بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہم پھرے سڑکوں پر لے کے چھتریاں بارش کی شام

ہم پھرے سڑکوں پر لے کے چھتریاں بارش کی شام

اب کے بہت دنوں کے بعد مردان کی طرف جانا ہوا‘ جانا تو دوست عزیز ڈاکٹر فصیح الدین کے پاس ان کے بھائی اور ممتازمعالج پروفیسر ڈاکٹر محمد اسحاق کی تعزیت کے لئے تخت بھائی تھا جس کیلئے مردان شہر کے اندر سے ہو کر جانا تھا ہم نکلے تو بھری دوپہر میں پشاور سے تھے مگر موٹروے تک آتے آتے حسب معمول بادل بھی ساتھ ہو لئے اور وہ جو نیند سے آنکھیں بوجھل ہونے والی تھیں جیسے پھر سے تازہ دم ہو گئیں۔ سفر میں ساتھ بادل کا ہویا کسی ہم خیال دوست کا، نیند کا راستہ روکنا پڑتا ہے یوں بھی کہا گیا ہے
تم اپنی نیند سے کہہ دو ‘ کبھی فرصت میں آ جائے
ملاقاتوں کی راتوں میں بھلا سونا ضروری ہے
باہر کا موسم اند رکے موسم کو بھی معتدل اور خوشگوار بنا دیتا ہے اس لئے گرم دو پہر میں چھا جانیوالے بادل اندر کی دنیا میں بھی ایک خنکی سی بھر دیتے ہیں اور اب تو مجھے بادلوں کیساتھ ساتھ مشتاق شباب کا ساتھ بھی میسر تھا اس لئے رفتار ادب و سیاست پر خوب باتیں ہوئیں‘ دوسرے بڑے شہروں اور ادبی مراکز کے بر عکس پشاور میں روزانہ کی بیٹھکوں کا رواج ایک زمانے سے ختم ہو گیا ہے ۔غنیمت ہے کہ پشتو کی ادبی تنظیمیں ادبی اکٹھ بڑی حد تک برقرار رکھے ہوئے ہیں‘ ہفت روزہ اجلاس سر دست حلقہ ارباب ذوق پشاور اور ماہانہ اجلاس بزم بہارادب کے باقاعدگی سے ہو رہے ہیں اور انہیں بپا کرنے کیلئے حلقہ کے سید شکیل نایاب اور راشد حسین اور بہار ادب کے عظیم نیازی اور اخترسیماب کو کتنے ہفت خواں سر کرنا پڑتے ہوں گے تو یہ وہی جانتے ہیں کیونکہ مسلسل پیغامات اور ٹیلی فون پر را بطوں کے بعد بھی بمشکل پندرہ بیس احباب اکٹھے ہوتے ہیں، اچھا ہے یہ نشستیں روزانہ کی بنیاد پر نہیں ہوتیں ورنہ تو صورتحال نا گفتہ بہ ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب شاعر ادیب کی جان کو اور بہت سے بکھیڑے بھی لگ گئے ہیں لیکن جس کام کے لئے اسے قدرت نے چنا ہے اور صلاحیت دی ہے اس کے لئے بھی تو چند لمحے نکالنے چاہئیں۔پہلے پہل غیر شاعر ادیب کہا کرتے تھے کہ ادب شغل بیکاراں ہے۔

اب ادیب اپنے عمل سے اسے سچ ثابت کر رہے ہیں۔ یہ دکھ بھرا اور خاصا تلخ موضوع ہے مگر بد قسمتی سے سچ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سیل فون پر نیٹ کی رسائی کے بعد ادب کی چھٹی ہو گئی‘مگر ایسا نہیں سوشل میڈیا کے کاروبار کا زیادہ حصہ حرف و لفظ کے ہی گرد گھومتا ہے بلکہ یار لوگ تو الٹے سیدھے شعر لکھ کر شاعر بھی بن بیٹھے ہیں‘کیونکہ آپ بھلے سے کچھ بھی پوسٹ کردیں کچھ ’’ لا ئیکس ‘‘ تو اسے مل ہی جائیں گی‘جو بندے کو خوش کرنے کیلئے کافی ہوتی ہیں۔ ہر چند کہ سنجیدہ شعر و ادب کا بھی ایک وسیع حلقہ فیس بک اور وٹس ایپ کی حد تک مو جود ہے اور خاصا فعال اور مقبول ہے‘خیر ہماری گفتگو تو پشاور کے قلم قبیلہ تک محدود رہی۔ ہوتا یوں بھی ہے کہ ان تقریبات میں احباب کم کم اور تکلف سے شریک ہوتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ مین سٹریم میں رہنا کئی حوالوں سے کتنا ضروری ہوتا ہے۔ خصوصاََ جب باہر سے کوئی دوست آتا ہے تو اس دوست کی توقع بھی ہوتی ہے اور خواہش بھی کہ جانے پہچانے تخلیق کاروں سے ضرور ملے اور خوبصورت بات یہ ہے کہ اکثرسینئر دوست شریک بزم ہو جاتے ہیں ‘ اس وقت سجاد بابر صاحب فراش ہیں ورنہ انکی وضع داری انہیں ہر تقریب میں حاضر رکھتی تھی‘ ادب سے بات ہوتی ہوئی اخبارات تک جا پہنچی اور ان میں ادیبوں شاعروں کی کنٹری بیوشن پر بھی بات ہوئی۔ اخبارات کا ذکر پھر موجودہ سیاسی صورتحال تک جا پہنچااور پھر پتہ ہی نہ چلا اور برخوردار مسرور مشتاق موٹروے چھوڑ کر مردان کی طرف گاڑی موڑ چکا تھا میں نے کہا نا کہ میں بہت دنوں بعد مردان کی طرف آیاتھااسلئے مردان میں نئے پلازہ اور جدید شاپنگ مال دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ شایدمسرور آتا جاتا رہتا ہے اس لئے اس کے پاس اس تبدیلی کی فرسٹ ہینڈ انفارمیشن تھی۔ اسی نے بتایا کہ یہ تبدیلی گزشتہ صوبائی حکومت کے دورمیں شروع ہوئی۔

