بریکنگ نیوز
Home / کالم / سی پیک: چین کی توقعات!

سی پیک: چین کی توقعات!

چین کی قیادت اور عوام میں پاکستان کے لئے جو خیر خواہی کا جذبہ دیکھنے کو ملتا ہے اس کا شاید ہی کوئی ثانی ہو اور اسی لئے ہمیں ان کے خدشات اور تجاویز پر بھی دھیان دینا ہوگا۔ یہاں پیش کردہ خلاصہ ان کے مختلف خیالات کا ایک مخلوط خاکہ ہے۔ سال دوہزارتیرہ میں اعلان کردہ اپنے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ حکمت عملی کے تحت چین پوری دنیا میں چھ راہداریاں بنانے کیلئے ساٹھ ممالک میں قریب دس کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے دیگر ممالک تو اس منصوبے کو لے کر کافی پرجوش ہیں مگر پاکستان کے چند حلقوں کی جانب سے ذرائع ابلاغ پر شکوک و شبہات پر مبنی منفی ردعمل دیکھ کر چند چینی دوست کافی حیران و پریشان ہیں۔ ان کے لئے یہ بات باعث حیرت اسلئے ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کا ایک طویل اور بلاتعطل سلسلہ قائم رہا ہے جو ان دو ملکوں کی سیاسی قیادتوں کے بدلنے سے بھی کبھی متاثر نہیں ہوا۔ سی پیک اپنی نوعیت کا پہلا ایسا منصوبہ ہے جسکے تحت پاکستان میں بڑے بڑے انفراسٹرکچرل منصوبوں کی تعمیر کیلئے بڑے پیمانے پر معاشی تعاون اونچی سطح تک بڑھایا جائے گا اگرچہ انہیں اس منصوبے کی مخالف چند بیرونی قوتوں کا تو اندازہ ہے لیکن چینی تجزیہ کار اور کانفرنس میں شریک چینی حقائق کی پاکستانیوں کی طرف سے کی جانے والی غلط بیانی پر فکرمند دکھائی دیئے۔ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ کس مقصد کے تحت پاکستانی عوام کے ذہنوں میں سی پیک کے بارے میں خدشات اور شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں۔

چینیوں کے مقاصد کو جس طرح بدنام کیا جا رہا ہے کہ کبھی اس منصوبے کو ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘سے مشابہہ کیا جاتا ہے یا کبھی پاکستان کے چین کا سیٹلائٹ ملک بننے کی بات کی جاتی ہے‘ وہ کافی حوصلہ شکن ہے۔ سی پیک کے بیرونی مخالفین ایسی رپورٹس کو چن کر اکٹھا کرتے ہیں اور سی پیک منصوبوں سے پاکستان کو لاحق رسک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور پھر اس پلندے کو دور دور تک پھیلا دیا جاتا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ آئی پی پیز‘ ایک طویل عرصے سے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے پالیسی کا حصہ رہی ہیں‘جب ملک سنگین توانائی بحران کا سامنا کر رہا تھا تب اور کوئی ملک پاکستان کی مدد کرنے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے آگے نہیں بڑھا اب جبکہ چین اسی پالیسی کے تحت پینتیس ارب ڈالرز یا سی پیک کے لئے مختص کردہ مجموعی رقم کے ستر فیصد حصے کی سرمایہ کاری کیساتھ آگے بڑھا ہے تو اس پر پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اگر اس منصوبے کے تحت چینیوں کے فائدے کیلئے پاکستان کے قدرتی وسائل نکالے جاتے ہیں تو تنقید درست ہوگی لیکن اسکے برعکس‘ اس سرمایہ کاری کے فوائد خصوصی طور پر پاکستان کی صنعتوں کو حاصل ہوں گے اور لوگوں کو لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارہ ملے گا جبکہ ملکی سالانہ مجموعی قومی پیداوارمیں دو فیصد کا اضافہ ہوگا۔ چینی حکومت نے جن چینی سرکاری کمپنیوں کو ان کی صلاحیتوں اور تجربے کی بنیاد پر ’سی پیک‘ میں شامل کیا ہے وہ سرکاری بینکوں سے آسان اقساط اور رعایتی شرح سود کیساتھ فراہم کردہ قرضے کی مدد سے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ کئی منصوبوں پر تو چینی اور پاکستانی کمپنیاں مشترکہ طور پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ پاکستان اور چینی کمپنیوں کی مشترکہ صنعتیں سی پیک کے تحت بننے والے گوادر فری زون اور نو صنعتی زونز میں منتقل کرنے سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور یوں زر مبادلہ میں قرض کی ادائیگی اور منافعوں کی بیرون ملک منتقلی ممکن ہو پائیگی۔

چند کے خیال میں‘ منفی احساسات ان منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی ذاتی سکیورٹی کیلئے خدانخواستہ خراب حالات پیدا کر سکتے ہیں‘ خاص طور پر وہ چینی باشندے جو بلوچستان کے حساس علاقوں میں موجود ہیں پاکستانی ریاست اور حکومت سے ناخوش چند عناصر جو ممکنہ طور پر سی پیک مخالف بیرونی قوتوں کی ایماء پر کام کرتے ہیں‘ انہوں نے ایسا ماحول پیدا کردیاہے جہاں اب چینیوں کے قتل اور اغواکاری کے واقعات بھی رونما ہونے لگے حالانکہ اس سے قبل بالکل بھی ایسی صورتحال نہیں تھی پاک فوج کی جانب سے چینیوں کے تحفظ کیلئے ایک نیا ڈویژن قائم کرنے پر ہمارے باہمی دوست احسان مند تو نظر آئے لیکن سکیورٹی خطرات کی وجہ سے چند غیر محفوظ جگہوں کی جانب منتقلی کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔’سی پیک‘ منصوبے کے مینجرز کیلئے جو دوسری پریشانی کی باعث تھی وہ ہے پاکستانی حکومت میں شامل بیوروکریسی کے سرخ فیتے اور بوجھل فیصلہ سازی۔ کلیئرنس اور منظوری کے مرحلے میں کئی ادارے شامل ہیں‘ ہر ادارہ اپنا وقت لیتا ہے۔ انہی تاخیروں سے ان کا پیسہ خرچ ہوتا ہے اور منصوبے کی سرگرمیوں کے شیڈول اور ٹائم ٹیبل بھی متاثر ہوتے ہیں۔ منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مسلسل وفاقی و صوبائی و مقامی سطح کا حکومتی تعاون نہایت ضروری ہے۔

زمین کے حصول کا کام صوبائی مقامی حکومت کے ماتحت ہے اور یہ مرحلہ کافی وقت لیتا ہے جب ان سے نجی شعبے کی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو چینی ایگزیکٹوز نے ہمیں بتایا کہ کم قابلیت اور تجربے کی حامل پاکستانی کمپنیاں ایک بہت بڑا مسئلہ ہیں اگر وہ مقامی کمپنیوں کیساتھ اپنے معاہدے کے حصے کے طور پر پاکستانی مینجرز‘ قابل کام کرنیوالے‘ آلات چلانے والے اور لیبر بھرتی کرتے ہیں تو بھی ان کی اپنی پیداواری لاگت کم ہو گی۔ یہ خیالات شاید درست ہوں یا غلط لیکن ہمیں ہمارے چینی شراکت داروں کو جن چند اصل مسائل کا سامنا ہے ان کے حل کیلئے ہمیں تحقیقات کرنی ہونگی اور اقدامات کرنے ہونگے سی پیک پاکستان کیلئے یکساں اہمیت کا حامل ہے اور اِسے خاطرخواہ سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: ڈاکٹر عشرت حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)