بریکنگ نیوز
Home / کالم / قانون کی پاسداری

قانون کی پاسداری


نواز شریف اور ان کے خاندان کی گزارشات سپریم کورٹ نے مسترد کر دیں۔اس سے بہت سوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ اقتدار کچھ ایسی بے رحم شے ہے کہ کسی سے بھی وفا نہیں کرتا ۔ انسان خطا کا پتلا ہے ۔ وہ بہت سے گناہ اور غلطیاں بن سوچے بھی کر جاتا ہے اور بہت سی غلطیاں جان بوجھ کر کرتا ہے۔ غلطی البتہ غلطی ہوتی ہے اس کا کبھی تو نتیجہ بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ حالات ساری زندگی ایک جیسے نہیں رہتے۔ فوجی آمروں کی جانب سے آئین میں بہت سی تبدیلیاں کی جاتی رہیں کچھ کو تو سیاسی حکومتوں نے ختم کر دیا مگر کچھ ابھی تک تلوار بنی سیاستدانوں پر لٹک رہی ہیں جب اسمبلی میں ایسی تبدیلیوں کو رفع کرنے کی بات ہوئی تو حکومت میں بیٹھے حضرات نے اس کی مخالفت کر دی اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ دفعات حزب اختلاف کے خلاف حکومت کا ایک ہتھیار تھیں مگر ہوا یہ کہ وہی دفعات حکومت میں بیٹھے وزیر اعظم کے خلاف استعمال ہو گئیں۔ اب صادق اور امین ہونا ایک عام انسان کے لئے تو ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی سورج کے سامنے چراغ لے کر کھڑ اہو جائے۔صادق اور امین تو صرف ایک ہی ذات تھی کہ جسے ان کے دشمن بھی صادق اور امین مانتے تھے۔ اسی لئے ایک اسمبلی میں یہ بل پیش کیا گیا تھا کہ اس شق کو آئین سے نکال دیا جائے مگر جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن نے اس کی مخالفت کی اور یہ قانون برقرار رہا۔ اب صادق اور امین کی تعریف کی جائے توآج کے پاکستان کی سیاست میں ایک بھی صادق اور امین نہیں ملے گا اور اگر اس کا اطلاق کرنا شروع کر دیا جائے تو اسمبلی میں الو ہی بولیں گے۔

ہمارے سیاستدانوں کی اگر تقریروں کے تضادات کو جانچا جائے تو ایک بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ صادق اورامین کی تعریف پر پورا اتر سکے ۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ کسی بھی سیاستدان کی اسمبلی میں کی گئی تقریر پر پکڑ نہیں ہو گی یعنی ایسی تقریر کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔مگر یہ عدالت کی مرضی ہے کہ وہ کس تقریر کو اپنے حکم کا جواز بناتی ہے جیسے کہ موجودہ مقدمے میں ہوا ہے۔اسی لئے سیاست دانوں کو چاہئے کہ وہ ایسے قوانین جو حزب اختلاف کے خلاف استعمال ہو سکتے ہوں فوری طور پر آئین سے نکالے ورنہ جو آج حزب اقتدار ہیں کل کو حزب اختلاف ہوں گے اور ان کے ساتھ وہی ہوگا جو ابھی ابھی ہو گیا ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ان کیخلاف توہین عدالت کا فیصلہ کر دیا ہے مگر خان صاحب کا کہنا ہے کہ یہ کمیشن کیونکہ نواز شریف اور آصف زرداری کا قائم کردہ ہے اس لئے وہ اس میں پیش نہیں ہوں گے بلکہ وہ اس کمیشن کو مانتے ہی نہیں مگر کیا کیا جائے کہ قائد حزب اقتدار نوازشریف تھے اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ صاحب تھے اور آئین کی رو سے الیکشن کمیشن کے ممبران اور چیئرمین کی تقرری کاحق ان ہی دو حضرات کا تھا ۔

اسی طرح نیب کے سربراہ کی تقرری کے اختیارات بھی ان ہی دو حضرات کا حق تھا ۔ اب کوئی سیاستدان اس بات پر مصر ہو کہ وہ ان حضرات کے مقرر کردہ کسی آئینی عہدیدار کو نہیں مانتاتو اس کا مطلب ہے کہ وہ آئین سے رو گردانی کر رہا ہے‘ کیا کیا جائے اس پر تو ہم زبان بھی نہیں کھول سکتے۔ایک اور امر سامنے آ یا ہے کہ کسی بھی مقدمے میں ہارنے والی پارٹی کو اپیل کا حق ایک خاص مدت کے اندر اندر ہوتا ہے۔یعنی کوئی بھی شخص اپنے خلاف مقدمے میں تین ماہ کے اندر اندر اپیل کر سکتا ہے مگر ایک مقدمہ اب ایسا بھی سامنے آ رہا ہے کہ جس کا فیصلہ ہوئے تین سال ہو گئے ہیں مگر اب اس کے خلاف اپیل کی تیاری ہو رہی ہے۔اب اس کے متعلق صاحبان رائے کی کیا رائے ہے ہمیں اس کے متعلق اُن کی رائے کا انتظار رہے گا۔