بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / حسب حا ل ترقی!

حسب حا ل ترقی!

تحریک انصاف سے وابستہ پشاور کی توقعات اگر پوری نہیں ہوئیں تو اس کی وجہ کسی بھی دوسری سیاسی جماعت یا قومی سیاسی حالات کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔ گہری نیند سے جاگنے کے بعد وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے یہ عزم دہرایا ہے کہ ۔۔۔ ’’پشاور کی ترقی و خوبصورتی اور اسے دوبارہ پھولوں اور باغوں کا شہر بنانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات جاری ہیں۔‘‘ موجودہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت کم و بیش آٹھ ماہ (32 ہفتوں) میں مکمل ہو رہی ہے اور جو کام پچاس ماہ (200 ہفتوں) سے زائد عرصے میں مکمل نہیں کیا جا سکا وہ آئندہ چھ ماہ میں کس طرح مکمل ہو پائے گا‘ یہ معمہ شاید کسی جادو ہی سے حل ہو کیونکہ دوسری کوئی ایسی ممکنہ صورت نہیں رہی‘ جس میں ’ریپڈ بس ٹرانزٹ‘ جیسا بڑا ترقیاتی منصوبہ راتوں رات مکمل ہو جائے! وقت اور مہلت سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کو اگر پشیمانی بھی نہ ہو‘ تو وہ دوسروں کو نہیں اپنے آپ کو دھوکے میں رکھتے ہیں! وزیراعلیٰ نے پردہ باغ کے قریب ریڑھی بانوں کے ’خوشحال بچت بازار‘ کی افتتاحی تقریب میں پرجوش شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’پشاور کے باقی ماندہ ریڑھی بانوں کو بھی اسی طرح متبادل روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے‘‘ تو کیا یہ پشاور سے انصاف ہوگا؟ ماضی کی صوبائی حکمران عوامی نیشنل پارٹی کے فیصلہ سازوں نے دیگر اضلاع سے اپنے سیاسی کارکنوں کو بڑی تعداد میں پشاور لا کر قبرستانوں کی اراضی پر آباد کیا‘اس مکروہ فعل اور دھندے میں جعلی دستاویزات سے قبرستانوں کی اراضی نجی ناموں پر منتقل کی گئی۔

اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز کے ترقیاتی فنڈز سے پشاور کے قبرستانوں میں جناز گاہیں‘ ٹیوب ویل‘ گلیاں کوچے‘ نکاسی آب کے نالے نالیاں اور سکول تعمیر کرکے ایک ناجائز فعل کو ہر طرح سے جائز اور قانونی بنایا گیا۔ اس عمل میں اربوں روپے کی کرپشن ہوئی جس میں پٹوارخانے سے پولیس‘ سابق بلدیاتی نمائندے اور اسوقت کے متعلقہ اراکین اسمبلی کے وارے نیارے رہے۔ تحریک انصاف کا اگر پشاور سے انصاف کرنا مقصود (مدعا) ہوتا تو ایسے عناصر کا کڑا احتساب کیا جاتا اور پشاور کو اس کے قبرستان واپس دلائے جاتے جہاں آج بھی تجاوزات کی بھرمار ہے۔ ہتھ ریڑھی بانوں کی اکثریت پشاور کے انہی قبرستانوں کی اراضی پر بننے والی رہائشی بستیوں میں مقیم ہے پشاور کے سبھی چھوٹے بڑے بازاروں میں ہتھ ریڑھی بانوں کی حکمرانی ہے‘ جن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی اور صفائی کی صورتحال باوجود تمام تر کوشش بھی مثالی نہیں تو ایسی صورت میں ریڑھی بانوں کے بازار صرف پشاور کی شہری حدود ہی میں کیوں قائم کئے جاتے ہیں؟کیا مضافاتی دیہی علاقوں میں ایسے بازاروں کی ضرورت نہیں؟ پشاور بالخصوص اندرون شہر کے وسائل پر آبادی اور کاروباری سرگرمیوں کا دباؤ کم کرنے کیلئے ہول سیل کاروباری مراکز کی بیرون شہر منتقلی پہلی ترجیح ہونی چاہئے تھی لیکن مسائل کی بنیاد پر وار کرنے کی بجائے سطحی و نمائشی اقدامات پر اکتفا کر لیا گیا صوبائی حکومت پشاور میں باسہولت‘ باعزت اور تیزرفتار آمدورفت کا ذریعہ (پبلک ٹرانسپورٹ) جلداَزجلد متعارف کرنا چاہتی ہے لیکن (خاکم بدہن) اِیبٹ آباد کا مری روڈ اور پشاور کا ’ریپڈ بس منصوبہ‘ موجودہ دور حکومت کے دوران مکمل نہیں ہو سکتے! اِس صورتحال میں وفاقی حکومت پشاور کی مدد کرنے کی بجائے الگ حکمت عملی رکھتی کے تحت عزم رکھتی ہے کہ سال 1901ء سے 1925ء کے دوران تعمیر ہونے والے پشاور سے جمرود ریلوے لائن بحال کرنا چاہتی ہے۔ اگر قریب سو سالہ پرانی اور باون کلومیٹرز طویل یہ ریلوے لائن بحال کر لی جاتی ہے تو اِس سے نہ صرف افغانستان کے ساتھ تجارتی سازوسامان کی نقل و حمل اور آمدورفت میں تیزی آئے گی۔

بلکہ افغانستان جانے والی بھاری گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں کمی سے شاہراہوں پر دباؤ کم ہوگا۔ علاوہ ازیں چونکہ پشاور سے طورخم ریل کی پٹڑی گنجان آباد رہائشی و تجارتی علاقوں مثلاً سٹی‘ صدر اور یونیورسٹی ٹاؤن کے علاقوں سے گزرتی ہے تو اِن علاقوں میں مقامی ’اورنج ٹرین‘ طرز کی ریل گاڑی بھی چلائی جا سکے گی اور یہ ایک ’’ماحول دوست متبادل‘‘ ثابت ہوگا۔ پشاور سے جمرود ریلوے لائن کی بحالی سیاحتی نکتۂ نظر سے بھی اہم منصوبہ ہے اور ایک ایسے وقت میں جبکہ دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی کے تحت قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح مساویانہ بنیادوں پر حقوق دینے کی بات ہو رہی ہے تو موجودہ حالات میں پشاور طورخم ریلوے لائن کی بحالی سے زیادہ موزوں دوسراکوئی وقت نہیں ہوسکتا۔ مال برداری‘ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت‘ سیاحت کے فروغ اور آمدورفت جیسے اہداف بیک وقت حاصل کرنے سے متعلق منصوبے پر بھی تاخیر سے عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے پاکستان ریلویز کی سنجیدہ کوششوں کا اندازہ اس بات بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وفد میں ٹیکنیکل ڈائریکٹر سید منورشاہ‘ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ حنیف گل‘ ڈویژنل انجینئر اسد راشد مرزا بھی شامل تھے جنہوں نے نہ صرف سوسالہ ریلوے لائن کی بحالی کے بارے میں امکانات کا جائزہ لیا بلکہ مختلف زاوئیوں سے اِس منصوبے کی پائیداری کے حوالے سے بھی غور کیا۔