بریکنگ نیوز
Home / کالم / اقتدار میں رہنے کاہنر

اقتدار میں رہنے کاہنر

نیب کے موجودہ چیئرمین کو سابق وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کے بعد تعینات کیا گیا تھا خورشید شاہ صاحب کی ٹیلی وژن پر ایک فوٹیج موجود ہے جس میں وہ نیب کے چیئرمین صاحب کی تعریف فرما رہے ہیں لہٰذااگر آج وہ یہ کہتے ہیں کہ نیب کا چیئرمین متنازعہ شخص ہے تو انکی بات میں کوئی وزن دکھائی نہیں دیتا آج کل پھر قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن نئے نیب چیئرمین کی تلاش میں ہیں کیونکہ موجودہ چیئرمین چند دنوں میں ریٹائرڈ ہونیوالے ہیں واقفان حال کا کہنا ہے کہ اب کی دفعہ بھی وہ کسی ایسے فرد کو ڈھونڈ نکالیں گے کہ جس پر انکا سوفیصد بھروسہ ہو کہ وہ کرپشن کے ان مقدما ت کو سر سبز نہیں کریگا کہ جن میں حکومتی پارٹی اور پی پی پی کے بعض رہنما ملوث ہیں چین میں آج کل کرپشن میں ملوث اعلیٰ حکام کو پھانسی دی جا رہی ہے کیا ہم بھی کوئی ایسا قانون اپنے ہاں نافذ نہیں کر سکتے جسکے تحت جو شخص بھی کرپشن میں ملوث پایا جائے اس کو شہر کے چوکوں پر الٹا لٹکایا جائے ؟ ادھر یہ بات عین ممکنات میں سے ہے کہ سابق وزیراعظم آج ہونے والے لاہور کے حلقہ120 کے ضمنی الیکشن میں اپنی اہلیہ کی کامیابی کی صورت میں فوراً ملک واپس چلے آئیں مریم نواز صاحبہ کی اپنی سیاسی پارٹی کے اندر تمام معاملات پر گرفت کافی مضبوط نظر آ رہی ہے واقفان حال کا کہنا ہے کہ ان کی وزیراعظم بننے کی خواہش ہے عرصہ دراز سے عملاً ان کاچال چلن وزیراعظموں جیسا ہے اپنی والدہ کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھاکر بھی معاملات ان کے ہی ہاتھوں میں اس لئے رہیں گے کہ ان کی والدہ بوجہ بیماری زیادہ متحرک کردار ادا نہ کر پائیں گی اور پس پردہ مریم نواز صاحبہ کا ہی سکہ چلتا رہے گا ۔

ہاں یہ اور بات ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں سابق وزیراعظم صاحب کو بحیثیت (فرسٹ جنٹلمین) رہنے کا موقع مل جائیگا شاہد خاقان عباسی ازراہ مروت تو کبھی کبھار پبلک جلسوں میں یہ بات کہہ جاتے ہیں کہ اصل وزیراعظم تو نواز شریف ہی ہیں لیکن جس زور و شور اور دلجمعی سے وہ وزارت عظمیٰ کے فرائض نبھا رہے ہیں ان سے عوامی حلقوں میں ان کی سیاسی ساکھ بڑھ رہی ہے جو (ن)لیگ کے اندر کئی لوگوں کو غالباً پسند نہیں جوں جوں الیکشن کی تاریخ نزدیک آ رہی ہے ہر سیاسی پارٹی سے نکالا گیا ہوا راندہ درگاہ کسی دوسری سیاسی پارٹی کے آنگن میں اتر رہا ہے کوئی پی پی پی جائن کر رہا ہے تو کوئی اے این پی تو کوئی پی ٹی آئی او ر دکھ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی دوسری سیاسی پارٹیوں کے ہر راندہ درگاہ کو گلے لگا رہی ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ جو شخص اپنی اوریجنل سیاسی پارٹی سے وفا نہ کر سکا وہ اس سیاسی پارٹی کے ساتھ بھلا کیسے وفادار رہے گا کہ جو وہ آج جائن کر رہا ہے اس قسم کے لوگ تو کسی کے بھی وفادار نہیں ہوتے وہ صرف اور صرف اپنی ذات ‘ اپنی انا اور اپنے مالی و سیاسی مفادات کے وفادار ہوتے ہیں لہٰذا جن سیاسی پارٹیوں میں اس قسم کے لوگ شمولیت اختیار کر رہے ہیں ان کے قائدین اس بات پر قطعاً خوش نہ ہوں کہ ان کی پارٹی میں دوسری سیاسی پارٹیوں سے ٹوٹ کر آنے والے لوگ ان کا دامن تھام رہے ہیں یہ لوگ کل کلاں ان کو بھی داغ مفارقت دے سکتے ہیں یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ اس ملک سے نظریاتی سیاست کب کی عنقا ہو چکی آج کل سیاسی پارٹیوں کی مثال کمرشل کمپنیوں جیسی ہو گئی ہے جو کمپنی یا کارخانہ مارکیٹ میں زیادہ کامیاب نظر آ رہا ہے لوگ اسی کے شیئر زیادہ سے زیادہ تعداد میں خریدتے ہیں یہ بھی ایک ہنر ہے کہ کوئی صحیح اندازہ لگا لے کہ آئندہ الیکشن میں کس سیاسی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے چانس زیادہ ہیں۔

اور پھر اس میں شمولیت اختیار کر لے آپ اگر تنقیدی نظر سے اپنے ملک میں سیاسی کھلاڑیوں کے ماضی کو دیکھیں تو آپ کو کئی ایسے لوگ ملیں گے کہ جنہوں نے کئی کئی سیاسی پارٹیاں بدلی ہیں اور عین اس وقت انہوں نے وہ سیاسی پارٹی جائن کی ہے کہ جب ان کو ان کے الیکشن میں کامیابی کے امکانات زیادہ روشن دکھائی دیتے ہیں اس ملک میں سیاسی لوگوں کا ایک ایسا ٹولہ بھی موجود ہے بلکہ یوں کہیے ایسے خاندان بھی موجود ہیں کہ جن کے افراد ملک کی مختلف سیاسی پارٹیوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں چنانچہ وہ ہر دور میں ایوان اقتدار میں ہی رہتے ہیں یہ بات قابل افسوس ہے کہ اس ملک میں الیکشن کمیشن اس طرح مکمل طور پر آزاد اور خود مختیارابھی تک نہیں ہو سکا ہے کہ جس طرح وہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں ہے ۔