بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / تحقیقات کی ضرورت

تحقیقات کی ضرورت

13جنوری 2016ء: وفاقی حکومت پاکستان سٹیٹ آئل کو اجازت دیتی ہے کہ وہ قطر سے سالانہ 16 ارب ڈالر مالیت کی ایل این جی 15 برس تک درآمد کرنے کے لئے معاہدے کرے۔ یہ اجازت اکنامک کورآرڈی نیشن کونسل کے اجلاس میں دی گئی جسکی صدارت وزیرخزانہ اسحاق ڈار کر رہے تھے۔ 10فروری 2016ء: پاکستان اور قطر کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے‘ جس کے تحت پاکستان مائع گیس خریدے گا۔ یہ معاہدہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں وزیراعظم پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران طے پاتا ہے۔ ’دیوان اَمیری‘ نامی محل میں ہونے والے اِس معاہدے پر وزیربرائے پیٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور قطر گیس بورڈ کے چیئرمین سعد شریدہ الکبی دستخط کرتے ہیں جو پی ایس او خریدے گااوربعدازاں اندرون ملک فروخت کریگا۔ایل این جی کی فوری درآمد کاجواز یہ بیان کیا گیا کہ ملک میں بجلی کی قلت ہے اور ’ایل این جی‘ سے فوری طور پر ’2 ہزار میگاواٹ‘بجلی پیدا کی جا سکے گی۔پہلی حقیقت: حکومت پاکستان طویل مدت کے لئے مائع گیس کی خریداری کا معاہدہ ایک ایسے وقت میں کرتی ہے جبکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات بشمول مائع گیس کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہوتی ہیں۔ دوسری حقیقت: وفاقی حکومت بجلی پیدا کرنیوالے اداروں کو حکم دیتی ہے کہ وہ مائع گیس کو بطور ایندھن استعمال کرے۔ تیسری حقیقت: مہنگے داموں ایل این جی استعمال کرنیوالی بجلی گھروں سے کس طرح توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ سستے داموں بجلی فراہم کریں گے؟ چوتھی حقیقت: پاکستان نے بجلی گھروں کے لئے ایل این جی بطور ایندھن حکمت عملی ایک ایسے وقت میں اپنائی جبکہ عالمی سطح پر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے سے گریز کیا جا رہا تھا لیکن اس کے باوجود اگرایل این جی درآمد پر زور دیا گیا تو اس اربوں ڈالر کی خریداری کا سودا مشکوک ہوگیا جس سے صرف دال میں کچھ کالا ہی نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی دکھائی دے رہی ہے
۔

جہاں تک معاہدے کی شرائط کا تعلق ہے تو ہر پاکستانی کا یہ حق ہے کہ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ بین الاقوامی معاہدے کن شرائط پر کئے گئے ہیں کیونکہ آخرکار عوام ہی نے اندرون و بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی کرنا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں قرض لینے کے موقع پر بھی عوام کو اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا جاتا اور بالخصوص ’مائع گیس کی درآمد‘ میں تو بالکل بھی شفافیت کو اہمیت نہیں دی گئی۔ قطر سے بیش قیمت مائع گیس درآمد کرنے‘ مذکورہ مائع گیس کی بحری جہازوں سے بذریعہ ٹرمینل اور بعدازاں ساحل سے اندرون ملک منتقلی پر مشتمل تین مراحل کی الگ الگ تفصیلات قوم کے سامنے آنی چاہئیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قطر پاکستان ایل این جی معاہدے کے مرکزی کردار ہیں جنہوں نے اُس وقت بطور وفاقی وزیر پیٹرولیم نمائندگی کرتے ہوئے منظوری دی تھی تو وہ کسی بھی طور بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔طویل المدتی معاہدہ کرتے ہوئے ’کیپسٹی انشورنس‘ دی جاتی ہے اور قطر کو کیپسٹی انشورنس دینا بے قاعدگی نہیں لیکن بے قاعدگی یہ ہے کہ مائع گیس کی خرید اور فروخت کے بارے تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں کیونکہ ٹرمینل منظورنظر افراد کو دیئے گئے۔ ایل این جی معاہدے کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہئے کیونکہ بظاہر یہی تاثر ملتا ہے کہ اس میں پاکستان کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ قطر نے بھی اپنے طور پر پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے جس وقت حکومت گئی تو آئندہ حکومت پہلا کام یہی کرے گی کہ نیب کے ذریعے اِس پورے معاملے کی تحقیقات ہوں۔ پوری قوم اندھیرے میں ہے۔

کئی سال ہو چکے ہیں لیکن معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت بھی وفاقی حکومت ایل این جی معاہدے سے متعلق معلومات فراہم نہیں کر رہی اور نہ ہی قانون ساز ایوانوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ اس معاہدے سے متعلق سرکاری اعلامیہ پی ایس او کرتا ہے لیکن ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو کچھ علم نہیں ہوتا کہ اِس پورے معاہدے کی تفصیلات کیا ہیں۔ پاکستان میں جہاں ہر کام ’متنازعہ‘ ہو جاتا ہے جیسا کہ نجی بجلی گھر (آئی پی پیز) کا معاملہ رہا اور معاہدے پھر سے کرنے پڑے۔ مائع گیس کی خریداری‘ درآمدی وسائل اور فروخت کے طریقۂ کار سے متعلق پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ صرف ایک ہی صورت ممکن ہے کہ اِس معاہدے کی جملہ شرائط اور طریقۂ کار کے بارے تفصیلات اُس عوام کی عدالت میں پیش کی جائیں‘ جسے حکمراں جماعت ’نواز لیگ‘ اصل عدالت اور اصل احتساب قرار دیتی ہے۔