بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی سی پیک میں شامل کرنیکا عندیہ

وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی سی پیک میں شامل کرنیکا عندیہ

پشاور۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سی پیک نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ پورے خطے کا گیم چینجر منصوبہ ہے پاک چین اقتصادی راہداری کاتاریخی معاہدہ بلا شبہ جنوبی ایشیاء کے عوام کیلئے روشن مستقبل کا ضامن ثابت ہوگا ہمارا پلان چترال اور گلگت کے راستے افغانستان کی واخان پٹی تک شاہراہوں کی تعمیر کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی سی پیک میں شامل کرنا ہے

خیبر پختونخوا حکومت نے اس ضمن میں تمام ہوم ورک اور تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ طلباء و اساتذہ اور تاجر و صنعت کار برادری سمیت عوام کو بھی ہر سطح پر فعال بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں چین اورپاکستانی زبانیں سیکھنے کے پروگرام بھی شروع کئے جا رہے ہیں جن کی بدولت دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو سمجھ کر ترقی کی دوڑ میں شانہ بشانہ آگے بڑھ سکیں گے

وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں مجوزہ ایجوکیشن سروسز ایکٹ کی مخالفت اور شورشرابے کو بلا جواز اور قبل از وقت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس مجوزہ ایکٹ کا تعلیمی اداروں کی نجکاری کا دور سے بھی واسطہ نہیں بلکہ یہ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مکمل طور پر خودمختاری دینے کا پروگرام ہے۔

جس سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مقامی اور اضلاع کی سطح پر مالی اور انتظامی مسائل حل ہوں گے اور انہیں صوبائی حکومت کے زیر غور لانے کی ضرورت نہیں پڑے گی مگر اس ایکٹ کے خلاف اسمبلی یا حکومتی ایوانوں میں زیر غور لانے سے قبل زہریلہ پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا ہے پی ٹی آئی کی حکومت عوامی مفاد کے برخلاف اقدامات کا سوچ بھی نہیں سکتی بلکہ ہمارا ہر قدم ہمیشہ خالصتاً وسیع تر قومی مفاد اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اُٹھے گاوہ پشاور کے مقامی ہوٹل میں طلباء کو چینی زبان سیکھنے کیلئے چین روانگی سے قبل داخلے کے خطوط و کاغذات حوالے کرنے اور مختلف کالجوں کے پرنسپل صاحبان کو کارکردگی کی بنیادپر گرانٹ کے چیک دینے کی مشترکہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے

تقریب سے محکمہ اعلیٰ تعلیم کے صوبائی مشیرمشتاق غنی، سیکرٹری سید ظفر علی شاہ اور سپیشل سیکرٹری عبدالغفور بیگ نے بھی خطاب کیا اور صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا معیار بہتر بنانے اور سی پیک کے تناظر میں چینی زبان کے فروغ کے پروگرام پر تفصیلی روشنی ڈالی اس موقع پر وزیراعلیٰ نے میڈیکل، انجینئرنگ اور علوم و فنون کے دیگر مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے 200 طلباء کو چینی زبان کے ششماہی کورس کیلئے چین کی تین بہترین یونیورسٹیوں شنگھائی، شنڈونگ اور ہاربن روانگی کے کاغذات دیئے پرویز خٹک نے امید ظاہر کی کہ نامزد طلباء پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے سفیر اور نمائندے بن کر چین میں تعلیم حاصل کریں گے اور وہاں کے قوانین اور تہذیب و ثقافت کی پاسداری کے ساتھ اپنی زبان و کلچر اور تمدن کے فروغ کا باعث بھی بنیں گے

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سی پیک کے حوالے سے صنعت و معیشت اور کاروبار کے مختلف شعبوں میں وسیع چینی سرمایہ کاری کے پیش نظر اعلیٰ تعلیم کے حامل ہمارے طلباء اور ہنر مندوں کا چینی زبان سیکھنا ناگزیر بن چکا ہے صوبائی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے علاوہ فنی تعلیم پر دسترس کیلئے بھی طلباء کو چین بھیجنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز نے سی پیک کے آغاز پر ہماری صوبائی حکومت کو اندھیرے میں رکھنے کی پوری کوشش کی مگر ہم نے اس کا سختی سے نوٹس لیا اور نہ صرف مختلف منصوبے شروع کرائے بلکہ ہم نے ماہرین کے وفد کے ہمراہ چین میں بیجنگ روڈ شو کرایا اورسینکڑوں معاہدے کئے جن کے ثمرات سے استفادے کا وقت آ پہنچا ہے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کا فوکس بہترین اور معیاری تعلیم کا فروغ ہے کیونکہ بہتر تعلیم ہی قومی کا میابی کا واحد راستہ ہے اور بد قسمتی سے پاکستانی قوم اس میں کافی پیچھے ہیں انہوں نے کہا کہ شعبہ تعلیم سمیت تمام سرکار ی اداروں میں ہماری اصلاحات مخالفین کو نظر نہیں آتی مگر ہم مسلسل ذہنوں کی تبدیلی اور خاموش انقلاب کی طرف بڑھ رہے ہیں ہم نے اختیارات کا ارتکاز ختم کر کے وسائل کو بھی زیریں سطح پر منتقل کیا جو عوامی مسائل کے پائیدار حل اور ہمارے اخلاص کا منہ بولتا ثبوت ہے صوبائی حکومت کا کام قانون سازی اور نگرانی تک محدود ہونا چاہئے جبکہ ترقیاتی کام بلدیاتی اداروں کا ہے اور ہم دنیا کا مثالی بلدیاتی نظام دے کر اپنے مشن میں سرخرو ہوئے ہیں

انہوں نے چینی زبان سیکھنے والے طلباء کو یقین دلایا کہ صوبائی حکومت انہیں چین میں حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی بلکہ ان کے ہر قسم کے مسائل کے حل کیلئے حکومت کا نمائندہ بھی وہاں موجود ہوگاانہوں نے کہا کہ اندرون صوبہ اعلیٰ تعلیم کی بہتری کیلئے بی ایس سی کا دوسالہ سائنس پروگرام ختم کر کے بی ایس کا چار سالہ عالمی طور پر مسلمہ پروگرام شروع کیا گیا ہے جسے بتدریج سو فیصد بنایا جائے گا

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کالجوں اور یونیورسٹیوں سمیت تعلیمی اداروں کا ماحول پر امن اور بہتر بنانے کیلئے پوری تندہی سے کوشاں ہے تاکہ یہ سیاست کے اکھاڑے نہیں بلکہ علم و تحقیق کے مراکز بنیں جو مسلمان کا گمشدہ ورثہ ہے ہماری اصلاحات کا مقصد علوم و فنون میں ترقیافتہ اقوام کا مقابلہ کرنا اور قوم کی سماجی و معاشی حالت بہتر بنانا ہے اگر پرانے تعلیمی نظام ٹھیک ہوتا تو تعلیمی نتائج اتنے برے نہ ہوتے وزیراعلیٰ نے مجوزہ تعلیمی ایکٹ کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہر کالج کا اپنا بورڈ آف گورنر ہوگا جس میں مقامی ریٹائرڈ پروفیسر اور ماہر تعلیم و دانشور شامل ہوں گے اور جو کسی کی محتاجی کی بجائے اپنے تعلیمی اور انتظامی فیصلے خود کرے گا جس کا کسی بھی طبقے کو نقصان نہیں ہوگا بلکہ زیادہ آسانیاں پیدا ہوں گی اسلئے قانون سازی اور حکومت کے زیر غور آنے سے پہلے ہی اس کی مخالفت اور طلباء کو احتجاج پر اکسانا بلا جواز ہے۔