بریکنگ نیوز
Home / کالم / ضمنی انتخابات

ضمنی انتخابات


الیکشن تو چار سال سے ہوتے ہی آئے ہیں۔ کبھی جنرل الیکشن اور کبھی ضمنی الیکشن۔ لوگ ووٹ مانگتے بھی آ رہے ہیں اور لوگ ووٹ دیتے بھی آ رہے ہیں۔الیکشنوں میں ہنگامہ اس لئے کھڑا ہو گیا ہے کہ اب دو جماعتیں جنکا قومی اسمبلی میں تناسب ایک اور نو کا ہے ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہو گئی ہیں۔ ابھی تک جو بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں اس میں سوائے ایک سیٹ کے چھوٹی جماعت کو کوئی بھی سیٹ نہیں ملی۔خود اس کی خالی کردہ نشستوں سے بھی اسے کوئی واپس نہیں مل سکی مگر پھر بھی اس پارٹی کی ہمت کو داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے ابھی تک ہمت نہیں ہاری۔ ان انتخابات کا ایک فائدہ اس پارٹی نے ملکی سطح پر دیا ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں ایک نئی انتخابی زبان کا استعمال ہوا ہے۔وہ پیشہ ( سیاست ) جو بہت ہی مقدس سمجھا جاتا تھا اس لئے کہ اسکے ذریعے ہی قوم کو اس کے نمائندے ملتے ہیں جو ملک کو آگے لے جاتے ہیں یا تباہی کی جانب لے کر جاتے ہیں۔بہت پہلے ایک رجیم ایساتھا کہ جس میں قومی نمائندوں نے صحیح معنوں میں ملک کی خاطر کام کیا۔ اس دور میں ہمیں انتہائی اعلیٰ دماغ اپنی رہبری کو ملے۔ اسی دورمیں ایک زرعی ملک کو ڈیم ملے جن سے بجلی بھی پیدا ہوئی اور ہماری زرعی پیداوار میں بھی بڑھوتری ہوئی اتنا کہ ہم اس سے پہلے امریکہ کی گندم سے اپنا کام چلا رہے تھے اور اس دور کے بعد ہم کم از کم گندم اور چاول میں خود کفیل ہوگئے اس طرح ہمارے ہاں صنعتوں کا بھی جال بچھایا گیا ۔ اس میں ایک کوتاہی البتہ ضرور ہوئی کہ صنعتوں کو ایک ہی شہر میں مرکوز کر دیا گیا۔

اسکی ایک وجہ تو شاید یہ تھی کہ یہ شہر ایک بندر گاہ بھی تھا جس کی وجہ سے یہاں کا صنعتی مال بر آمد کرنے میں آسانی تھی مگر بعد میں یہ تجربہ خاصی پریشانی کا باعث بنا اگر جیسا اسوقت کے معیشت دانوں کا خیال تھا کہ صنعتوں کو برآمدی نقطہ نظر کی بجائے خام مال کی بنیاد پر رکھا جاتا تو ہماری صنعتوں کو جو نقصان ایم کیو ایم کے ہاتھوں ہوا وہ نہ ہوتا ۔خیر اب بھی وقت کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے اگر صنعتوں کو خام مال کی نظر سے لگایا جائے تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ خیر بات دوسری جانب نکل گئی کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے انتخابی معرکوں میں جوحسن پہلے وقتوں میں تھا وہ کافی تبدیل ہو گیا ہے۔لیڈروں نے ایسی زبان سے عوام کو روشناس کروا دیا ہے کہ اب شاید ہمیں واپس اعلیٰ اقدار کی جانب لوٹنے میں بہت زیادہ وقت لگے۔ اس میں ہمارے میڈیا کا بھی بڑا ہاتھ ہے کہ اس میں بہت سے ایسے چینل آ گئے ہیں کہ جن کو قوم کے بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ‘صرف جذبات کو ابھارنے اور غلط زبان کو رواج دینے میں ہی دلچسپی ہے۔ این اے 120 کا انتخاب ایک ایسا انتخاب بن چکا ہے کہ جس میں ہار جیت کا تو جو ہو گا وہ ہو گا مگر جس طرح سے انتخابی جلسوں جلوسوں اور ریلیوں میں دونوں جانب سے زبان استعمال کی گئی وہ کسی بھی طرح قابل تعریف نہیں کہی جا سکتی۔ عدالت کے فیصلوں سے ہارنے والے فریق کو کبھی بھی اتفاق نہیں ہوا کرتامگر فیصلوں پر وہ زبان نہیں استعمال کی جاتی جو ہو رہی ہے۔

ایک طرف سے فیصلوں پر ناچاجا رہا ہے اور دوسری جانب سے ملک کی سب سے بڑی عدالت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ بھی دیکھا جا رہاہے مگر ہونا یہ چاہئے کہ جو بھی فریق اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ان کے جیتنے سے یا ہارنے سے اسمبلی میں ایک رتی برابر بھی فرق نہیں پڑے گا مگر جس طرح کے حملے ایک دوسرے پر اور سیٹ سے الگ کئے جانے والے شخص پر اور عدالت عظمیٰ پر ہو رہے ہیں یہ کوئی انتخابات میں کنونسنگ کا طریقہ نہیں ہے۔کسی بھی جانب سے ایسا دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ کسی ایجنڈے پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اس انتخابات میں حصہ لیا جا رہا ہے۔ ادھر ایک فریق مسلسل اس کوشش میں ہے کہ ایک فریق کے امیدوار کو نااہل قرار دیا جائے تاکہ اس کے امیدوار کو بھی چند ووٹ مل سکیں اس امیدوار کی ناا ہلی سے الیکشن کمیشن نے بھی اتفاق نہیں کیا ہائی کورٹ نے بھی مخالف فریق کا موقف نہیں مانا اب ایک فریق سپریم کورٹ میں چلا گیا ہے ۔ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ہماری نظر میں تو جو امیدوار میدان میں ہیں ان کو کسی ادارے کے پیچھے نہیں چھپنا چاہئے بلکہ اپنے گھوڑے کو میدان میں لانا چاہئے تاکہ مقابلہ ہو ۔ عمران خان نے اس الیکشن کو سپریم کورٹ اور کرپشن کے درمیان جنگ سے تشبیہ دی ہے آج دیکھنا ہے کہ بقول ان کے سپریم کورٹ جیتی ہے یا کرپشن جیت جاتی ہے۔