بریکنگ نیوز
Home / کالم / تعلیم کی نجکاری

تعلیم کی نجکاری


عوام کی بدقسمتی کی بہت سی جہتیں ہیں‘مغربی پاکستان ایک تھا تو ایک ہی نظام تعلیم پورے صوبے میں تھااس طرح مشرقی پاکستان میں گو مغربی پاکستان سے تعلیمی نظام کچھ الگ تھا مگر اس پر اجارہ داری حکومت پاکستان ہی کی تھی جب مشرقی پاکستان ہم سے جدا ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تو ا س کی تعلیمی پالیسی پورے ملک کی ایک ہی ہے اور جو بھی کمی بیشی کرنی ہو وہ مرکز ہی کرتا ہے۔مغربی پاکستان میں بد قسمتی یہ ہوئی کہ بوجوہ اس کی ایک اکائی کو توڑ دیا گیا اور ملک کو چار صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا۔تب بھی اور چیزوں میں کمی بیشی ہوتی رہی مگر تعلیم کو مرکز میں ہی رکھا گیا اور نصاب تعلیم پورے ملک کے لئے ایک ہی رہا ۔ صرف لوکل طور پر کچھ نصاب چند صوبوں میں الگ ہوا کہ اس صوبے کی جو بڑی زبان تھی اسے نصاب میں شامل کیا گیا تو ظاہر ہے کہ اس کی ذمہ داری صوبے ہی کی تھی مگر نصاب مرکزی حکومت ہی کی طرف سے ہوتا تھا۔ پھر ہمارے سیاستدان اپنی اپنی مناپلی کی خاطر اٹھارویں ترمیم لائے اور صوبوں کو بہت سے محکمے دے دیئے گئے صرف چند ایک معاملات مرکز کے پاس رہے جن کا تعلق سارے ملک سے تھا۔ اس میں ایک غلطی یہ ہوئی کہ تعلیم کو صوبائی سبجیکٹ قرار دے دیا گیا اس سے بہت سی قباحتیں در آئیں کچھ صوبوں کو ایکسپلائٹ کرنے کے لئے بیرونی امدا د دی گئی جو در اصل مرکز کا حق ہوناچاہئے مگر صوبوں نے مرکز سے بالابالا بیرونی امداد لینی شروع کر دی جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ صوبوں کو امداد دینے والے ملکوں یا ایجنسیوں کے احکام بھی ماننے پڑے اور انکی مشاورت سے نصاب میں تبدیلیاں کی جانے لگیں جو ہمارے نظام تعلیم کے لئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ‘مثال کے طور پر ہمارے نصاب میں جو بھی قرآنی تعلیمات تھیں ان کو نکال دیا گیااسی طرح ہمارے صوبے میں مسلمان دانش وروں اور سائنسدانوں کے اسباق نکال دیئے گئے۔

جس کے لئے ہمارے تعلیمی ادارے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں مگر جو قرض دیتا ہے وہ اپنی مرضی تو منواتا ہے اس طرح کی جو تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اس کے لئے لوگوں نے احتجاج کئے ہیں اور ٹھیک کئے ہیں اسلئے کہ جو لوگ اس محکمے سے براہ راست منسلک ہیں وہی اسکے متعلق اور اسکی بہتری کے متعلق صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں جبکہ اسمبلی کے بیشتر ممبران کا تعلیم کے شعبے سے صرف اتنا ہی تعلق ہے کہ انہوں نے جھوٹی یا سچی ڈگریاں اس شعبے سے لے رکھی ہیں مگر اساتذہ اس شعبے کو اچھی طرح جانتے ہیں اور اس میں جو خامیاں نظر آتی ہیں ان کی نشاندہی بھی کرتے رہتے ہیں۔مثال کے طور پر پانچویں اور آٹھویں کے بورڈ کے ذریعے امتحانات کی سارے ہی اساتذہ مخالفت کر چکے ہیں اس لئے کہ ان کو زمینی حقائق کا ادراک ہے۔وہ جانتے ہیں کہ اس عمل سے کتنا تعلیمی وقت کا ضیاع ہو گا۔مگر حکومت کسی بھی طرح اس پر کان دھرنے کو تیار نہیں اس کی وجہ تو سب کو معلوم ہے مگر بول کوئی نہیں رہا۔

اب ایک نیا شوشہ حکومت کے پی کی طرف سے چھوڑا جا رہا ہے کہ وہ تعلیم کو مکمل طور پر نجی ہاتھوں میں دینا چاہ رہی ہے۔اس پر سارے کے سارے اساتذہ سراپا احتجاج ہیں اور اس کے نقصانات کی دلیلوں سے وضاحت کر رہے ہیں مگر حکومت کسی طرح بھی مان نہیں رہی جہاں تک ہمارے صوبے میں تعلیم کا حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ حکومت ہی کا فرض ہے کہ وہ عوام کی تعلیمی ضروریا ت پوری کرے اس میں اگرکوئی شخص یا کوئی نجی ادارہ تعلیم کے شعبے میں حکومت کا ہاتھ بٹاتا تھا تو حکومت اسکا ہاتھ بٹاتی تھی یعنی حکومت کی طرف سے اسے کچھ امداد دی جاتی تھی مگر اب سب کچھ اُلٹا ہو گیا ہے اب نجی تعلیمی ادارے حکومت کیلئے دودھ دینے والی گائیں بن چکے ہیں ان پر ہر طرح کے ٹیکس لگائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں جہاں ٹیکس پانچ سو روپے تھا وہاں دس ہزار کر دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت پورے سکولوں کالجوں کو نجی تحویل میں دے کر اُن سے رقم وصول کرنے کا سوچ رہی ہے۔