مجھے چند برس پیشتراس وقت ہر روز مردان آنا پڑتاتھا جب میں پروموشن پر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان آیا تھاتب کے مردان اور اب کے مردان میں بہت فرق محسوس ہو رہا تھا مردان کو خوبصورت ہوتا دیکھ کر مجھے اپنے دوست اویس قرنی کا خیال آیا جس نے ایک دن پہلے ہی مجھے کہا تھا کہ مردان جا رہا ہوں وہ مردان کے باسی ہیں اور پشاور میں ہمہ وقت ’’ تازہ دم ’’ پائے جاتے ہیں میں نے فون ملایا تو وہ صبح ہی پھر پشاور کے لئے نکل پڑے تھے کہ جامعہ پشاور کے شعبہ اردو میں پڑھاتے ہیں۔وہ مردان ہوتے تو شاید ساتھ ہی چل پڑتے، تخت بھائی میں ماندل ہاؤس ڈھونڈنے میں دقت اس لئے بھی نہیں ہوئی کہ کچھ عرصہ پہلے شاعر و کالم نگار دوست ڈاکٹر فصیح الدین نے یہاں ایک پورے دن کا ادبی میلہ سجایا تھا اور پشاور سے قلم قبیلہ کے احباب سے بھری ہوئی دو کوسٹرز شرکت کے لئے پہنچی تھیں۔۔فاتحہ خوانی کے دوران سابق صوبائی وزیر صحت سید کمال شاہ سے بھی ایک زمانہ بعد ملاقات ہوئی۔ جب وہ وزیر صحت تھے تو شعر وادب سے جڑے ہوئے بہت سے مستحق احباب کو خصوصی توجہ کیساتھ مفت علاج کی سہولت بہم پہنچائی تھی اور کہا تھا کہ یہ منصب آنی جانی چیز ہے آپ مجھے بعد میں بھی جب چاہیں میرے پاس کسی کو بھیج سکتے ہیں عصر کی با جماعت نماز تو خیر ہم نے ماندل ہاؤس ہی میں پڑ ھ لی تھی اس وقت موسم یکلخت گرم ہو گیا تھا اور ہوا کے رکنے سے حبس کی کیفیت بن گئی تھی حالانکہ ابھی بادل چھائے ہوئے تھے ،مجھے بہادر شاہ ظفر کا ایک شعر یاد آ گیا
مینہ خوب برستا ہے جو ہوتی ہے ہوا بند
بہتے ہیں ظفر اشک دمِ ضبطِ فغاں اور

واپسی کیلئے روانہ ہوئے تو بادل اور گہرے ہو گئے۔مشتاق نے فون پر دوست مہربان ڈاکٹر ہمایون ہما سے را بطہ کیا اور ایک بار پھر ہم مردان کے خوبصورت شہر سے گزرتے ہوئے تبدیلی پر بات کرتے کرتے ہم شیخ ملتون پہنچ چکے تھے ڈاکٹرہمایون ہما گیٹ پر ہی انتظار کر رہے تھے ہمیشہ کی طرح قہقہہ لگاتے ہوئے بغلگیر ہوئے اور پھر ایک ادبی نشست کو بپا ہونے سے کون روک سکتا تھا اور جب ساتھ گرم گرم چائے اور شامی کباب بھی ہوں۔گفتگو ابھی جاری تھی کہ دور سے مغرب کی اذان کی پر شوکت آواز سنائی دی۔ برامدے میں جائے نماز بچھائے گئے اور برخوردار مسرور مشتاق کی امامت میں نماز پڑھنے لگے اس دوران پھوار پڑنا شروع ہوئی اور شام کی ٹھنڈی ہوائیں اس پھوار کو برامدے کا راستہ دکھانے لگیں اور جلد ہی ہم اللہ کی رحمت میں خوب بھیگ گئے تا دیر دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے میں پھوار میں بیٹھا بھیگتا رہا۔ کاش اس لطف کو لفظوں میں بیان کر سکتا پھر اجازت لے کر پشاور کے لئے نکلے تو ابھی شیخ ملتون ہی میں تھے کہ بارش اور ہلکی ژالہ باری نے آن لیا۔ حدّنظر محض چند فٹ رہ گئی مگر برخوردارمسرور ایک محتاط ڈرائیور ہے اس لئے ہم نے ساری توجہ بارش پر مرکوز رکھی۔ دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا تھا ایسا لگتا تھا جیسے شیخ ملتون کے سارے باسی بارش سے بے نیاز گھروں میں سمٹے بیٹھے تھے۔ مجھے خاور احمد یاد آگئے جس نے کہا ہے
آپ نے تو بند کردیں کھڑکیاں بارش کی شام
ہم پھرے سڑکوں پر لے کے چھتریاں بارش کی شام