بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست اورموروثیت

سیاست اورموروثیت

این اے120کی الیکشن مہم اپنے نقطہ عروج کو جاپہنچی ہے آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں اس بات کا پتہ چل ہی جائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ویسے تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ اس ملک میں شاذ ہی کبھی کسی حکومت وقت کی سیاسی پارٹی نے کوئی ضمنی الیکشن ہارا ہو ہاں معجزوں کی اور بات ہے پر معجزے کم ہی ہوا کرتے ہیں جمہور کا فیصلہ دانشوروں کے فیصلوں سے اکثر مختلف ہوتا ہے مریم نواز نے جس تواتر‘ دلجمعی اور باقاعدگی سے اپنی والدہ کی الیکشن مہم چلائی اس کے علی الرغم کسی اورسیاسی دھڑے نے بالکل نہیں چلائی عمران خان کو اس الیکشن مہم کے دوران ملک سے باہر نہیں جانا چاہئے تھاکیونکہ الیکشن مہم کا ایک منٹ ایک مہینے کے برابر ہوتا ہے ہمارا المیہ یہ بھی رہا ہے کہ ہماری سیاسی زندگی کا محور شخصیت پروری رہا ہے ریاستی اداروں کو پروان چڑھانے کیلئے کبھی بھی اس ملک کے کسی حکمران نے سنجیدگی نہیں دکھائی آپ میاں نوازشریف‘ مولانا فضل الرحمان‘مولانا سمیع الحق ‘ بھٹو کی فیملی ‘چوہدری شجاعت وغیرہ کو ان کی سیاسی پارٹیوں سے مائنس کردیں ۔

تو وہ کچھ بھی نہیں رہ جاتیں یہ برطانیہ تو ہے نہیں کہ اگر ڈسرائیلی‘چرچل‘ اینتھنی ایڈن‘میکملن یا مسز تھیچر کنزرویٹو پارٹی سے چلے جائیں تو ان کی سیاسی پارٹی کوکوئی فرق نہیں پڑتا یا گلیڈسٹون اور لارڈ ایٹلی کے منظر عام سے ہٹ جانے کے بعد بھی برطانیہ کی لیبر پارٹی زندہ تابندہ رہتی ہے امریکا کی ہی مثال لے لیجئے گا ابراہام لنکن‘روز ویلٹ ‘آئزن ہاور وغیرہ کے جانے کے بعد بھی ان کی سیاسی پارٹیوں کو رتی بھر فرق نہ پڑا وہ آج بھی سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں وجہ ظاہر ہے کہ ان ممالک میں حکومتوں اور لوگوں دونوں نے ریاستی اداروں کو مقدم رکھا نہ کہ شخصیت سازی کو‘ اپنے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے چوہدری نثار کا البتہ مریم نواز کے بارے میں یہ جملہ کہنا کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں کافی پر معنی ہے میاں صاحب کی صاحبزادی کا یہ بیان کہ وہ نوازشریف کو چوتھی بار وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہیں واقعی غیر سیاسی ذہن کی عکاسی کرتا ہے بھئی کیا یہ ملک ان کے بغیر کیا نہیں چل رہا؟ بلکہ بہتر چل رہا ہے شاہد خاقان عباسی صاحب سے بھلے کوئی لاکھ سیاسی اختلاف رکھے ۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جس رفتار او دلجمعی سے وہ بطور وزیراعظم کام کررہے ہیں عام آدمی اس پر انگشت بدنداں ہے صبح نو بجے سے آدھی رات تک وہ آفس میں ہوتے ہیں اس دوران وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت بھی کرتے ہیں نیشنل سکیورٹی کے امور سے وابستہ معاملات پر میٹنگز بھی کرتے ہیں اراکین پارلیمنٹ سے ملاقاتیں بھی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم فیصلے بھی کررہے ہیں گورننس کا یہ انداز عام آدمی کو پسند آیا ہے ان کی شخصیت کا یہ پہلو جواب تک چھپا ہوا تھا اب سامنے آرہا ہے اگر ان کو اگلے الیکشن سے پہلے نہ ہٹایا جائے تو بہتر ہوگا اگر میاں صاحب کو عدالتوں سے کلین بل آف ہیلتھ مل بھی جائے تو عقلمندی کا تقاضا یہ ہوگا کہ اب وہ بس کردیں اور اپنے خاندان سے باہر کسی کو موقع دیں کہ وہ (ن) لیگ کی قیادت سنبھالے سونیا گاندھی کی مثال ان کے سامنے ہے کیا انہوں نے برسوں برس تک من موہن سنگھ جیسےOut siderکے ساتھ گزارہ نہ کیا۔