بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / بولوںیانہ بولوں

بولوںیانہ بولوں

جو لوگ کبھی زندگی کا حصہ رہے ہوں انکے بارے میں لکھناآسان نہیں ہوتاکچھ یادیں کچھ قصے کہانیاں کچھ محبتیں اورجذبے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی اصل جگہ خانہ دل کا کوئی ویران گوشہ ہوتا ہے ایسی صورتیں جو ہر وقت آنکھوں میں بستی ہوں‘ ایسے قہقہے جو ہر وقت کانوں میں گونجتے ہوں ایسے لمحے جو ہر قدم کے ساتھی ہوں انہیں کیسے لفظوں کے قالب میں ڈھالا جاسکتا ہے انکی قدرو قیمت اور معصومیت کہتی ہے کہ انہیں مٹی کی چادر میں چھپا دیا جائے تاکہ انہیں کوئی دیکھ نہ سکے جگا نہ سکے اپنے دیدہ تر کی شبنم کو دریا کی موجوں کے حوالے کیسے کیا جا سکتا ہے کچھ رفاقتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں ایسے سنبھال کے رکھا جاتا ہے جیسے مٹی بیج کو اپنی تاریکی میں پالتی ہے ایسے موتی رولے نہیں جاتے مگر یہ جب بکھرنے لگیں تو انہیں تھامنا پڑتا ہے دل نہ بھی چاہتا ہو توکچھ نہ کچھ کہنا پڑتا ہے جب تصویریں آنکھوں پر دستک دینا شروع کر دیں تو پھر کھڑکیاں کھو ل دینا پڑتی ہیں ہوا کے دوش پر رکھے ہوئے چراغ کی اس تصویر نے بہت سی آنکھوں کو اشکبار کر دیا ہو گا وہ تصویر پشاور کے ایک اخبار کے پہلے صفحے پر شائع ہوئی تھی اسکے بارے میں پشاور والوں سے اسلا م آباد میں پوچھا گیا کہ یہ مشہورومعروف فنکار ہسپتال کے فرش پر کیوں پڑا ہے اسے بستر کیوں میسر نہیں کاش کہ یہ سوال مجھ سے پوچھا گیا ہوتا میں جانتا ہوں کہ افتخار قیصر کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بستر کیوں نہیں ملااسے فرش پر اسلئے لٹایا گیا کہ وہ جس گھر سے آیا تھا وہاں بھی اسے چارپائی میسر نہ تھی اسکے پرستاروں نے اسے سکرین پر قہقہے بکھیرتے دیکھا ہے انہیں یہ معلوم نہیں کہ افتخار قیصر کو زندگی بھر ڈھنگ کا بستر نصیب نہ ہوااسکے ساتھ ہسپتال والوں نے وہی سلوک کیا جسکا وہ عادی ہو چکا تھا وہ اسکامستحق نہ تھا مگر اسے اس سے زیادہ مل بھی نہ سکتا تھا وہ اگر بول سکتا تو کہہ دیتا کہ اسلام آباد میں پوچھا گیا سوال غیر ضروری تھا کیونکہ اس نے تو ہمیشہ اپنے بچوں کے سر پہ چھت اور دو وقت کی روٹی کی دعائیں مانگی تھیں ۔

