بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / ایساکیوں ہوتاہے؟

ایساکیوں ہوتاہے؟

سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران جہاں عدالت کے اندر سوال و جواب کا ایک طوفان برپا رہا وہیں عدالت کے باہر سیاسی کشیدگی بڑھ چڑھ کر اپنے وجود کا احساس دلاتی رہی، اس دوران ہر ذہن میں متعدد خدشات و شبہات کے ساتھ ساتھ یہ ایک سوال بھی اٹھتارہا کہ ’کیاحکومت اپنی آئینی مدت پوری کر پائے گی ؟‘ اب جبکہ پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ ہوئے کئی ہفتے گزر چکے ہیں‘نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی تمام تر اختیارات کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کر رہے ہیں ، میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد انکی خالی کردہ نشست پر ضمنی انتخابات کا مرحلہ بھی طے ہو چکا ہے اور مسلم لیگ (ن) کی آئینی مدت تکمیل میں ایک سال سے بھی کم کا عرصہ باقی رہ گیا ہے ہونا تویہ چاہئے تھاکہ مذکورہ سوال ذہنوں سے حذف ہو چکا ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا اور یہ سوال اب بھی زیر بحث آرہا ہے کہ کیا موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر لے گی یا اگلے عا م انتخابات سے قبل کوئی عبوری سیٹ اپ اس حکومت کی جگہ لے گا؟ سوال یہ ہے کہ ہر سیاسی بحران کے سامنے آتے ہی حکومت کی قبل از وقت رخصتی سے متعلق خدشات اور شکوک و شبہات کیوں جنم لینے لگتے ہیں؟ اگر موجودہ دور اقتدار کی بات کی جائے تو پانامہ کیس کا ظہور پہلا موقع نہیں تھا جو منتخب حکومت کی قبل ا زوقت رخصتی سے متعلق تجزیوں اور تبصروں کی بنیاد بنا‘ اس سے قبل 2014ء میں پہلے تحریک انصاف اور پھر پاکستان عوامی تحریک کی احتجاجی تحاریک کے تناظر میں بھی موجودہ حکومت کی قبل از وقت رخصتی سے متعلق شکوک و شبہات کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا‘کسے یاد نہیں کہ موجودہ وفاقی حکومت کی قبل از وقت رخصتی کے حوالے سے دبی دبی افواہیں۔

‘تجزیئے اور تبصرے تو جون 2014 ء میں ڈاکٹرطاہر القادری اور چوہدری برادارن کے درمیان لندن میں ہو نی والی ملاقات کے بعد ہی سے شروع ہو گئے تھے تاہم سانحہ ماڈل ٹاؤن نے ڈاکٹر قادری اور عمران خان کوشریف برادران پر چڑھائی کا جو موقع فراہم کیا اسکے بعد ان تجزیوں اور تبصروں نے زور پکڑنا شروع کیا اور 14اگست 2014ء کو پی ٹی آئی‘ پی اے ٹی لانگ مارچ شروع ہوتے ہی حکومت کی قبل از میعاد رخصتی سے متعلق قیاس آرائیاں عروج پر پہنچ گئیں۔اگست 2014 ء سے ستمبر 2014ء کے دوران وقوع پذیر ہونے والے واقعات نے مذکورہ تجزیوں اور تبصروں کو اونچی اڑان کی راہ دکھائی تاہم ڈاکٹر قادری کا دھرنا لپیٹناان کے راستے کی پہلی رکاوٹ بنا۔سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعدکے حالات‘پی ٹی آئی کا دھرنا ختم کرنا‘انتخابی عذرداریوں کی سماعت میں تیزی اور اعلیٰ عدلیہ کے بعض فیصلے حکومت کی قبل از وقت رخصتی سے متعلق امکانات کیلئے مزید حوصلہ شکن ثابت ہوئے‘ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کے اتفاق رائے نے ان امکانات کو مزیددھندلایا اور پھر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ ان کیلئے زہر قاتل ثابت ہوئی ۔پچھلے جمہوری دور حکومت کا جائزہ لیا جائے تو اس عرصے کے دوران بھی مختلف واقعات کی بنیاد پر کئی مرتبہ حکومت کی قبل از وقت رخصتی کے امکانات نے سر اٹھایا ۔مذکورہ دور میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت (ن) لیگ کی جانب سے مارچ 2009ء میں ججز بحالی کیلئے کیا جانے والا لانگ مارچ ا یسے امکانات کی ابتداء تھا۔28 جولائی 2010ء کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرین سیلاب کی امدادو بحالی کے عمل میں حکومتی کو تا ہیوں پر متاثرین کے غیض و غضب کو بھی حکومت گرنے کے سندیسے سے تعبیر کیا گیا ۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کیخلاف توہین عدالت کیس اور انکی نااہلی سمیت کئی دیگر مواقع بھی جن کا تفصیلی تذکرہ پہلے بھی ہو چکا ہے پچھلے دور حکومت میں پی پی پی حکومت کی قبل از مدت تکمیل رخصتی کی قیاس آرائیوں کا باعث بنتے رہے تاہم سابقہ حکومت ان تمام بحرانوں سے گزرتے ہوئے گرتی پڑتی منزل مقصود تک پہنچنے میں کامیاب رہی ‘بات پھر اسی سوال پر آ کر رکتی ہے کہ مملکت میں جمہوریت کی بحالی اور پیش قدمی کے باوجود ہر سیاسی بحران کے سامنے آتے ہی حکومت کی قبل از وقت رخصتی سے متعلق خدشات اور شکوک و شبہات کیوں جنم لینے لگتے ہیں اور غیر محسوس انداز میں ان شکوک و شبہات کو تقویت دینے کا سلسلہ شروع کیوں ہو جاتا ہے؟ جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں کی ناعاقبت اندیشی‘ باہمی سیاسی رویوں میں پائی جانیوالی قباحتوں کے اصلاحی عمل کا فقدان‘ جمہوریت گریز قوتوں کے مضبوط و فعال نیٹ ورک کی موجودگی سمیت وہ تمام عوامل جن کی جانب یہ سوال اشارہ کر رہا ہے ان پر غور وفکر اور انکا تدارک ملک میں جمہوریت کے حقیقی تسلسل اوربقا کیلئے ناگزیر ہے۔