بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / خطے کے مسائل کاحل

خطے کے مسائل کاحل

ایران کے صدر حسن روحانی نے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف سے تہران میں ملاقات کے دوران خطے کے مسائل کا علاقائی حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام علاقائی قوتوں کو باہم مل بیٹھ کر اتفاق رائے سے مسائل حل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس ملاقات میں افغان صورتحال کیساتھ ساتھ امریکہ کی نئی افغان پالیسی اور افغانستان میں امریکی افواج میں ممکنہ اضافہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا ایران کی جانب سے خطے کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی فوجی یا غیر علاقائی حل مسلط کرنے کی بجائے مقامی سٹیک ہولڈرز کے درمیان روابط کے فروغ اور تمام مقامی قوتوں کے درمیان افغانستان سمیت تما م علاقائی مسائل کا حل تلاش کرنے میں زمینی حقائق کے ادراک کے پیچھے یہ خواہش کار فرمانظر آتی ہے کہ جب بھی کسی خطے کے مسائل پر علاقائی قوتوں کی رضامندی اورمشاورت کی بجائے غیر علاقائی حل مسلط کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو ایسی کسی بھی کوششوں کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلا ہے اور ان کوششوں سے ہمیشہ نئے مسائل جنم لیتے رہے ہیں‘ اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے ہمیں عراق ‘ شام اور لیبیا کے علاوہ شمالی کوریا کی صورتحال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ عراق پر فوج کشی کے وقت عالمی طاقتوں نے وہاں کے مقامی حالات اور عراق کے پڑوسی ممالک کے مفادات اور کردار کوپس پشت ڈالتے ہوئے مہلک کیمیاوی ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بنا کر جو تاریخی غلطی کی تھی اس کا خمیازہ پورا خطہ بالخصوص عراق شدید تباہی وبربادی اور لاکھوں افراد کی ہلاکتوں کی صورت میں اب تک بھگت رہا ہے‘۔ اسی طرح شام اور لیبیامیں فوجی مداخلت کے ذریعے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا خیال تھا کہ ان ممالک پر کنٹرول حاصل کرکے ان خطوں میں اپنے طے شدہ اہداف کا تحفظ کیا جاسکے گا لیکن یہ دونوں ممالک طویل خانہ جنگی کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں اگر ہم ان مثالوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایران کے صدر کیساتھ وزیر خارجہ خواجہ آصف کی ملاقات کے موقع پر افغان بحران کے تناظر میں خطے کے مسائل کے علاقائی حل کی تجویز پر غور کریں تو ہمیں اس تجویز میں عملیت پسندی کا واضح اظہار نظر آئے گا۔

افغانستان کا کوئی فوجی حل نکالنے کی ممکنہ حکمت عملی اپناتے وقت امریکی صدر ٹرمپ کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ افغانستان ہمیشہ سے بیرونی جارح قوتوں کا قبرستان ثابت ہواہے۔ افغانستان کی بہت پرانی تاریخ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر صرف گزشتہ ایک سو سال کی تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو امریکہ کیلئے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہو گی کہ افغان سر زمین ان سو سالوں میں وقت کی دو سپر پاورزبرطانیہ اورسوویت یونین کو عبرتناک انجام سے دو چار کر چکی ہے اور اکیسویں صدی کی واحد سپر پاور اپنے 48اتحادیوں کی ڈیڑھ لاکھ افواج کے ساتھ نہتے افغان طالبان کا بال تک بیکا نہیں کر سکی ۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی پچھلے سولہ سال کے دوران جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود طالبان کا خاتمہ نہیں کر سکے ہیں اور اس تلخ حقیقت کو امریکی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اسوقت بھی افغانستان کے ساٹھ فیصد رقبے پر طالبان کا قبضہ ہے اور وہ جب اور جہاں چاہتے ہیں اپنے اہداف کوبا آسانی نشانہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس پس منظر میں ہو نا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ اپنی پا لیسی پر نظر ثانی کرتا الٹا امریکہ نے افغانستان میں چار ہزار نئے امریکی افواج کی تعیناتی کا اعلان کر کے یہ بات واضح کر دی ہے کہ افغانستان میں اصل ہدف اور مقصد جہاں اس خطے کو غیر مستحکم رکھنا ہے وہاں اس عدم استحکام کو جواز بنا کر امریکہ افغانستان سے خطے کے اہم سٹیک ہولڈرز چین ‘ایران ‘روس اور پاکستان کی کڑی نگرانی بھی کرنا چاہتا ہے‘ امریکہ کی نئی افغان پالیسی دراصل اسی منصوبہ بند ی کا چربہ ہے ۔

اگر متذکرہ علاقائی قوتیں اس خطے کو جاری خون ریزی اور فتنے وفساد سے پاک کرنا چاہتی ہیں تو انہیں بیرونی قوتوں کی جانب دیکھنے کی بجائے اپنے زوربازو پر بھروسہ کرتے ہوئے افغان بحران کے حل میں اپنی طرف سے کوئی مثبت اور قابل ذکر کردار ادا کرنا ہوگااس ضمن میں صدر روحانی کی تجویز اور پاکستان وچین کی کوششوں سے افغان قضیہ حل کرنے کیلئے چار فریقی مذاکراتی عمل کی شروعات کے علاوہ اس حوالے سے روس کی دلچسپی اور بعض اقدامات کو بنیاد بنا کر اگر افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے تو اس سے اس خطے کے اکثر مسائل پر قابو پانے میں میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