بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اے این پی کی اے پی سی

اے این پی کی اے پی سی


عوامی نیشنل پارٹی کی اسلام آباد میں طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس نے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی جانب سے تحفظات وخدشات کیساتھ بعض مطالبات اور تجاویز بھی سامنے آئی ہیں‘ اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فاٹا میں ایف سی آر ختم کرکے باضابطہ عدالتی نظام قائم کیاجائے جس کا دائرہ پشاور ہائی کورٹ ہو‘ قبائلی عوام کو تمام حقوق دینے کے ساتھ فاٹا کی ترقی کیلئے دس سالہ ترقیاتی منصوبہ بنایا جائے‘ قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے‘کانفرنس میں شریک فاٹا کے رکن پارلیمنٹ شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ اگر قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم نہ کیاگیا تو صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کریں گے‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اصلاحات پر عمل درآمد کیلئے 9نومبر تک کی مہلت دیتے ہیں جس کے بعد احتجاج کیاجائیگا‘جہاں تک مولانا فضل الرحمان‘ محمود خان اچکزئی یا کسی اور کے اختلاف کا سوال ہے تو سیاسی ادوار میں یہ معاملات سیاسی طریقے پر مل بیٹھ کر طے کئے جاسکتے ہیں ‘۔

انضمام کا کیس شروع ہونے پر ہی سابق وزیراعظم نوازشریف نے تمام اتحادیوں اور دوسرے رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کا کہا بھی تھا‘ تاہم قبائلی علاقوں کی تعمیر وترقی اور یہاں کے عوام کو حقوق دینے کے سوال پر سب متفق ہیں‘ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں دیاگیا ٹائم فریم طویل المدتی بھی تھا اور اس پر عمل درآمد کی رفتار بھی انتہائی سست روی کا شکار تھی‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے کیس کو نمٹانے کی جانب پیش رفت کی‘چند روز پہلے فاٹا میں ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کا عندیہ دیاگیا پھر اس حوالے سے بل ایوان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیاگیاحالات کا تقاضا ہے کہ ایک جانب سٹیک ہولڈرز اور سیاسی قیادت کے تحفظات دور کئے جائیں اور دوسری جانب انضمام اور اصلاحات سے جڑے دیگر امور نمٹانے کیلئے موثر حکمت عملی طے کی جائے‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جس طرح اس سارے معاملے میں پیش رفت کی ہے اس سے ان کے احساس وادراک کا اندازہ ہوتا ہے‘تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈائیلاگ اور پھر اصلاحات کیلئے عملی اقدامات کی نگرانی خود پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کرے‘ اس کیساتھ تمام متعلقہ اداروں میں ریفارمز کے حوالے سے خصوصی سیل قائم کرنے کا کہاجائے تاکہ خط وکتابت میں کوئی غیر معمولی تاخیر نہ ہو۔

پلاسٹک بیگز پر پابندی؟

ہمارے رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق پلاسٹک بیگز پر پابندی کے ریفرنس سے قائم حکومت کی خصوصی کمیٹی کے سربراہ شوکت یوسفزئی کی جانب سے ڈپٹی کمشنروں کو فیصلے پر عملدرآمد کیلئے کریک ڈاؤن کی ہدایت کیساتھ بڑی کمپنیوں کی رعایت کیلئے درخواست مسترد کرنا حکومتی احساس کی عکاس ضرور کرتا ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا نگرانی کے کڑے نظام سے مشروط ہے‘ صوبائی حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے متعدد ایسے منصوبے ہیں جن میں تاخیر کا نوٹس خود وزیراعلیٰ بھی لے چکے ہیں‘پلاسٹک بیگز پر پابندی کے حوالے سے اگر اسی طرح پوچھ گچھ ہوتی رہی جیسی شوکت یوسفزئی نے کی ہے تو حکومت کا یہ بڑا اعلان برسرزمین نتائج کی صورت اختیار کرلے گاجس سے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے اہداف حاصل ہونے کیساتھ بلاک سیوریج سسٹم کلیئر ہونے میں مدد ملے گی۔