بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی گرما گرمی اور درپیش چیلنج

سیاسی گرما گرمی اور درپیش چیلنج


وطن عزیز میں سیاسی گرما گرمی اور تندوتیز بیانات کا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے جبکہ اندرونی اور بیرونی سطح پر درپیش چیلنج بھی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں‘وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ ادارے پارلیمنٹ میں داخل ہو رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پارلیمان کو بے وقعت کیاجارہا ہے،و زیرداخلہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں بااختیار لوگ نیب پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ حدیبیہ پیپرز ملز کیس دائر کرتے ہویا نہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک قانونی شخصیت کا نیب کے افسران کو بلاکر مرضی کے فیصلے تھوپنا انصاف نہیں‘ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان وزیر خارجہ خواجہ آصف کے ٹی وی انٹرویو اور وزیر داخلہ احسن اقبال کی میڈیا سے بات چیت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس وقت ہمارے آرمی چیف دنیا سے ڈومور کا کہہ رہے ہیں جبکہ ہمارے وزراء اپنے ہی ملک سے ڈومور کا مطالبہ کررہے ہیں، پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری بینظیر قتل کیس کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم جس احتساب سے گزر کر آئے ہیں۔

اس سے انتقام کی بو آرہی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق نوازشریف کے بلانے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار لندن پہنچ چکے ہیں جبکہ وزیر خارجہ پہلے ہی وہاں موجود ہیں، ایک طرف سیاسی گرما گرمی میں باتیں اداروں پر تنقید کی حد تک پہنچ رہی ہیں تو دوسری طرف امریکہ کی جانب سے پابندیوں کے خدشات سامنے آرہے ہیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے اداروں سے قرضے لینے میں بھی مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں، پاک امریکہ تعلقات میں گزشتہ روز کے بغیر اطلاع ڈرون حملے کے بعد مزید کشیدگی دیکھی جارہی ہے‘ وطن عزیز کی معیشت بیرونی قرضوں تلے دبی ہوئی ہے، اس اکانومی کو بہتری کی جانب لانے کا سنہری موقع چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے، اس پراجیکٹ کے ثمرات سمیٹنے کیلئے بڑے پیمانے پر تیاریوں اور پلاننگ کی ضرورت ہے، ملک میں اقتصادی صورتحال نے تعمیر وترقی کے منصوبوں کو متاثر کرنے کیساتھ عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کررکھا ہے، خصوصاً مہنگائی نے غریب کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، ہماری قیادت کو مرکز اور صوبوں کی سطح پر تمام تر سیاسی اختلافات کے باجود کم ازکم اہم ترین معاملات پر یکجا ہوکر انہیں یکسو کرنا ہوگا تاکہ عام آدمی کو ریلیف ملے۔

سڑکوں کے کنارے؟

صوبائی دارالحکومت میں مرکزی شارع جی ٹی روڈ سمیت دیگر رابطہ سڑکوں کی حالت جتنی بھی بہتر بنائی جائے لوگوں کیلئے اطمینان کا باعث نہیں بنتی، اس سب کی بنیادی وجہ ایک جانب بڑی سڑکوں پر سروس روڈز کی حالت زار ہے تو دوسری طرف عام سڑکوں کے کچے کنارے نہ صرف نکاسی آب کو متاثر کرتے ہیں بلکہ مٹی اور گندگی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے مکمل سروے کرکے سڑک کنارے پختہ کرنے اور ان میں نکاسی کا لیول برابر کرنے کیلئے اقدامات تجویز کرنا ہوں گے، بصورت دیگر سڑکوں کی حالت بہتر بنانے کیلئے اٹھائے جانیوالے حکومتی اقدامات کسی صورت بہتر عملی نتائج نہیں دے سکتے، اس سب کیساتھ سڑکوں کی تعمیر میں معیار یقینی بنانا ضروری ہے، انہیں صرف چند روز کیلئے پریمکس کیساتھ ا چھی صورت دینا کسی طور کافی نہیں۔