وہ جانتا تھا کہ اسے اس سے زیادہ مل بھی نہ سکتا تھا اسلام آباد والے نہیں جانتے اور میرے شہر کے لوگ بھی نہیں جانتے‘ وہ ہمدردو غمگسار قلمکار بھی نہیں جانتے جنکا دل افتخار قیصر کیلئے رویا اور انہوں نے اسکی حالت زار بیان کر دی یہ بات اسے گھر کے فرش سے ہسپتال کے فرش تک پہنچانے والے اسکے دوست جانتے ہیں کہ انکے شہر میں ہر فنکار اسی طرح زندگی بھر ٹھوکریں کھاتا رہتاہے اور پھر ایک دن لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایڑیاں رگڑتے رگڑتے رخصت ہو جاتا ہے آپ کہیں گے ان فنکاروں کو حکومت لاکھوں روپوں کے چیک دیتی ہے انہیں کچھ نہ کچھ ہر مہینے بھی ملتا رہتا ہے انکے لئے بینیفٹ شوزبھی ہوتے ہیں اس سے زیادہ کیا بھی کیا جا سکتا ہے گذارش یہ ہے کہ زندگی بھر لاہور اور کراچی کے نگار خانوں سے خالی ہاتھ واپس لوٹنے والے فنکاروں کو ایک مرتبہ پانچ یا دس لاکھ دے دےئے جائیں اور ہر ماہ پانچ یا دس ہزار نقد بھی تھما دےئے جائیں تو اس سے کیا فرق پڑ جائیگا پانچ چھ بچوں کے سر پہ چھت کہاں سے آئے گی اور انکے لئے ہر روز دو وقت کی روٹی کا بندوبست کیسے ہو گا امیر شہر کہہ سکتا ہے کہ یہ اسکے بس کی بات نہیں وہ ہر گھر کے دسترخوان پر کھانے نہیں لگا سکتا ہر کسی کو اپنا رزق خود کمانا ہو گایہ جواب اگر درست ہے تو پھر پشاور اور اسلام آباد کے درد مند اہل قلم سے پوچھا جائے کہ انہوں نے افتخار قیصر کی بے کسی اور کسمپرسی کی دہائی کیوں دی اسکے بارے میں ارباب اختیار سے کیوں پوچھا گیاکہ آپکے شہر میں کیا ہو رہا ہے گذارش یہ بھی ہے کہ یہ دو چار صدائیں اسلئے بلند ہوئیں کہ افتخار قیصر ایک بہت بڑا فنکار ہے آپ کہیں گے وہ معین اختر‘ عمرشریف یا ببو برال ہوتا توآج اس حال میں نہ ہوتا عرض یہ ہے کہ لاہور اور کراچی کے فنکار ٹی وی ‘ سٹیج اور سینما تینوں ذرائع سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔

لاہور ایک کروڑ اور کراچی دو کروڑ لوگوں کا شہر ہے وہاں اچھے اداکار ہر ماہ لاکھوں کماتے ہیں پشاور کے اداکار ریڈیو اور دو عدد ٹی وی سینٹروں کے چکر لگاتے لگاتے نڈھال ہو جاتے ہیں وہاں انکے ہاتھ جو کچھ آتا ہے اتنا پتھر کوٹنے والے بھی بنا لیتے ہیں اور جس طرح ترسا ترسا کر انہیں انکی محنت کا معاوضہ دیا جاتا ہے وہ دل دہلا دینے والی ایک الگ خونچکاں داستان ہے میں نے یہ سب کچھ اتنے قریب سے دیکھا ہے کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ خیبر پختونخواایک فنکار کش صوبہ ہے یہاں اگر سٹیج اور تھیٹر کو چلنے دیا جائے تو اس صوبے کے فنکاروں کو لاہور اور کراچی جانے کی ضرورت ہی نہ رہے میں نے پی ٹی وی پشاور میں بحیثیت پروڈیوسر ڈیرہ اسماعیل خان اور کوہاٹ سے لیکر ایبٹ آباد‘ مانسہرہ‘ مردان اور مینگورہ تک کے فنکاروں کو کئی برسوں تک کیمرے کے سامنے پرفارم کرتے ہوئے دیکھا ہے ان آرٹسٹوں کو اگر انکے اپنے شہروں میں ٹی وی سنٹر اور تھیٹر میسر آ جائیں تو انہیں پشاور بھی آنے کی ضرورت نہ رہے مگر جہاں ڈھنگ کے سکول‘ کالج اور ہسپتال نہ ہوں وہاں ٹی وی سنٹر کے خواب دیکھنا مذاق کرنے والی بات ہے جس صوبے میں افتخار قیصر ‘ نجیب انجم‘ جاوید بابر‘ رشید ناز ‘ عالمزیب مجاہد ‘ عشرت عباس ‘ طارق جمال‘ ارشد عباسی اور اس فنی قد کاٹھ کے کئی دوسرے فنکاروں کو دو وقت کی روٹی نہ مل سکے وہاں مردان‘ مینگورہ ‘ ایبٹ آباد اور ڈیرہ والوں کے ہاتھ کیا آئے گااس فہرست میں ان بد نصیبوں کے نام شامل نہیں جو پشاور میں ریڈیو اور ٹی وی سنٹر کے دروازے کھٹکھٹاتے ہوئے راہی ملک عدم ہو گئے میرے فنکار دوست صلاح الدین کے آخری ایام جس کرب اور اذیت میں گذرے وہ افتخار قیصر کی کسمپرسی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں میں نے اسکی زندگی کے آخری المناک لمحوں کو دور ہوتے ہوئے بھی بہت قریب سے دیکھا ہے ہم دونوں اکثر فون پر گھنٹوں گپ شپ لگاتے تھے صلاح الدین کی ہنسی اور قہقہے آپ نے دیکھ دا جاندہ رہ میں دیکھے ہوں گے میں اسکے آخری ایام تک اسکے قہقہے سنتا رہا اسکی آنکھوں کے آنسو بھی مجھے نظر آتے تھے جو بات وہ مجھ سے چھپا لیتا تھا وہ مجھے زر محمد بتا دیتا تھا زر محمد اور نثار خان نے مجھے افتخار قیصر کی پچھلے ایک ماہ میں کئی ایسی تصویریں ٹیکسٹ کی ہیں جنہیں دیکھ کے دل خون کے آنسو روتا ہے ان میں سے ہر ایک تصویر کے نیچے یہ شعر لکھا جا سکتا ہے۔

ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بجھ گئے تو ہوا سے شکائتیں کیسی
حضرت سلطان باہو نے بھی ایسے بے کس لوگوں کے بارے میں کہہ رکھا ہے
سانوں تاڑی مار اڈا نہ باہو
اسی آپے ای اڈن ہارے ہو
میں نے اس کالم کے شروع میں لکھا ہے کہ جو لوگ کبھی زندگی کا حصہ رہے ہوں انکے بارے میں لکھنا آسان نہیں ہوتا میں نے صلاح الدین اور افتخار قیصر کے بارے ایسی کوئی بات نہیں لکھی جسے دیدۂ تر کی شبنم کہا جا سکے میں نے یہ نہیں لکھا کہ افتخار زندگی بھر کیوں بے خواب رہا اسے بستر کیوں نصیب نہ ہوا اسنے یہ دکھ اور اس جیسے دوسرے کئی دکھ میرے بہت قریب بیٹھ کر مجھے سنائے تھے وہ فنکار تھا اور میں پروڈیوسر پھر ہم دوست بن گئے صلاح الدین بھی ایسے ہی میرا دوست بنا تھا ٹی وی سنٹر کے سٹوڈیو کی بے خواب راتوں میں بنی ہوئی دوستیاں بہت دور تک چلی جاتی ہیں میں اور زر محمد اکثر دیر تک فون پر صلاح الدین اورا فتخار قیصر کی باتیں کرتے رہتے ہیں میرا دوست اور ہم سب کا پیارا فنکار اگر خاموش نہ ہو گیا ہوتا‘ وہ اگر بول سکتا ‘ وہ اگر مختار علی نیر کا لکھا ہوا یہ لافانی جملہ ادا کر سکتا کہ ’’ بولوں یا نہ بولوں‘‘ تو مجھے یا کسی کو بھی اسکے رنج و غم بیان کرنے کی ضرورت نہ ہوتی یہ فریاد پیہم اگر لفظوں کا لبادہ اوڑھ چکی ہے تو اسکی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ
دل بھی تھا دھواں دھواں ‘ شام بھی تھی اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں