بریکنگ نیوز
Home / کالم / برماتشدد :انسانی حقوق کی پامالی

برماتشدد :انسانی حقوق کی پامالی


میانمار کی مغربی ریاست رخائن میں صرف شمالی علاقے ایسے تھے‘ جہاں روہنگیا مسلمانوں کے گاؤں باقی بچے تھے لیکن حالیہ فوجی کاروائیوں کے بعد اب وہ بھی نہیں رہے۔ ہمیشہ کی طرح بین الاقوامی میڈیا‘ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو متاثرہ علاقوں میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے چند صحافیوں کو سرکاری نگرانی میں مخصوص علاقوں کے دورے تو ضرور کروائے گئے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود سچائی کو چھپایا نہیں جاسکا۔ اس حوالے سے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ نے اپنے دورے کی جو رپورٹ شائع کی ہے‘ وہ لرزہ خیز ہے۔ رپورٹ کے مطابق میانمار کی حکومت نے باقاعدہ منصوبے کے تحت اِن صحافیوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی۔جوناتھن ہیڈ نے انکشاف کیا کہ جن لوگوں کو مسلمان قرار دے کر خود ہی اپنے گاؤں کو آگ لگاتا دکھایا گیا تھا‘ وہی لوگ ایک دوسرے کیمپ میں ہندو روہنگیا کے روپ میں مسلمان روہنگیا کے خلاف بات کر رہے تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ ڈرامے کی طرح تھا۔سنگلاخ پہاڑوں‘ وحشی جنگلوں‘ درندہ صفت انسانوں اور بارودی سرنگوں سے بچتا بچاتا طیب بنگلادیش کی سرحد پر پہنچ گیا ہے لیکن آگ اور خون کے اس راستے میں اب وہ تنہا ہے۔ ننھے طیب کو اس کی ماں نے چند روز قبل نور اور اُس کی بیوی کے حوالے کیا تھا۔ کسی طرح دونوں میاں بیوی طیب کو اپنے ساتھ بنگلادیش تو لے آئے ہیں مگر اب وہ اس کا مزید خیال نہیں رکھ سکتے۔

بنگلہ دیش کے ایک مقامی اخبار کے مطابق طیب کا باپ اس کی پیدائش سے چند ماہ قبل دوہزار بارہ میں ’روہنگیا کش فسادات‘ میں مارا گیا تھا اور پانچ سال بعد حالیہ فوجی کاروائیوں میں اسکی ماں بھی گاؤں پر اچانک حملے کے دوران لگائی گئی آگ میں جھلس گئی تھی۔ وہ دو روز زخموں سے کراہتی رہی مگر علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو گئی۔ یہ صرف ایک کہانی ہے! کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کیمپ پہنچنے والے ہر شخص کے پاس اپنی ایک کرب ناک داستان موجود ہے جسے سن کر شاید ہی کوئی ہو جس کی آنکھیں بھر نہ آئیں۔ اکیس اگست کے واقعے کے بعد روہنگیا ایک بار پھر عالمی ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں سج چکا ہے۔ تمام آزاد ذرائع کے مطابق فوجی چوکی پر حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کیخلاف فوجی کاروائیوں کے نام پر شروع ہونے والے آپریشن کا نشانہ عام لوگ ہیں۔ گزشتہ بیس دن میں تقریباً تین لاکھ افراد ہجرت کر کے بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں جنہیں اقوام متحدہ حالیہ تاریخ میں مختصر ترین وقت میں سب سے بڑی ہجرت قرار دے رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ’’روہنگیا دنیا کی مظلوم ترین اقلیتوں میں سے ایک ہیں‘‘ لیکن اسکے برعکس میانمار کی حکومت ایسی کسی اقلیت کے وجود کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں لاکھوں بنگالیوں نے برما کا رخ کیا جن کی اکثریت غیر قانونی طور پر مغربی ریاست رخائن میں آباد ہو گئی تھی۔ فوجی حکومت ہو یا شہری آزادی کی جدوجہد کیلئے معروف نوبل ایوارڈ یافتہ آنگ سان سوچی دونوں ہی یک زبان ہوکر کہتے ہیں کہ مبینہ بنگالیوں کو واپس اپنے ملک جانا چاہئے۔

امریکہ میں مقیم میانمار کے دانشور ڈاکڑ شو لو ماونگ کی کتاب ’’رخائن سٹیٹ وائلنس‘‘ اس مسئلے کی اہم وجہ کو سمجھنے میں انتہائی مدد گار ہے۔ ڈاکٹر شو لو کے مطابق رخائن ریاست کی بدھ نسل ’’رکھائین‘‘ روہنگیا مسلمانوں کی ریاست میں موجودگی کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ کہیں مسلمان دوبارہ رخائن ریاست نہ بنالیں حالانکہ برسرزمین ایسی کوئی تحریک اپنا وجود نہیں رکھتی ۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس نام نہاد خطرے کو بدھ راحبوں اور برما کی فوج نے پروپیگنڈہ کر کے عام لوگوں کے اذہان پر سوار کر دیا ہے روہنگیا مسلمانوں کیساتھ زیادتیوں کا آغاز 1948ء میں برما کی آزادی کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا ابتداء میں انہیں انگریزوں کی نشانی قرار دیکر دارالحکومت رنگون سے نکالا گیا اور پھر بتدریج اُن کے شہری حقوق چھینے جاتے رہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کی زیرِ قیادت کمیشن اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیںیہ رپورٹ بھی میانمار کی حکومت کے مؤقف کے برعکس‘ تلخیوں اور زیادتیوں سے بھری حقیقت پر مبنی ہے۔

چین اور روس میانمار کے دیرینہ اتحادی ہیں اور دونوں ممالک سلامتی کونسل میں میانمار کے خلاف ہر کاروائی کو ہمیشہ ویٹو کرتے آئے ہیں۔ چین ’’سی پیک‘‘ کی طرز پر ایک روٹ میانمار میں بھی بنارہا ہے جو اُس کیلئے بحرہ ہند میں پہنچنے کے لئے مختصر ترین روٹ ہے اس روٹ کے راستے میں کسی روہنگیا مسلمانوں کا بے ضرر وجود اُسے بھی برداشت نہیں امریکہ اور مغربی دنیا کو اِس خطے میں دلچسپی نہیں‘ باقی رہی مسلم دنیا‘ تو اُس کا ضمیر مفادات کی قید میں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد پر کھجور کے پتوں سے بنے خیمے میں بیٹھے ننھے طیب کے نصیب میں مزید آنسو اور دکھ ہیں جن کا مداوا کرنے کے لئے کوئی بھی موجود نہیں۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر اسلم ترمذی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)