بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک امریکہ تعلقات

پاک امریکہ تعلقات


امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایک اور حملہ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور اگر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات پر بھروسہ کیا جائے تو یہ خبر کسی بھی صورت خوش آئند نہیں کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے اتحادی ہونے کا درجہ ختم کرنے سمیت اس کیخلاف دیگر پابندیاں عائد کرنے جیسے سخت اقدامات پر غور کررہی ہے۔ واشنگٹن مبینہ طور پرپاکستان کی سرزمین استعمال کرنے والے بیش دہشت گرد گروپوں کیخلاف کاروائی کیلئے بھی غور کررہا ہے۔ سویلین امداد میں کٹوتی‘ پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر اس پر یک طرفہ طور پر ڈرون حملے اور خفیہ ادارے کے بعض افسران پر سفری پابندیاں عائد کرنے جیسے سخت اقدامات شامل ہیں۔ امریکی حکومت اسے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنیوالا ملک بھی قرار دے سکتی ہے‘ جس کے نتیجے میں پاکستان کو نہ صرف ہتھیار فروخت کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے‘ بلکہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے اربوں ڈالر کے قرضے لینے اور عالمی مالیاتی مراکز تک رسائی میں بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔دریں اثناء وزیر دفاع خرم دستگیر سے امریکی سینٹ کام کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے متعدد بار ملنے کی درخواست کی ہے لیکن خرم دستگیر نے مسلسل انکار کر دیا ہے کہ اب پاکستان کے امریکہ کیساتھ وہ تعلقات نہیں رہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان اور ڈرون حملے نے پاکستانی قوم کو سخت مایوس کیا ہے۔ مزید برآں کرم ایجنسی میں ڈرون حملہ کے بعد پاکستان امریکہ تعلقات مزید نازک صورتحال اختیار کر گئے‘ امریکی شخصیات کی پاکستان آمد کے پروٹوکول ضوابط سخت جبکہ ترکی اور چین سمیت سعودی عرب کیلئے پروٹوکول قواعد میں مزید نرمی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔فنانشل ٹائمز نے پاکستان پر امریکی پابندیوں کے خدشات کے حوالے سے کوئی نئی بات نہیں کی۔ امریکہ متعدد بار پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کادرجہ ختم کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔

اس کی طرف سے پاکستان میں کئی تنظیموں پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ خود پاکستان کئی تنظیموں کو کالعدم قرار دے چکا ہے۔ دہشت گردی پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے جسکے خاتمے کیلئے پاکستان نے اپنی استعداد سے بڑھ کر کردار ادا کیا پاکستان کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان سے پوری دنیا آگاہ ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے کردار اورقربانیوں کو شک کی نظر سے دیکھنا پاکستان کی توہین ہے۔ امریکہ جسے امداد کہتا ہے وہ کوئی خیرات نہیں۔ پاکستان کی تنصیبات‘ سڑکیں‘فضائی حدود استعمال کرنے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا ’’من مانا‘‘ معاوضہ ہے۔ من مانا اسلئے کہ اس حوالے سے دونوں ممالک کے مابین کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ امریکہ مرضی سے اس کا تعین اور ادائیگی کرتا رہا ہے۔ امریکہ کے دعوے کے مطابق اب تک امریکی خزانے سے پاکستان کے لئے سولہ ارب ڈالر جاری ہوئے‘ اس میں سے کتنے امریکہ سے خریداری پر صرف ہوئے‘ کتنے امریکی حکام نے خورد برد کر لئے‘کتنے کنٹریکٹرز لے اڑے‘ اس سے امریکہ نے کبھی آگاہ نہیں کیا۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو جو بھی رقم وصول ہوئی‘ وہ فراہم کردہ سہولیات کے واجبات کے مقابلے میں انتہائی قلیل ہے اسکا اندازہ سابق صدر بش کی طرف سے ترکی کو اس کی محض ائر سپیس استعمال کرنے کے لئے پچپن ارب ڈالر کی پیشکش سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو امریکہ کی جنگ لڑتے ہوئے ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے‘ وہ اس کا مداوہ کرنے پر تیار نہیں‘ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مطابق ’’امداد‘‘ دے کر احسان جتاتا اور اس میں کبھی کمی اور کبھی بند کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔

امریکہ کی امداد میں کمی اور بندش کی دھمکی پاکستان کی طرف سے یہ کہنے سے کارگر نہیں رہی کہ امداد کی نہیں اعتماد کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد امریکہ کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندیاں یاد آ گئی ہیں‘پاکستان کے دفاع کا زیادہ تر انحصار امریکہ اسلحہ اور آلات پر ہے پاکستان نے امریکہ کیساتھ تعلقات میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کئے مگر امریکہ مان کر نہیں دے رہا حالانکہ پاکستان کو بجا طور پر شکایت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں مداخلت کیلئے استعمال ہوتی ہے‘ اسے روکنے کی واحد صورت یہی ہے کہ پاکستان سخت بارڈر مینجمنٹ کرے‘ جسکی افغانستان کی طرف سے شدید مخالفت ہوتی ہے حالانکہ سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی آمدورفت اور کاروائیاں روکنے کے لئے بارڈر پر باڑ اور دیوار سے بڑھ کر اور کوئی طریقہ کار گر نہیں ہو سکتا پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود امریکہ پابندیوں پر مصر ہے اگر انکا اطلاق کر دیتا ہے تو پاکستان اپنے دفاع کے لئے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتا۔ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد وزیر خارجہ نے چین‘ ایران اور ترکی کے دورے کئے‘ روس جانے والے ہیں‘ آرمی چیف اور صدر مملکت بھی اپنے غیر ملکی دوروں میں پاکستان کا نکتۂ نظر واضح کر رہے ہیں‘ امریکہ نے اسلحہ پر پابندی لگائی تو پاکستان کو کہیں نہ کہیں سے تو یہ خلاء پر کرنا ہے۔ اس کے لئے یقیناًحکومت کوئی لائحہ عمل اختیار کر رہی ہو گی۔ امریکہ عالمی مالیاتی اداروں کو پاکستان کو قرض دینے سے روک دیتا ہے تو یہ پاکستان کے عظیم تر مفاد میں ہوگاہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے گا۔ مشرف دور میں پاکستان نے عالمی اداروں کے قرضوں سے نجات حاصل کر لی تھی تو ایسا اب کیوں نہیں ہوسکتا؟ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: توقیر عالم خان۔ ترجمہ: ابواَلحسن امام)