھی یقیناًقابل مذمت ہے اقوام متحدہ کا یہی وہ مایوس کن منفی کردارہے جومسلسل مسلمانوں کی نگاہوں میں کھٹک رہا ہے یہ بات خوش آئند ہے کہ پختونوں کے اسلامی اخوت کے جذبے سے مرعوب یا مجبور ہو کرجماعت اسلامی اور جمعیت(ف) جیسی مذہبی جماعتوں کے بعد قومی وطن پارٹی اور اے این پی جیسی پختون قوم پرست جماعتوں کو بھی اپنے روایتی قوم پر ستانہ موقف میں تبدیلی کے ذریعے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی صورت میں اپنی ماضی کی پالیسیوں سے رجوع کرناپڑا ہے جو ان دونوں قوم پرست جماعتوں کی روایتی پالیسیوں میں ایک بڑی تبدیلی کا مظہر ہے جس سے صوبے کی عمومی سیاسی فضاء پر یقیناً انتہائی مثبت اور خوشگوار اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