بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹریفک حادثات

ٹریفک حادثات

ایک مستند سروے کے مطابق پاکستان میں ٹریفک کے حادثات میں جتنے لوگ ہر سال مر رہے ہیں ان کی تعداد کینسر اور امراض قلب سے مرنے والوں سے زیادہ ہے اس کی کئی وجوہات ہیں جن کے بارے میں ہم آگے چل کر آپ کو بتائیں گے آج کل حکومت پنجاب کی جانب سے صوبے بھر میں ون ویلنگ کیخلاف جو کریک ڈاؤن شروع کیا گیاہے وہ قابل ستائش ہے ضرورت اس امرکی ہے کہ موٹر وہیکل آرڈی نینس1965ء کے تحت اس قسم کاکریک ڈاؤن دوسرے صوبوں میں بھی شروع کیا جائے اس آرڈی نینس کے تحت ون ویلنگ میں ملوث افراد کو 6 ماہ سے2 سال تک قید یا دس ہزار روپے جرمانہ کیا جا سکتاہے موٹر سائیکل بحق سرکار ضبط کی جا سکتی ہے جبکہ والدین کو بھی دفعہ 109 تعزیرات پاکستان کے تحت اعانت جرم کا مرتکب قرار دیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ موٹر سائیکل میں ون و یلنگ کیلئے رد و بدل کرنے والے مکینک کو بھی قانون کی گرفت میں لیا جا سکتا ہے ون ویلنگ میں جو بچے ملوث ہیں ان میں اکثریت نو دولتیوں کے بگڑے ہوئے بچوں کی ہے یا پھر انکا تعلق اشرافیہ سے ہے کہ جن پر ہماری ٹریفک پولیس کے اہلکار ہاتھ ڈالنے سے کتراتے ہیں کہ ایسا کرنے سے کہیں ان کی اپنی پیٹی نہ اتر جائے اس ملک میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مجرموں کو نکیل ڈالنا اگر نا ممکن نہیں تو مشکل بہت ہے خدا لگتی یہ ہے کہ اس ملک کی اکثریت ڈرائیونگ تو کر لیتی ہے لیکن ان کو وہیل ڈرائیورز ہی کہا جا سکتا ہے ان کو اس بات کا ادراک ہی نہیں اور نہ کسی ادارے نے انکو لائسنس دیتے وقت سمجھایا ہے کہ روڈ پر گاڑی چلانے کا صحیح طریقہ کیا ہے تیزرفتاری سے اجتناب کرنا ہے گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے گاڑی کے کون کون سے حصے چیک کرنے ہیں کہ کیا وہ ٹھیک کام بھی کر رہے ہیں یا نہیں جتنا آسانی سے اس ملک میں ڈرائیونگ لائنس ہر نتھو خیرے ہر ہما شما کو مل جاتا ہے شاید ہی کسی اورملک میں ملتاہو اور یہ جو سڑکوں پر مسافروں کیلئے بسیں‘ ویگنیں‘ سوزوکیاں وغیرہ چل رہی ہیں۔

جن میں روزانہ ہزاروں لوگ سفر کرتے ہیں وہ تو تیار ’’موت کا کنواں‘‘ ہیں قانون کے تحت ایک خاص مدت کے بعد ان کو ٹریفک کے حکام کو فٹنس ٹیسٹ کیلئے پیش کرناہوتاہے تجربہ یہ بتاتاہے کہ یہ فٹنس سرٹیفیکیٹ بغیر گاڑی چیک کرائے باآسانی مل جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ روزانہ سڑکوں پرٹریفک کے حادثات اس لئے بھی ہوتے ہیں کہ گاڑیوں کے پرزے جواب دے گئے ہوتے ہیں جو ایکسیڈنٹ کا باعث بن جاتے ہیں انگلستان میں ٹریفک مینجمنٹ او ر ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا جو نظام چل رہا ہے وہ ہر لحاظ سے آئیڈیل ہے اگراسے من و عن وطن عزیز میں نافذ کر دیا جائے تو ہمارے ملک میں ٹریفک کے مختلف نوعیت کے حادثات کی شرح میں کافی کمی آ سکتی ہے یقین کیجئے اگر آج دیانتدار سرکاری اہلکاروں پرمشتمل کوئی ٹیم سروے کرے تو اسے پتہ چل جائے گا کہ 50 فیصد ڈرائیوروں کے پاس پہلے تو ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو وہ ایکسپائر ہو چکے ہیں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے کہ جو انڈرایج ہیں لیکن وہ ڈرائیونگ کر رہے ہیں گاڑیوں کی کنڈیشن ایسی ہے کہ اس میں سفر کرنا حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کیلئے تربیتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ہمارا تمام ٹریفک کا نظام ’’توکل‘‘ پر چل رہا ہے یا چلایا جا رہا ہے موٹر سائیکلوں پر سوار لوگ ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلاتے ہیں۔