بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / معطل ترقی!

معطل ترقی!

خیبرپختونخوا میں ترقی کا عمل جاری و ساری رکھنے کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ ترقی کی رفتار ہی کم کر دی جائے! صوبائی حکومت نے ایسے تمام منصوبوں کے لئے مالی وسائل روک دیئے ہیں جن پر کام کا آغاز رواں مالی سال کے باقی ماندہ عرصے میں شروع ہونا تھا۔ محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ اور ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق صوبائی حکومت نے سردست مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے ’پچیس فیصد‘ فنڈز روکے ہیں اور اس امر کا باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت دو مختلف اقتصادی محاذوں پر ڈٹ کر مالی وسائل کی کمی سے نمٹ رہی ہے۔ پہلا محاذ رواں مالی سال کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل جاری کرنے کا ہے جس کیلئے حکمت عملی یہ ہے کہ کم سے کم فنڈز جاری کئے جائیں جن سے منصوبوں کی بنیادی طورپر تکمیل ہو سکے اور دوسرا صوبائی حکومت کو بالآخر خیال آ ہی گیا ہے کہ ’’بچت بھی ضروری ہے۔‘‘ اے کاش کہ چار سال حکومت کرنے کے بعد‘ تبدیلی کے علمبرداروں کو جس مالی بچت کا آج خیال آیا ہے‘ وہ شروع دن سے اِختیار کی جاتی تو ترقیاتی عمل یوں متاثر نہ ہوتا اور پچیس فیصد کٹوتی نہ کرنا پڑتی!ماضی کی طرح موجودہ صوبائی کابینہ اور اسمبلی اجلاسوں کے درپردہ جس مہمان نوازی اور پرتکلف تواضع کا مظاہرہ کیا جاتا ہے وہ قطعی مختلف نہیں۔ ماضی میں بھی اسی قسم کے خرچے اور چرچے ہوا کرتے تھے اور آج بھی حکمران بن کر سیاستدان سیاسی خرچ پر شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے محظوظ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

بوتلوں میں بند پانی اور مشروبات سے سجی میزوں کے اردگرد بیٹھ کر خیبرپختونخوا کی حالت زار تبدیل کرنے والوں کو قوم سے معافی مانگنی چاہئے کہ وہ کچھ بھی مختلف نہیں کرسکے! ماضی میں بھی کوئی ایک ایسا وزیر‘ مشیر نہیں پایا جاتا تھا جس کی سرکاری گاڑی میں سرکاری خزانے سے ایندھن اور آگے پیچھے گاڑیوں کی قطاریں نہ دکھائی دیتی ہوں‘ اصلاح ضروری ہے لیکن دوسروں کی نہیں بلکہ یہ عمل اپنی ذات سے شروع ہونا چاہئے تھا۔ عمران خان کے سیاسی نظریات کو عملاً ناکام ثابت کرنیوالے کوئی اور نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے ’ہم جماعتی‘ ہیں جنہوں نے اپنے مفادات کی قربانی زیادہ بڑے مقصد کے حصول کے لئے نہیں دی! اور آج پشیمان و شرمندہ بھی نہیں!بارہ ستمبر کو جاری ہونیوالا صوبائی حکومت کا اعلامیہ کئی لحاظ سے قابل غور ہے‘ جس کی جامعیت کا اندازہ اس ایک جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’تاحکم ثانی موجودہ سرکاری ملازمین کو کسی بھی قسم کی اضافی مراعات نہیں دی جائیں گی اور نہ ہی سرکاری عہدوں کے اختیارات و کام کاج میں کوئی بھی ایسی توسیع یا ردوبدل ہو گا کہ جس سے ان کو ملنے والی تنخواہ وغیرہ میں اضافہ ہو۔‘‘مالی مشکلات کے باعث صوبائی حکومت نے تاحکم ثانی ہر قسم کی بھرتیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جو زیادہ بڑی خبراور بالخصوص ان نوجوانوں کے لئے نوید نہیں جو سرکاری ملازمتوں کے متمنی اور آس لگائے بیٹھے ہیں یقیناًصوبائی سطح پر موجودہ اقتصادی مشکلات آئندہ عام انتخابات پر بھی منفی اثرات مرتب کرنے کا مؤجب بنیں گی۔ ماضی کی سیاسی حکومتیں ترقیاتی کام اور ملازمتیں انتخابی سال کیلئے روک کر رکھتی رہی ہیں لیکن موجودہ حکومت انوکھی حکمت اور منفرد منطق کا مظاہرہ کر رہی ہے جس سے اسکی مقبولیت اور ووٹ بینک میں کمی آ سکتی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت نے تمام غیرترقیاتی مدوں کیلئے مالی وسائل کی فراہمی روک دی ہے جبکہ سرکاری دفاتر‘ ملازمین‘ افسرشاہی اور منتخب نمائندوں کو ایندھن کی مد میں ملنے والے الاؤنس میں بھی پچیس فیصد کمی کر دی ہے افسرشاہی کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ یہ طبقہ اپنی کرپشن جاری رکھنے کے لئے سیاست دانوں کو بھی شریک سفر کر لیتا ہے اور یوں سرکاری وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے!رواں مالی سال کیلئے خیبرپختونخوا کے کل بجٹ میں 208 ارب روپے ترقیاتی کاموں کیلئے مختص کئے گئے تھے جس میں 82 ارب روپے غیرملکی امداد سے جبکہ 126 ارب روپے صوبائی حکومت کے وسائل سے مہیا کرنا تھے۔ بجٹ میں موجودہ کمی کا اطلاق صوبائی محاصل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر لگایا گیا ہے جس سے بجٹ کا مقامی حصہ 94.5 ارب روپے رہ گیا ہے اور اس کمی سے ضلعی حکومتیں بھی متاثر ہونگی جنہیں 2013ء کے ’لوکل گورنمنٹ ایکٹ‘ کے تحت ترقیاتی فنڈز کا 30فیصد ادا کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ قبل ازیں صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا کی ضلعی حکومتوں کے لئے تیس کی بجائے پچیس فیصد ترقیاتی فنڈز جاری کئے جن میں مزید کمی کرکے اکیس فیصد کردیا گیا ہے اور عجیب اتفاق ہے کہ موجودہ حکومت گذشتہ تین برس سے ہرسال کسی نہ کسی وجہ سے ضلعی حکومتوں کیلئے مالی وسائل میں کمی کر رہی ہے! کیا ان سبھی اقدامات کا آئندہ انتخابات کے نتائج پر کوئی اَثر نہیں پڑے گا۔